Thursday, 16 April, 2026
سپریم کورٹ نے 16 ہزار برطرف ملازمین کو بحال کردیا

سپریم کورٹ نے 16 ہزار برطرف ملازمین کو بحال کردیا

اسلام آباد - سپریم کورٹ نے سیکڈ ایمپلائز ایکٹ 2010 کے ذریعے بحال ہونے والے سرکاری ملازمین کو برطرف کرنے سے متعلق عدالتی فیصلے کے خلاف دائر نظر ثانی درخواستوں پر فیصلہ جاری کردیا۔

جمعے کو سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے محفوظ شدہ فیصلہ پڑھ کر سنایا اور بعد ازاں 8 صفحات پر مشتمل مختصر تحریری فیصلہ جاری کیا گیا جو جسٹس عمر عطا بندیال نے تحریر کیا۔

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس سجاد علی شاہ ،جسٹس منصور علی شاہ ،جسٹس قاضی امین احمد اور جسٹس امین الدین خان پر مشتمل پانچ رکنی لارجر بینچ نے فیصلہ 1-4 کی اکثریت سے جاری کیا جبکہ جسٹس منصور علی شاہ نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا۔

تحریری فیصلے میں عدالت عظمیٰ نے ایکٹ 2010 کے ذریعے بحال ہونے والے سرکاری ملازمین کو برطرف کرنے سے متعلق عدالتی فیصلے کے خلاف دائر نظر ثانی درخواستیں خارج کرتے ہوئے تحریری فیصلے میں قرار دیا ہے کہ سیکڈ ایمپلائز ایکٹ 2010 آئین کے آرٹیکل 4، 9، 18 اور 25 سے متصادم ہے، سیکڈ ایمپلائز ایکٹ آرٹیکل 8 کے تحت کالعدم ہے، آئین کے آرٹیکل3 /184 جسے آرٹیکل 187 کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے۔

تحریری فیصلے میں عدالت عظمیٰ نے قرار دیا ہے کہ یکم نومبر 1996 سے 12 اکتوبر 1999 تک برطرف کیے گئے ایسے ملازمین جن کی تعیناتی کیلئے کسی استعداد، تعلیمی قابلیت یا مہارت کا امتحان درکار نہیں تھا کو نظرثانی فیصلے کے دن سے ان پوسٹوں پر ان شرائط کے ساتھ بحال کیا جاتا ہے جس پر وہ ابتدائی برطرفی کے وقت تعینات تھے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ یکم نومبر 1996 سے 12 اکتوبر 1999 تک برطرف کیے گئے ایسے دیگر ملازمین جن پر تعیناتی کلئے کسی استعداد، تعلیمی قابلیت یا مہارت کا امتحان درکار تھا، کو نظرثانی فیصلے کے دن سے ان پوسٹوں پراپنی ابتدائی برطرفی کی تاریخ پر تعیناتی کیلئے ملازمت کیلئے لاگو انہی شرائط پر بحال ہوں گے۔

فیصلے کے مطابق تمام بحال شدہ ملازمین کی ملازمت کی شرائط میں کوئی بہتری ان کی ملازمت کیلئے لاگو قوانین اور قواعد اور عدم موجودگی میں متعلقہ آجروں کیلئے اس مقصد کیلئے مقرر کردہ ضوابط کے مطابق سختی سے عمل درآمد کرتے ہوئےلائی جائے گی۔

مذکورہ ریلیف یکم نومبر 1996 سے 12 اکتوبر 1999 تک برطرف کیے گئے ایسے ملازمین پر لاگو نہیں ہو گا جنہیں ڈیوٹی سے غیر حاضری ، مس کنڈکٹ،کرپشن اورمالی خورد برد یا طبی بنیادوں پر ملازمت کیلئے غیر موزوں قرار دے کر برطرف کیا گیا۔

عدالت کا کہنا تھاکہ کیس کا تفصیلی فیصلہ اور وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

فیصلہ پڑھنے کے بعد جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان اور کیس میں فریق ملازمین کے وکلا کا عدالتی معاونت پر شکریہ ادا کیا اور اٹارنی جنرل کو برطرف ملازمین کا مکمل ڈیٹا فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  2587
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے جمعہ کے روز اسرائیلی فضائی حملے میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کی شہادت کی خبروں کے بعد دنیا بھر کے مسلمانوں سے متحد ہونے اور ’لبنان کے عوام اور حزب اللہ
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم کورٹ ریویو اینڈ ججمنٹس آرڈر ایکٹ 2023ء پر دستخط کردیے جس کے بعد یہ قانون (ایکٹ) بن گیا۔ میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ اٹارنی جنرل پاکستان نے ریویو آف ججمنٹ ایکٹ 2023ء
سپریم کورٹ نے آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کی کارروائی روک دی۔ میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کے 19 مئی کے نوٹیفکیشن پر عملدرآمد روک دیا اور انکوائری کمیشن کے 22 مئی کے احکامات کے خلاف حکم امتناعی جاری کردیا۔
چیف جسٹس سپریم کورٹ نے آڈیو لیک کمیشن کے خلاف درخواستوں پر لارجر بینچ تشکیل دے دیا۔ میڈیا کے مطابق آڈیو لیک کمیشن کے خلاف درخواستوں پر لارجر بینچ تشکیل دے دیا گیا۔ چیف جسٹس عمر

مقبول ترین
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق اس دستے میں لڑاکا اور معاون طیارے شامل ہیں، جن کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو مضبوط بنانا اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف جنگی تیاریوں کی سطح کو بلند کرنا ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں