Thursday, 16 April, 2026
خواجہ آصف کیخلاف کیس، وزیراعظم ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش

خواجہ آصف کیخلاف کیس، وزیراعظم ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش

اسلام آباد ۔ اسلام آباد کی مقامی عدالت میں خواجہ آصف کے خلاف وزیراعظم کے ہتک عزت کیس کی سماعت ہوئی جس میں وزیر اعظم عمران خان وڈیو لنک کے ذریعے پیش ہوئے۔

وزیراعظم عمران خان نے عدالت میں اپنے بیان حلفی میں کہا کہ فلاحی منصوبے پر جھوٹے الزامات لگا کرسیاست کیلئے استعمال کرنا افسوسناک ہے،عدالت سے امید ہے کہ وہ ایسے الزامات پرمثالی فیصلہ دے گی۔

خیال رہے کہ ن لیگ کے رہنما خواجہ آصف نے عمران خان پر شوکت خانم اسپتال کے فنڈز میں غیر شفافیت کا الزام لگایا تھا جس پر عمران خان نے خواجہ آصف کے خلاف 10 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا۔

وزیراعظم نے اپنے بیان حلفی میں کہا کہ 1991 سے 2009 تک وہ شوکت خانم کے سب سے بڑے انفرادی ڈونر رہے، شوکت خانم ٹرسٹ کی سرمایہ کاری اسکیمیوں کے حوالے سے فیصلہ سازی ایکسپرٹ کمیٹی کرتی تھی، کمیٹی میں ان کی کسی قسم کی کوئی مداخلت نہیں تھی۔

بیان حلفی میں مزید کہا گیا کہ جن سرمایہ کاری اسکیموں کے حوالے سے بے بنیاد الزامات لگائے گئے وہ بغیر کسی نقصان کے شوکت خانم ٹرسٹ نے واپس وصول کیں، شوکت خانم ٹرسٹ پر لوگوں کا اعتماد قائم ہے، ایسے فلاحی منصوبے کو بے بنیاد اور من گھڑت الزامات لگا کر سیاست کیلئے استعمال کرنا افسوسناک ہے، عدالت سے امید ہے کہ وہ ایسے الزامات پر مثالی فیصلہ دے کر آئندہ کیلئے اس روایت کو ختم کرنے میں مدد کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ای کورٹ سے عدالتی کارروائی چلانا ایک خوش آئند اقدام ہے، اس طرح معزز عدالت کے قیمتی وقت اور پیسے دونوں کی بچت ہوتی ہے اور کیس بھی بروقت نمٹائے جاسکتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  10669
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والی کمی کا پورا فائدہ عوام تک پہنچانا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ اس کمی کے بعد ڈیزل کی قیمت 520 روپے سے کم ہو کر 385 روپے فی لیٹر ہو جائے گی۔ نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ایک ہفتے کے لیے کر دیا گیا ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری ہو چکا ہے۔
ایک طرف جہاں پاکستان کی ثالثی سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، وہیں دوسری جانب اسرائیل نے لبنان پر حملوں میں شدید اضافہ کر دیا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فورسز کی وحشیانہ کارروائیوں میں 254 لبنانی شہری شہید ہو گئے ہیں،
امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد خلیجی ممالک سمیت عالمی برادری نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔ عالمی رہنماؤں نے اسے خطے میں امن و استحکام کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے پاکستان کے کلیدی کردار کو تسلیم کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کے بعد بڑے ریلیف پیکج کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعظم نے پٹرولیم لیوی میں 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد پٹرول کی قیمت 458 روپے سے کم ہو کر 378 روپے پر آ گئی ہے۔

مقبول ترین
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق اس دستے میں لڑاکا اور معاون طیارے شامل ہیں، جن کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو مضبوط بنانا اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف جنگی تیاریوں کی سطح کو بلند کرنا ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں