![]() |
اسلام آباد - پاکستان اور بھارت کے درمیان 12 مئی کی دوپہر تک جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا، دوست ممالک کے وزرائے خارجہ نے پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ کو بھارت کی طرف سے کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کی خواہش کے پیغامات پہنچائے۔
میڈیا ذرائع کے مطابق پاکستان نے علاقائی امن و استحکام کے وسیع تر مفاد میں اس جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت نے فوری طور پر جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر سمجھوتہ کیے بغیر خطے میں امن و سلامتی کے لیے کوششیں کی ہیں۔جنگ کسی چیز کا حل نہیں ہوتا۔ ہم نے کہا سیز فائر کے لیے تیار ہیں اگر بھارت کوئی جارحیت کرے گا تو ہم جواب دیں گے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھاکہ جن ممالک نے سیز فائر میں حصہ ڈالا ان کا مشکور ہوں۔ سارا دن سفارتی کوششیں چل رہی تھیں جس کے بعد اب سیز فائر پر اتفاق ہوا ہے۔
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ امر اہم ہے کہ اس پیش رفت کو درست تناظر میں دیکھا جائے، بھارت نے 7 مئی 2025ء سے پاکستان کی خودمختاری کی مسلسل خلاف ورزیاں کیں، جس سے پورے خطے کا امن خطرے میں پڑگیا اس کے باوجود پاکستان نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا۔
اس سے قبل بھارت کے میزائل اور ڈرون حملوں نے پہلے سے غیر مستحکم سکیورٹی صورتحال کو مزید خطرناک بنادیا تھا، 9 اور 10 مئی کی درمیانی شب بھارت نے پاک فضائیہ کے متعدد اڈوں اور ہوائی اڈوں کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا ان حملوں کے جواب میں پاکستان نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق استعمال کیا کسی بھی خودمختار ملک کے لیے اپنی سالمیت اور علاقائی حدود پر سمجھوتہ ناقابل قبول ہے۔
پاکستان کا ردعمل اپنی سرزمین اور عوام کے تحفظ کے عزم، حق اور صلاحیت کا اظہار تھا۔پاکستان نے اپنے اہداف حاصل کر لیے ہیں، ہم نے اپنے دفاع کو کامیابی سے یقینی بنایا اور بھارت کو روکنے کے لیے مؤثر باز deterrence بحال کی۔
ذرائع کے مطابق بھارت “نیو نارمل ” قائم کرنے کی کوشش کر رہا تھا تاکہ خطے میں اپنی بالا دستی مسلط کر سکے تاہم پاکستان نے یہ سازش ناکام بنا دی ہے۔
پاکستان نے واضح کیا ہے کہ “ہم بھارت کی غیر قانونی کارروائیوں کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، 7 مئی کے بعد سے بھارتی اقدامات کھلی جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔”بھارت کا رویہ نہ صرف اقوام متحدہ کے چارٹر بلکہ بین الاقوامی ضوابط اور ریاستوں کے مابین تعلقات کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ