Friday, 17 April, 2026
نومئی: آرمی ایکٹ کے تحت سزائیں دینے کی قرارداد منظور

نومئی: آرمی ایکٹ کے تحت سزائیں دینے کی قرارداد منظور

 اسلام آباد - نو مئی کے واقعات میں ملوث عناصر کیخلاف فوجی عدالتوں میں کارروائی جلد مکمل کرنے سے متعلق قرارداد قومی اسمبلی نے منظور کرلی۔ میڈیا کے مطابق مذمتی قرارداد وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیش کی تھی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ 9 مئی کے واقعات میں ملوث افراد کیخلاف آرمی ایکٹ کےتحت کارروائی کی جائے اور دوران کارروائی انسانی حقوق کا خیال رکھا جائے۔

قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ ایک جماعت اور اس کے قائد نے 9 مئی کو تمام حدیں پار کردیں، آئین اور قانون کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے فوجی تنصیبات پر حملے کیے گئے، ان کے حملوں سے ریاستی اداروں اور ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا لہذا ایوان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسے تمام عناصر کیخلاف آئین اور قانون کے تحت کارروائی مکمل کی جائے۔

قرارداد میں کہا گیا کہ ملزمان کے خلاف کارروائی میں ایک دن کی تاخیر بھی نہ کی جائے، ان کی جماعت کے کارکن اور رہنما بھی ان کی کارروائیوں سے لاتعلقی اختیار کر رہے ہیں، شرپسندوں اور مجرموں کے خلاف کارروائی کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے پر کارروائی کا اختیار افواج کو حاصل ہوتا ہے، تمام افراد کے خلاف پاکستان آرمی ایکٹ 1952 کے تحت کارروائی کرتے ہوئے سزائیں دی جائیں۔

خواجہ آصف کا اظہار خیال:
وزیردفاع خواجہ آصف نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ 9 مئی کو فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، ہمارا نظام کمپرومائزڈ ہو چکا ہے، 9 مئی کے ملزمان کے خلاف کوئی نیا قانون نہیں بنایا جا رہا بلکہ پہلے سے آئین میں موجود قوانین کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں فوجی تنصیبات پر حملوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں ہی چلتے ہیں ، ہم نے کوئی نیا قانون نہیں بنایا بلکہ یہ قانون پہلے سے موجود ہے ، جہاں دہشت گردی ہوگی وہاں دہشت گردی قانون کے تحت کیس چلے گا۔

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ جہاں 16 ایم پی او کے تحت کیس چلنا ہے اسی کے مطابق چلے گا ، مگر جن لوگوں نے جہازوں کو نشانہ بنایا، قلعہ بالا حصار کو نشانہ بنایا گیا ان کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت ہی کیس چلے گا۔

سول افراد کے فوجی عدالتوں میں مخالفت:
جماعت اسلامی کے رکن اسمبلی مولاناعبدالکبر چترالی نے سول افراد کو فوجی عدالتوں میں ٹرائل کی مخالفت کی اور ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ قانون سے بالا کوئی نہیں ہے، وزیراعظم، آرمی چیف اور چیف جسٹس بھی اس سے بالا نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کیا حکومت اور عدلیہ بلکل ناکام ہو چکے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو فوجی عدالتوں میں کیس بھیج دیں اور اگر ایسا نہیں ہے تو سول عدالتوں میں مقدمات چلائیں،

مولانا اکبر چترالی نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی اس قرارداد میں فوجی عدالتوں میں مقدمات چلانے کے مطالبات کی مخالفت کرتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ
 

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  33780
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ایک طرف جہاں پاکستان کی ثالثی سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، وہیں دوسری جانب اسرائیل نے لبنان پر حملوں میں شدید اضافہ کر دیا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فورسز کی وحشیانہ کارروائیوں میں 254 لبنانی شہری شہید ہو گئے ہیں،
امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد خلیجی ممالک سمیت عالمی برادری نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔ عالمی رہنماؤں نے اسے خطے میں امن و استحکام کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے پاکستان کے کلیدی کردار کو تسلیم کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کے بعد بڑے ریلیف پیکج کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعظم نے پٹرولیم لیوی میں 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد پٹرول کی قیمت 458 روپے سے کم ہو کر 378 روپے پر آ گئی ہے۔
پاک افواج نے کابل اور ننگرہار میں افغان طالبان فوجی کی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے جس میں دو مقامات پر ٹیکنیکل سپورٹ انفرااسٹرکچر اور ایمونیشن اسٹوریج کو تباہ کیا گیا۔

مقبول ترین
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق اس دستے میں لڑاکا اور معاون طیارے شامل ہیں، جن کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو مضبوط بنانا اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف جنگی تیاریوں کی سطح کو بلند کرنا ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں