Wednesday, 03 June, 2020
فلسطینیوں کیساتھ اظہار یکجہتی، یوم القدس آج منایا جائیگا، ملی یکجہتی کونسل

فلسطینیوں کیساتھ اظہار یکجہتی، یوم القدس آج منایا جائیگا، ملی یکجہتی کونسل
فائل فوٹو

اسلام آباد ۔ ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے مرکزی رہنمائوں نے کہا ہے کہ 27 رمضان المبارک کی شب کو پاکستان کا معرض وجود میں آنا اس وطن کی خصوصی مذہبی حیثیت کا آئینہ دار ہے، حکومت پاکستان اس روز کو بھی سرکاری طور پر یوم پاکستان کی حیثیت سے منائے تاکہ اس شب لوگ پاکستان کی سلامتی، تحفظ اور ترقی کے لیے رب کے حضور سربسجود ہوکر دعا کرسکیں۔ 

ملی یکجہتی کونسل پاکستان کی مجلس عاملہ کی ٹیلی کانفرنس Zoom پر کونسل کے صدر ڈاکٹر صاحبزادہ ابو الخیر محمد زبیر کی صدارت میں منعقد ہوئی، اس کانفرنس کی نظامت کے فرائض کونسل کے سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ نے انجام دئیے۔ اجلاس میں اس امر کو باعث تشویش قرار دیا گیا  کہ پاکستان میں مختلف ادوار حکومت میں قادیانیوں کے حوالے سے کوئی نہ کوئی ایسا اقدام کیا جاتا ہے یا ایسی تجاویز سامنے آتی ہیں کہ جن سے اسلامیان پاکستان میں تشویش کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ حالیہ دنوں میں وزارت مذہبی امور کے اقلیتی کمیشن میں ان کی نمائندگی کا شوشا چھوڑا گیا اگر چہ بعد میں وفاقی وزیرمذہبی امور نے وضاحت کی کہ انہیں شامل نہیں کیا جا رہا ہے تاہم اس اثنا میں ملک بھر کے دینی و مذہبی حلقوں میں سخت ردعمل دیکھنے میں آیا۔ کانفرنس میں ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے مرکزی رہنماں ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ثاقب اکبر، امیر ہدیہ الہادی پاکستان پیر سید ہارون علی گیلانی، کونسل کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل نذیر جنجوعہ، ملی یکجہتی کونسل آزاد کشمیر کے سیکریٹری جنرل علامہ امتیاز احمد صدیقی، ملی یکجہتی کونسل سندھ کے صدر اسد اللہ بھٹو، صدر اسلامی جمہوری اتحاد  زبیر احمد ظہیر، ملی یکجہتی کونسل سندھ کے جنرل سیکریٹری قاضی احمد نورانی، ملی یکجہتی کونسل شمالی پنجاب کے صدر ڈاکٹر طارق سلیم، جنوبی پنجاب کے سیکریٹری جنرل مولانا محمد ایوب مغل، وسطی پنجاب کے سینیئر نائب صدر علامہ سبطین سبزواری، فلسطین فاونڈیشن کے سربراہ صابر کربلائی، پاکستان علما کونسل کے نمائندے حافظ محمد امجد، وسطی پنجاب کے جنرل سیکریٹری مولانا نصیر احمد نورانی نے شرکت کی۔ 

اس کانفرنس کا انعقاد 27رمضان المبارک کی مناسبت سے یوم آزادی پاکستان اور یوم القدس کے حوالے سے کیا گیا تھا۔ اجلاس میں مختلف تنظیمی امور زیر بحث آئے۔باہمی تبادلہ خیال کے بعد مندرجہ ذیل اعلامیہ اتفاق رائے سے منظور کیا گیا۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ جب تک قادیانی آئین پاکستان کی تمام شقوں کو نہیں مانتے انھیں اقلیتوں کے حقوق دینا یا اس حیثیت سے ملک کے کسی فورم پر نمائندگی دینا کسی صورت قابل قبول نہیں اور پاکستان کے عوام ایسے ہر فیصلے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔

اجلاس میں اس امر پر بھی اظہار افسوس کیا گیا کہ ریاست مدینہ میں شراب کے پرمٹ جاری کیے جارہے ہیں جو کہ اسلامی احکام کی کھلی خلاف ورزی ہے، حکومت اس اقدام کو فی الفور واپس لے۔ پاکستان میں کورونا کی وبا کے پیش نظر علمائے کرام اور حکومت پاکستان کے مابین طے پانے والے نکاتی اعلامیہ کی تائید کی گئی البتہ اس امر پر اظہار افسوس کیا گیا کہ بعض مقامات پر انتظامیہ کی جانب سی غیرضروری سختیاں برتی جا رہی ہیں۔سندھ حکومت نماز باجماعت اور جمعہ کے خلاف جو شدت پسندی دکھارہی ہے رہی ہے۔ 

اجلاس میں اس کی مذمت کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ سندھ حکومت بھی وفاق کے ساتھ طے پانے والے  نکاتی فارمولے کا احترام کرے نیز مدارس اور مساجد کو ایس او پیز کے تحت کھولنے کی اجازت دی جائے۔ اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ کشمیری مسلمان ایک عرصہ سے بھارتی بربریت کا شکار ہیں۔ بھارتی حکومت کشمیرکی طے شدہ مسلمہ عالمی حیثیت کے برعکس کشمیری عوام کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی مذموم کوشش کر رہیہے۔ ایک اطلاع کے مطابق تین لاکھ ہندو پنڈتوں کو کشمیری شہریت دی جا رہی ہے  اسی طرح قادیانیوں کو وہاں لا کر بسایا جارہا۔ بھارتی حکومت بھارتی مسلمانوں کے خلاف بھی وحشانیہ اور متعصبانہ رویہ اپنائے ہوئے  حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ ان مسائل کو عالمی سطح پراٹھائے اور کشمیری بھارتی مسلمانوں کو ان مظالم سے نجات دلوانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے۔ 

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کے عوام فلسطین کی تقسیم کے کسی منصوبے کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے، یہ اجلاس اسرائیل کی جانب سے غرب اردن کے اسرائیل سے الحاق کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ اجلاس میں شرکا نے اعلان کیا کہ  جمعہ الوداع کو یوم القدس کے طور پر منایا جائے گا اس سلسلے میں ایس او پیز کا خیال رکھتے ہوئے  پروگرام اور ریلیاں منعقد کی جائیں گی۔ اجلاس میں یہ امر بھی زیر غور آیا کہ بعض چینل کرونا وبا کی آڑ میں نیز اپنی ریٹنگ میں اضافہ کے لیے فرقہ وارانہ اور مسلکی مسائل کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حکومت پاکستان اور پیمرا کو ایسے پروگراموں کا نوٹس لینا چاہیے اور ایسے چینلز کو تنبیہ کی جانی چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادار

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  58029
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
تاریخ گواہ ہے کہ اسلام کو سب سے زیادہ نقصان مسلمان حکمرانوں نے دیا ہے۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی مسلمان بستے تھے ان کے اگر جھونپڑیوں کو تباء کیا گیا یا ان کو قتل کیا گیا تو اس میں بھی مسلمان حکمرانوں نے اپنے تخت کو بچانے کے لیے اپنا منافقانہ طریقے کار اپنایا۔ القدس وہ مقدس جگہ ہے جس کو بچانے کے لیے یا آزاد کرنے کے لیے ہر دور میں مسلمان حکمرانوں نے نعرہ بلند کیا۔ اس نعرے کے پیچھے ان کے کئی مقاصد ہوا کرتے تھے جب وہ اپنے مقاصد کو پہنچ جاتے توالقدس کو فراموش کر دیتے تھے۔
دنیا میں لوگ کامیابی حاصل کرنے کےلیے ہر مشکل کو گلے لگانے کےلیے تیار بیٹھے ہیں کامیاب ہونا اور ترقی کی راہوں پر گامزن ہونا ہر ایک کی دلی تمناء ہے اب کامیابی کے معیارات مختلف ہیں اس حساب سے اسکی راہ بھی مختلف ہوتی ہے کسی کا معیار حکومت ہے، کسی کا دولت جمع کرنا اور کسی کا علمی میدان جیت جانا ہے وغیرہ ۔
مسجد اقصیٰ کو مسلمانوں کا قبلہ اول کہا جاتا ہے۔ اسے اسلامی نقطۂ نظر سے خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے بعد مقدس ترین مقام کی حیثیت حاصل ہے۔ یہ مسجد فلسطین کے دارالحکومت بیت المقدس کے مشرقی حصے میں واقع ہے جس پر اس وقت اسرائیل کا قبضہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مسجد کے اندر پانچ ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے البتہ اس کے وسیع صحن بھی موجود ہیں جن میں ہزاروں افراد نماز ادا کر سکتے ہیں۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کی اپیل پر جمعة الوداع کو یوم القدس کے طور پر منایا جائےگا ،مرکزی القدس کمیٹی نے یوم القدس کے سلسلے میں تیاریا ں مکمل کرلیں ، ملک بھر کی بڑی شاہراہوں اور شہروں سے لے کر قصبوں اور دیہاتوں تک اظہار یکجہتی کے پرچم، پینا فلیکس، بینرز، پوسٹرز آویزاں کردیئے گئے۔

مقبول ترین
آج یہ کہتے ہوئے دل کر رہا ہے کہ مسلسل ہنستی رہوں کہ سپر پاورامریکہ۔۔۔ جی ہاں! وہی امریکہ جس نے افغانستان کو کھنڈرات میں بدل دیا وہی امریکہ جس نے عراق پر ایک عرصہ جنگ مسلط کیے رکھی، کبھی بمباری کر کے تو کبھی داعش کی شکل میں کیڑے مکوڑوں کی فوج بنا کے، عراق پر اپنا تسلط برقرار رکھنا چاہا۔
علامہ محمداقبال رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا ہے کہ”ثبات ایک تغیرکو ہے زمانے میں“،گویا اس آسمان کی چھت کی نیچے کسی چیز کو قرارواستحکام نہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ اس زمین کا جغرافیہ ایک ایک صدی میں کئی کئی مرتبہ کروٹیں بدلتارہا ہے۔سائنس کی بڑھتی ہوئی رفتار کے ساتھ جغرافیے کی تبدیلی کا عمل بھی تیزتر ہوتاجارہاہے،چنانچہ گزشتہ ایک صدی نے تین بڑی بڑی سپر طاقتوں کے ڈوبنے کا مشاہدہ کیا،
صوبائی وزیر مرتضیٰ بلوچ کورونا وائرس کے باعث کئی روز سے ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ ان کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا۔ میڈیا کے مطابق صوبائی وزیر کچی آبادی غلام مرتضیٰ بلوچ کورونا وائرس کے باعث انتقال کر گئے ہیں۔ مرحوم کچھ روز
نظریہ مہدویت ایسا موضوع ہے، جو صدیوں سے انسانوں کے درمیان زیر بحث رہا ہے۔ اس اعتقاد کے ساتھ انسان کا مستقبل روشن ہے، یہ عقیدہ کسی ایک قوم، کسی فرقے یا کسی مذہب کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ مہدویت ایک ایسی عالمگیر حکومت کا نام ہے کہ جس کی بنیاد تمام انسانوں کے مابین عدل و انصاف اور اخلاق و محبت پر ہوگی۔ مہدویت ایسی آواز ہے، جو کہ ہر روشن خیال انسان کے اندر فطری طور پر موجود ہے۔ ایسی امید ہے، جو زندگی کو تروتازہ اور غم و اندیشہ سے دور کرکے نور الٰہی کی طرف لے جاتی ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں