Thursday, 16 April, 2026
پاکستان نے مودی کے اشتعال انگیز بیانات کو مسترد کر دیا

پاکستان نے مودی کے اشتعال انگیز بیانات کو مسترد کر دیا

اسلام آباد - پاکستان نے مودی کے اشتعال انگیز اور جھوٹے بیانات کو مسترد کردیا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق خطے کی امن کے لیے بین الاقوامی کوششیں کی جا رہی ہیں یہ بیان غلط معلومات پر مبنی ہے، مودی کا بیان سیاسی موقع پرستی اور بین الاقوامی قانون کی صریح بے توقیری ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ مودی کا بیان گمراہ کن رجحان کی بھی عکاسی کرتا ہے، پاکستان خطے کی استحکام کے اقدامات کرنے کے لیے پر عزم ہے، پاک بھارت جنگ بندی کئی دوست ممالک کی سہولت کے نتیجے میں حاصل ہوئی، پہلگام حملے کا الزام پاکستان پر لگا کر بدنام کرنے سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے، پہلگام حملے کا الزام پاکستان پر لگا کر سیاسی مقاصد پورے کیے جارہے ہیں۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ہندوستان جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کررہا ہے، بھارتی اقدامات نے جارحیت کی ایک خطرناک مثال قائم کی، بھارت اپنے اقدامات سے پورے خطے کو تباہی کے دہانے پر لے جارہا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان بھارت کے دعوے کو یکسر مسترد کرتا ہے، پاکستان نے اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت کے ساتھ عوام کی سلامتی کے دفاع میں بھرپور طریقے سے مظاہرہ کیا ہے، ہندوستان کے اقدامات اور رویے پر کڑی نظر رکھیں گے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ہندوستان غلطی نہ کریں، بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستان نے ہندوستان کے فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، پاکستان نے بھارتی فوج اور اہداف کے خلاف اپنی طاقت ثابت کی، یہ باتیں اب ناقابل تردید حقیقت ہے، ترجمان ان ناقابل تردید حقائق کو پروپیگنڈے سے جھٹلایا نہیں جا سکتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  86396
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے اہم ترین مذاکرات کے پیشِ نظر حکومت نے اسلام آباد اور راولپنڈی میں 11 اپریل بروز ہفتہ کو بھی عام تعطیل کا اعلان کر دیا ہے۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق اس تعطیل کا اطلاق تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں اور دفاتر پر ہوگا، تاہم ایمرجنسی سروسز اور ہسپتال معمول کے مطابق کھلے رہیں گے۔
امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد خلیجی ممالک سمیت عالمی برادری نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔ عالمی رہنماؤں نے اسے خطے میں امن و استحکام کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے پاکستان کے کلیدی کردار کو تسلیم کیا ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیرِ صدارت جی ایچ کیو میں اہم کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ملکی سلامتی، علاقائی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے شرکا نے سعودی عرب کے پیٹرو کیمیکل اور صنعتی کمپلیکس پر حالیہ ایرانی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت منعقدہ اعلیٰ سطح کے جائزہ اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی کھپت میں کمی لانے کے لیے کفایت شعاری کے ان اقدامات کی منظوری دی گئی۔ اس فیصلے کا اطلاق آج 7 اپریل سے پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان، اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں فوری طور پر ہوگا۔

مقبول ترین
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق اس دستے میں لڑاکا اور معاون طیارے شامل ہیں، جن کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو مضبوط بنانا اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف جنگی تیاریوں کی سطح کو بلند کرنا ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں