Friday, 13 March, 2026
سپریم کورٹ نے 16 ہزار برطرف ملازمین کو بحال کردیا

سپریم کورٹ نے 16 ہزار برطرف ملازمین کو بحال کردیا

اسلام آباد - سپریم کورٹ نے سیکڈ ایمپلائز ایکٹ 2010 کے ذریعے بحال ہونے والے سرکاری ملازمین کو برطرف کرنے سے متعلق عدالتی فیصلے کے خلاف دائر نظر ثانی درخواستوں پر فیصلہ جاری کردیا۔

جمعے کو سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے محفوظ شدہ فیصلہ پڑھ کر سنایا اور بعد ازاں 8 صفحات پر مشتمل مختصر تحریری فیصلہ جاری کیا گیا جو جسٹس عمر عطا بندیال نے تحریر کیا۔

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس سجاد علی شاہ ،جسٹس منصور علی شاہ ،جسٹس قاضی امین احمد اور جسٹس امین الدین خان پر مشتمل پانچ رکنی لارجر بینچ نے فیصلہ 1-4 کی اکثریت سے جاری کیا جبکہ جسٹس منصور علی شاہ نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا۔

تحریری فیصلے میں عدالت عظمیٰ نے ایکٹ 2010 کے ذریعے بحال ہونے والے سرکاری ملازمین کو برطرف کرنے سے متعلق عدالتی فیصلے کے خلاف دائر نظر ثانی درخواستیں خارج کرتے ہوئے تحریری فیصلے میں قرار دیا ہے کہ سیکڈ ایمپلائز ایکٹ 2010 آئین کے آرٹیکل 4، 9، 18 اور 25 سے متصادم ہے، سیکڈ ایمپلائز ایکٹ آرٹیکل 8 کے تحت کالعدم ہے، آئین کے آرٹیکل3 /184 جسے آرٹیکل 187 کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے۔

تحریری فیصلے میں عدالت عظمیٰ نے قرار دیا ہے کہ یکم نومبر 1996 سے 12 اکتوبر 1999 تک برطرف کیے گئے ایسے ملازمین جن کی تعیناتی کیلئے کسی استعداد، تعلیمی قابلیت یا مہارت کا امتحان درکار نہیں تھا کو نظرثانی فیصلے کے دن سے ان پوسٹوں پر ان شرائط کے ساتھ بحال کیا جاتا ہے جس پر وہ ابتدائی برطرفی کے وقت تعینات تھے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ یکم نومبر 1996 سے 12 اکتوبر 1999 تک برطرف کیے گئے ایسے دیگر ملازمین جن پر تعیناتی کلئے کسی استعداد، تعلیمی قابلیت یا مہارت کا امتحان درکار تھا، کو نظرثانی فیصلے کے دن سے ان پوسٹوں پراپنی ابتدائی برطرفی کی تاریخ پر تعیناتی کیلئے ملازمت کیلئے لاگو انہی شرائط پر بحال ہوں گے۔

فیصلے کے مطابق تمام بحال شدہ ملازمین کی ملازمت کی شرائط میں کوئی بہتری ان کی ملازمت کیلئے لاگو قوانین اور قواعد اور عدم موجودگی میں متعلقہ آجروں کیلئے اس مقصد کیلئے مقرر کردہ ضوابط کے مطابق سختی سے عمل درآمد کرتے ہوئےلائی جائے گی۔

مذکورہ ریلیف یکم نومبر 1996 سے 12 اکتوبر 1999 تک برطرف کیے گئے ایسے ملازمین پر لاگو نہیں ہو گا جنہیں ڈیوٹی سے غیر حاضری ، مس کنڈکٹ،کرپشن اورمالی خورد برد یا طبی بنیادوں پر ملازمت کیلئے غیر موزوں قرار دے کر برطرف کیا گیا۔

عدالت کا کہنا تھاکہ کیس کا تفصیلی فیصلہ اور وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

فیصلہ پڑھنے کے بعد جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان اور کیس میں فریق ملازمین کے وکلا کا عدالتی معاونت پر شکریہ ادا کیا اور اٹارنی جنرل کو برطرف ملازمین کا مکمل ڈیٹا فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  31464
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے جمعہ کے روز اسرائیلی فضائی حملے میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کی شہادت کی خبروں کے بعد دنیا بھر کے مسلمانوں سے متحد ہونے اور ’لبنان کے عوام اور حزب اللہ
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم کورٹ ریویو اینڈ ججمنٹس آرڈر ایکٹ 2023ء پر دستخط کردیے جس کے بعد یہ قانون (ایکٹ) بن گیا۔ میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ اٹارنی جنرل پاکستان نے ریویو آف ججمنٹ ایکٹ 2023ء
سپریم کورٹ نے آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کی کارروائی روک دی۔ میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کے 19 مئی کے نوٹیفکیشن پر عملدرآمد روک دیا اور انکوائری کمیشن کے 22 مئی کے احکامات کے خلاف حکم امتناعی جاری کردیا۔
چیف جسٹس سپریم کورٹ نے آڈیو لیک کمیشن کے خلاف درخواستوں پر لارجر بینچ تشکیل دے دیا۔ میڈیا کے مطابق آڈیو لیک کمیشن کے خلاف درخواستوں پر لارجر بینچ تشکیل دے دیا گیا۔ چیف جسٹس عمر

مقبول ترین
وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی جس میں خطے کی موجودہ صورتحال اور باہمی تعاون کے امور پر گفتگو کی گئی۔
صدر مملکت نے وزیراعظم کی ایڈوائس پر آئین کے آرٹیکل 48 اور 101 کے تحت منظوری دی۔ صدر مملکت نے نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات ہونے پر مبارکباد اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
ایران کے نئے سپریم لیڈر سید مجتبیٰ خامنہ ای نے منصب سنبھالنے کے بعد اپنا پہلا آڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں موجود تمام امریکی فوجی اڈوں کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر یہ اڈے بند نہ کیے گئے تو ان پر حملے کیے جائیں گے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر کیے گئے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایک قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کرلی۔ قرارداد کے حق میں 13 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ چین اور روس ووٹنگ کے دوران غیر حاضر رہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں