Friday, 17 April, 2026
فتنہ انجام کو پہنچ گیا، ووٹ ڈالنے کوئی نہیں آئے گا، مریم نواز

فتنہ انجام کو پہنچ گیا، ووٹ ڈالنے کوئی نہیں آئے گا، مریم نواز

شجاع آباد - مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر مریم نواز نے کہا ہے کہ فوج کے خلاف بغاوت کیلئے نکلنے والا آج مذاکرات کی بھیک مانگ رہا ہے، 9 مئی کے واقعات کی تکلیف ہوئی مگر اچھا ہوا ملک دشمن پہچانا گیا، انتشار اور فتنہ انجام تک پہنچ گیا۔

شجاع آباد میں یوتھ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا ہے کہ شجاع آباد والو آپ کو نواز شریف کا سلام، پہلی بار شجاع آباد آئی ہوں، نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں، 12 اکتوبر 1999 کو نواز شریف سے حکومت چھینی گئی، نواز شریف نے کبھی جلاؤ گھیراؤ کی سیاست نہیں کی، نواز شریف نے کبھی ملکی املاک کو جلانے کا نہیں کہا، درد تو اس کو ہو گا جو ملک کا بیٹا ہو گا۔

مسلم لیگ (ن) کی سینئر نائب صدر مریم نواز نے مزید کہا ہے کہ جو ملک بناتا ہے کیا وہ اسے جلا سکتا ہے، جنہوں نے ہسپتال اور تعلیمی ادارے بنائے وہ انہیں نہیں جلا سکتے، لیگی قیادت نے کبھی نہیں کہا ملک میں آگ لگا دو، کئی بار ظلم کیا گیا مگر جلاؤ گھیراؤ کا نہیں کہا، شہدا کی یادگاریں جلائی گئیں، ایک شخص اقتدار سے محروم ہوا تو اصلیت سامنے آگئی۔

انہوں نے کہا ہے کہ شہدا کی یاد گاروں کی توہین کرنے والوں کاعوام پیچھا کریں گے، شہدا کی یادگاروں کی بے حرمتی کرنے والے رعایت کے مستحق نہیں ہیں، منصوبے کا ماسٹر مائنڈ اب چھپ کر بیٹھا ہے، لیڈر خود مشکلات برداشت کر لیتے ہیں کارکنوں پر آنچ نہیں آنے دیتے، اس شخص نے نوجوانوں سے کتابیں چھین کر ماچس تھما دی، اس کے بچے لندن میں آرام سے بیٹھے ہیں۔

مریم نواز شریف نے مزید کہا ہے کہ 26 سال میں بننے والی جماعت 26 منٹ میں ریزہ ریزہ ہو گئی، اس کی جماعت اتنی رہ گئی ہے کہ چنگچی میں پوری آجائے گی، اس کو اب ووٹ ڈالنے کوئی نہیں آئے گا، نواز شریف جعلی مینڈیٹ کی پیداوار نہیں، جس کے جہاز میں جماعت بنی تھی اسی کے جہاز میں لوگ واپس گئے، نواز شریف جب واپس آئے گا تو ملک ترقی کرے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  13925
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ایک طرف جہاں پاکستان کی ثالثی سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، وہیں دوسری جانب اسرائیل نے لبنان پر حملوں میں شدید اضافہ کر دیا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فورسز کی وحشیانہ کارروائیوں میں 254 لبنانی شہری شہید ہو گئے ہیں،
امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد خلیجی ممالک سمیت عالمی برادری نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔ عالمی رہنماؤں نے اسے خطے میں امن و استحکام کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے پاکستان کے کلیدی کردار کو تسلیم کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کے بعد بڑے ریلیف پیکج کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعظم نے پٹرولیم لیوی میں 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد پٹرول کی قیمت 458 روپے سے کم ہو کر 378 روپے پر آ گئی ہے۔
پاک افواج نے کابل اور ننگرہار میں افغان طالبان فوجی کی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے جس میں دو مقامات پر ٹیکنیکل سپورٹ انفرااسٹرکچر اور ایمونیشن اسٹوریج کو تباہ کیا گیا۔

مقبول ترین
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق اس دستے میں لڑاکا اور معاون طیارے شامل ہیں، جن کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو مضبوط بنانا اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف جنگی تیاریوں کی سطح کو بلند کرنا ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں