Friday, 17 April, 2026
ہم پاکستان میں رائج کرپٹ سسٹم کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں، عمران خان

ہم پاکستان میں رائج کرپٹ سسٹم کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں، عمران خان

سلام آباد - وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک کو آگے بڑھانے کے لیے ایکسپورٹ کو بڑھانا ہوگا۔ پاکستان اگر ایٹمی قوت بن سکتا ہے تو چھوٹی چھوٹی چیزیں کیوں نہیں بنا سکتا؟وزیراعظم عمران خان کا اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب میں کہنا تھا کہ روٹی، کپڑا اور مکان کی بات ہوتی تھی لیکن اس پر کبھی عملی کام نہیں ہوا۔ 40 فیصد آبادی کو غربت سے نکالنا میرا وژن ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پہلے بڑی تیزی سے ترقی کر رہا تھا۔ ہم نے اپنی آنکھوں کے سامنے ملک کو نیچے کی طرف جاتے دیکھا۔ ملائیشیا جیسے ملک نے پاکستان کے ماڈل کو فالو کیا۔ ہم پاکستان میں رائج کرپٹ سسٹم کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ حکمران کرپٹ ہوں تو چند لوگ امیر لیکن ملک غریب ہو جاتا ہے، قانون کی بالا دستی ہوگی تو تبدیلی آئے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ ماضی میں گھر بنانے کے لیے بینک قرض نہیں دیتے تھے۔ ہم کامیاب پاکستان پروگرام کے تحت بلا سود قرضے دیں گے۔ نیا پاکستان ہاؤسنگ سے 40 قسم کی انڈسٹری چلنا شروع ہو جائے گی۔ کنسٹریکشن انڈسٹری چلنے سے لوگوں کو روزگار بھی ملے گا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ کنسٹریکشن انڈسٹری کی راہ میں رکاوٹوں کو دور کیا ہے۔ پاکستان میں ہر چیز کو امپورٹ کیا جاتا ہے لیکن کبھی کسی نے نہیں سوچا کہ ہر چیز کو کیوں درآمد کرتے ہیں، ہر جگہ پر سسٹم رکاوٹ بنتا ہے۔

ملک میں بڑھتی ہوئی پولیوشن پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آنے والی نسلوں کا کسی نے سوچا ہی نہیں، ہم نے ملک کو آلودگی سے بچانا ہے۔ جن ملکوں میں گرمی زیادہ ہے وہاں آگ اور کئی جہگوں پر سیلاب آئے ہوئے ہیں۔ ٹین بلین ٹری سونامی کا مقصد ملک میں درخت لگا کر ماحول کو بہتر بنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے شہروں کے اندر بہت زیادہ درخت لگانے ہیں۔ لاہور اور پشاور کو سٹی آف گارڈن کہا جاتا تھا لیکن شہر پھیلتے جا رہے ہیں کسی نے بھی گرین ایریاز کا نہیں سوچا۔ میں نے اب ہر شہر کا ماسٹر پلان بنانے کا کہا ہے۔ اس کے علاوہ آبادی بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے، فوڈ سیکیورٹی کا مسئلہ سامنے آ رہا ہے۔لاہور کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دریائے راوی سیوریج کا ایک نالہ بن چکا ہے۔ راوی سٹی بنانے کا مقصد شہر کو بچانا ہے کیونکہ اگر یہی حال رہا تو لاہور میں بھی واٹر ٹینکر مافیا آ جائے گا۔    

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  23536
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ایک طرف جہاں پاکستان کی ثالثی سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، وہیں دوسری جانب اسرائیل نے لبنان پر حملوں میں شدید اضافہ کر دیا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فورسز کی وحشیانہ کارروائیوں میں 254 لبنانی شہری شہید ہو گئے ہیں،
امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد خلیجی ممالک سمیت عالمی برادری نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔ عالمی رہنماؤں نے اسے خطے میں امن و استحکام کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے پاکستان کے کلیدی کردار کو تسلیم کیا ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیرِ صدارت جی ایچ کیو میں اہم کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ملکی سلامتی، علاقائی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے شرکا نے سعودی عرب کے پیٹرو کیمیکل اور صنعتی کمپلیکس پر حالیہ ایرانی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت منعقدہ اعلیٰ سطح کے جائزہ اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی کھپت میں کمی لانے کے لیے کفایت شعاری کے ان اقدامات کی منظوری دی گئی۔ اس فیصلے کا اطلاق آج 7 اپریل سے پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان، اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں فوری طور پر ہوگا۔

مقبول ترین
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق اس دستے میں لڑاکا اور معاون طیارے شامل ہیں، جن کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو مضبوط بنانا اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف جنگی تیاریوں کی سطح کو بلند کرنا ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں