Thursday, 16 April, 2026
کورونا کی نئی لہر آرہی ہے لیکن کاروبار بند نہیں کریں گے، وزیراعظم

کورونا کی نئی لہر آرہی ہے لیکن کاروبار بند نہیں کریں گے، وزیراعظم

 اسلام آباد - وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی پانچویں لہر کا سامنا کررہے ہیں لیکن کاروباری مراکز بند نہیں کریں گے جبکہ ایس او پیز پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔ 

نیشنل اسمال اینڈ میڈیم انٹر پرائزز (ایس ایم ای ڈی اے) پالیسی کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ صدی میں ایک مرتبہ ایسی صورتحال ہوتی ہے، عالمی مالیاتی ادارے (ڈبلیو ایچ او) سمیت دیگر اداروں نے تسلیم کیا کہ پاکستان نے وبا میں اپنی معیشت اور انسانوں کی جان بچانے کے لیے جو حکمت عملی اختیار کی وہ قابل ذکر ہے۔

اسمال انڈسٹری سب سے زیادہ روزگار فراہم کرتا ہے لیکن ماضی میں اس شعبہ پر کبھی توجہ نہیں دی گئی، متعارف کرائی جانی والی پالیسی سے چھوٹے کاروباری طبقے کو قرض مل سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں نوجوانوں پر مشتمل آبادی کا بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے انہیں سہولیات فراہم کرنا ہوگا۔

وزیر اعظم نے عزم کا اظہار کیا کہ جس سرکاری ادارے یا فرد نے زراعت سمیت چھوٹی بڑی صنعتی اداروں کے کام میں رکاوٹ ڈالی ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

عمران خان نے کہا کہ باعث شرم بات ہے کہ پاکستان سے چھوٹے ممالک میں برآمدات کا حجم غیرمعمولی زیادہ ہے اور جب ہمیں حکومت ملی تب 22 کروڑ عوام کی 24 ارب ڈالر کی برآمدات تھیں اور ہمارے سامنے  سنگاپور برآمدات آگے نکل گیا۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ جس ایس ایم ای ڈی اے نے برآمدات پو توجہ دی انہیں مراعات بھی اسی قدر ملیں گی، فیصل آباد، گجرات سمیت دیگر شہروں میں صنعتیں موجود ہیں لیکن انہیں تھوڑی حکومتی مدد مل جائے تو برآمدات میں نمایاں فرق پڑے گا۔

علاوہ ازیں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ جتنے جیلنجز ہماری حکومت کو سامنا کرنا پڑے اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی، جب ہم نے حکومت سنبھالی ملک کے پاس اتنے وسائل نہیں تھے بیرونی قرضہ دے سکیں ایسے میں متحدہ عرب امارات  (یو اے ای) اور چین کی مدد سے ہم ڈیفالٹ ہونے سے بچ گئے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ٹیکس چوری سے بچنے کے لیے سسٹم لا رہے ہیں اور 8ہزار ارب روپے ٹیکس جمع کرنے کا ہدف پورا کریں  جبکہ 6 ہزار ارب کا ٹیکس جمع کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نادرا کے ساتھ ملک کر ایک نظام لے کر آرہے ہیں جو تاکہ ٹیکس چوری کو ناممکن بنایا جائے، صرف 22 لاکھ افراد ٹیکس دیتے ہیں ایسے میں ملک ترقی نہیں کرسکتا۔

وزیر اعظم نے تسلیم کیا کہ ’مانتا ہوں کہ مہنگائی کی وجہ سے مشکل وقت ہے لیکن دنیا کو دیکھیں اور پھر اپنے ملک سے اس کا موزانہ کریں، آئندہ دنوں میں پالیسی سے متعلق اٹھائے جانے والے فیصلوں کے مثبت اثرات نمایاں ہونا شروع ہوگئے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  11434
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والی کمی کا پورا فائدہ عوام تک پہنچانا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ اس کمی کے بعد ڈیزل کی قیمت 520 روپے سے کم ہو کر 385 روپے فی لیٹر ہو جائے گی۔ نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ایک ہفتے کے لیے کر دیا گیا ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری ہو چکا ہے۔
ایک طرف جہاں پاکستان کی ثالثی سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، وہیں دوسری جانب اسرائیل نے لبنان پر حملوں میں شدید اضافہ کر دیا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فورسز کی وحشیانہ کارروائیوں میں 254 لبنانی شہری شہید ہو گئے ہیں،
امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد خلیجی ممالک سمیت عالمی برادری نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔ عالمی رہنماؤں نے اسے خطے میں امن و استحکام کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے پاکستان کے کلیدی کردار کو تسلیم کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کے بعد بڑے ریلیف پیکج کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعظم نے پٹرولیم لیوی میں 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد پٹرول کی قیمت 458 روپے سے کم ہو کر 378 روپے پر آ گئی ہے۔

مقبول ترین
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق اس دستے میں لڑاکا اور معاون طیارے شامل ہیں، جن کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو مضبوط بنانا اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف جنگی تیاریوں کی سطح کو بلند کرنا ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں