![]() |
| فائل فوٹو |
راولپنڈی ۔ اسلامی تحریک پاکستان کے ترجمان کہتے ہیںکہ اگر ملی یکجہتی کونسل پاکستان کو دستور کے مطابق نہ چلایا گیاتو راہیں جدا ہوسکتی ہیں ۔ ملی یکجہتی کونسل کے ساتھ تسلسل کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہاہے اور ہائی جیک کرنے کی کوشش کی جارہی ہے یہ غیر دستوری عمل ناقابل قبول ہے،دستور میں عہدوں کا تقرر صدر کرے گااور اس کے بعد مجلس قائدین سے منظوری لے گالیکن اعلامیہ سے یہ واضح ہو گیا کہ کھلواڑ نقطہ عروج پر پہنچ گیا ہے ۔
ترجمان نے مزید کہاکہ ملی یکجہتی کونسل کی جانب سے عہدیداران کا تقرر کا اعلامیہ جاری کیاگیا جس کے مطابق نو منتخب صدر صاحبزادہ ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر اور سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے مجلس قائدین کے فیصلوں کے مطابق مرکزی عہدیداروں کی تقرری کر دی لیکن دستور کے مطابق یہ اختیار صرف صدر کو حاصل ہے جس کی منظوری مجلس قائدین سے لے گا، اس طرح دستور کے مطابق سینئر نائب صدر ایک ہوتا ہے جبکہ اعلامیہ میں ایک جم غفیر کو سینئر نائب صدور بنا دیا گیا ہے۔
اسلامی تحریک پاکستان کے ترجمان نے اس کھلواڑ اور ہائی جیکنگ کے تاثر کو مد نظر رکھتے ہوئے کہا کہ اسلامی تحریک پاکستان کی طرف سے یہ طے کیا جارہاہے کہ اسلامی تحریک پاکستان کا کوئی نمائندہ ملی یکجہتی کونسل کے کسی بھی مشاورتی یا باقاعدہ اجلاس میں شریک نہ ہو اور اگراصلاح نہ کی گئی اور یہ سلسلہ جاری رہا تو اسلامی تحریک پاکستان اپنا نام ملی یکجہتی کونسل سے واپس لے سکتی ہے جس کے بعد اس کا حصہ نہیں رہے گی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ