Wednesday, 01 December, 2021
’’عوامی نیشنل پارٹی کا پی ڈی ایم سے علیحدگی کا اعلان‘‘

’’عوامی نیشنل پارٹی کا پی ڈی ایم سے علیحدگی کا اعلان‘‘

 

پشاور ۔ عوامی نیشنل پارٹی نے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) سے راہیں جدا کرنے کا فیصلہ کرلیا جس کے نتیجے میں اتحاد ٹوٹ گیا اور اے این پی رہنماؤں نے پی ڈی ایم کے تمام عہدے چھوڑ دیے۔ پشاور میں اے این پی کی مرکزی کونسل کا اجلاس مرکزی سینئر نائب صدرامیرحیدرہوتی کی زیرصدارت باچاخان مرکز میں ہوا جس میں میاں افتخار ، ایمل ولی ، شاہی سید ، بلوچستان کے صدر اصغر اچکزئی ، سینیٹر حاجی ہدایت نے شرکت کی۔

پی ڈی ایم کی جانب سے اے این پی کو شوکاز نوٹس کے معاملے پر غور کیا گیا۔ عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت نے مشاورت کے بعد شوکاز کے معاملے پر پی ڈی ایم سے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے پی ڈی ایم سے علیحدگی کا فیصلہ کرلیا ۔

امیر حیدر ہوتی نے پریس کانفرنس میں پی ڈی ایم سے علیحدگی کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ معاملے پر پی پی اور ن لیگ کے دو امیدوار آگئے، پی پی نے اعتراضات اٹھائے لیکن پی ڈی ایم نے اعتراضات دور نہیں کئے، ہم نے پی پی پی کے امیدوار کو ووٹ دیا، بجائے اختلافات دور کرنے کے ہمیں شوکاز دیا گیا، پی ڈی ایم کب سے سیاسی جماعت بن گئی؟ اے این پی کوشوکاز نوٹس دینے کا اختیار صرف اسفندیارولی خان کوہے، شوکاز سے اے این پی کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔

امیر حیدر ہوتی نے کہا کہ وضاحت چاہیے تھی تو پوچھ لیتے ہم وضاحت دے دیتے، کیا پنجاب میں پی ٹی آئی کاساتھ دینے کی وضاحت نہیں بنتی، کیا لاڑکانہ میں جے یو آئی اور پی ٹی آئی کا اتحاد ہوا اس پروضاحت نہیں ہونی چاہیے، پی ڈی ایم میں دو جماعتوں نے مل کر اے این پی کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی، پی ڈی ایم کا طریقہ غلط تھا دو تین جماعتوں کا ذاتی ایجنڈا برداشت نہیں کر سکتے،  پی ڈی ایم کو دوسری طرف لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے، ایسے میں ہم پی ڈی ایم کا ساتھ نہیں دے سکتے۔

امیر حیدر ہوتی نے کہا کہ مولانا صاحب سے توقع تھی کہ پی ڈی ایم کے سربراہ کی  حیثیت سے قدم اٹھائیں گے، ہمیں پتا ہے شوکازنوٹس کیوں دیا گیا ہے، ہماری توقع یہ نہیں تھی کہ وہ ن لیگ اور جے یو آئی کی  حیثیت سے قدم اٹھائیں گے، ان کوجو وضاحت چاہیے تھے وہ ہم دے چکے تھے اس کے باوجود شوکاز کا مقصد واضح ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلزپارٹی کو ن لیگ کے امیدوار پر تحفظات تھے، ہوناتو یہ چاہیے تھا کہ مشاورت سے تحفظات دور کیے جاتے لیکن نہیں کیے گئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  17771
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی صدارت میں پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس ہوا جس میں اسٹیئرنگ کمیٹی کی تجاویز و سفارشات پیش کی گئیں۔ پی ڈی ایم نے مشترکہ اجلاس میں غیر حاضر ممبران کو شوکاز نوٹس دینے کا فیصلہ کیا۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ عالمی برادری افغانستان میں معیشت اورعوام کی بہتری کیلئےکرداراداکرے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق سپہ سالار
وزیر اعظم عمران خان نے افغانستان کے عوام کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر 5 ارب روپے کے امدادی پیکیج کی منظوری دے دی۔ میڈیا کے مطابق وزیر اعظم نے افغانستان کے لیے قائم ایپیکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی جس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، مشیر خزانہ شوکت ترین، آرمی
عدالتی استفسار پر وزیر اعظم نے کہا کہ جب یہ واقعہ ہوا تو میں فوراً پشاور پہنچا، میں تو اس وقت حکومت میں نہیں تھا، سانحے کے وقت صوبہ میں ہماری حکومت تھی، ہم نے ہر ممکن اقدامات اٹھائے۔

مقبول ترین
صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع شمالی وزیر ستان میں دہشتگردوں کے ملٹری پوسٹ پر حملے میں 2 سپاہی شہید ہوگئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق دہشتگردوں نے دتہ خیل کے علاقے میں ملٹری پوسٹ پر حملہ کیا۔
چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے سیکرٹری دفاع کو حکم دیا ہے کہ تمام فوجی چھاؤنیوں میں جائیں اور بتائیں کہ ملٹری لینڈ صرف اسٹریٹجک مقاصد کے لیے ہے۔ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں ملٹری لینڈ کو کمرشل
پاکستان نے زمین سے زمین تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل شاہین 1 اے کا کامیاب تجربہ کرلیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان نے زمین سے زمین تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل شاہین 1 اے کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے۔
شیعہ علما ءکونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ شبیر حسن میثمی نے کہا ہے کہ حکومت کی ناقص پالیسیوں نے عوام کی زندگی اجیرن کردی ہے ،ملک میں مہنگائی ،لاقانونیت اور بے روزگاری نے عوام سے سکھ چین چھین لیا ہے ۔ اس امر کا اظہار علامہ شبیر حسن میثمی نے

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں