Thursday, 16 April, 2026
امریکہ کے ساتھ تجارت پر یقین رکھتے ہیں، بھیک پر نہیں، بلاول بھٹو

امریکہ کے ساتھ تجارت پر یقین رکھتے ہیں، بھیک پر نہیں، بلاول بھٹو

نیو یارک - وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے خارجہ پالیسی کے تحت روس کا دورہ کیا، ان کے دورے کا دفاع کرتا ہوں۔ پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ ہم سب کے ساتھ دوستی رکھنا چاہتے ہیں کوئی ہمارا دشمن نہیں، ایڈ نہیں ٹریڈ یہ ہماری وزارت خارجہ کی ترجیح ہے، ہم جنگ دیکھ دیکھ کر تھگ گئے ہیں، جنگوں میں ہمارے بچے، خواتین شہید ہوئے ہیں، ہم سمجھتے ہیں جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔


انہوں نے کہا کہ نئی حکومت کی خارجہ پالیسی تبدیل ہے، بات چیت پر یقین رکھتے ہیں، ہم سب کے ساتھ دوستی چاہتے ہیں کوئی ہمارا دشمن نہیں ہے۔

عمران خان کے دورہ روس سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ سیاسی طور پر پاکستان میں اختلافات ہو سکتے ہیں، سابق وزیراعظم نے دورہ ماسکو خارجہ پالیسی کے تحت کیا، ان کے دورے کا دفاع کرتا ہوں۔ دورہ روس پر پاکستان کو قصور وار ٹھہرانا غلط ہو گا۔

بلاول کا کہنا تھا کہ اگر افغانستان حکومت ناکام ہوگئی ۔تو اندازہ لگائیں کیا ہو گا، کیا عالمی برادری انتہائی خطرناک مسئلے سے نمٹ پائے گی، کشمیری اور فلسطینی کئی دہائیوں سے مظالم کا شکار ہیں، پاکستان دونوں ممالک کے ساتھ ہے۔

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بھیک مانگنے کے بجائے تجارت پر یقین رکھتے ہیں۔ پاکستان کے اندر امریکا مخالف نفرت پھیلانے والوں کے دباؤ میں نہیں آئیں گے۔

امریکی میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا کے ساتھ دو طرفہ تجارتی تعلقات کافروغ چاہتے ہیں۔ چاہتے ہیں پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جو کامیابیاں حاصل کی ہیں، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی شرائط کو جس طرح پورا کیا ہے، دنیا تسلیم کرے۔

امریکا کی جانب سے پاکستان کو مشکل حالات میں کوئی بیل آؤٹ پیکیج دیے جانے سے متعلق ایک سوال کے جواب پر انہوں نے کہا کہ ہمارا نظریہ ہے امریکا کے ساتھ تعلقات میں تجارت کو امداد پر فوقیت دی جائے۔ ہم تجارت پر یقین رکھتے ہیں، بھیک پر نہیں۔

انٹونی بلنکن کے ساتھ 45 منٹ تک جاری رہنے والی ملاقات کے بارے میں بلاول نے بتایا کہ یہ ملاقات بہت اچھی رہی۔ ملاقات میں باہمی تجارت پر بات کی گئی۔امریکا آنے سے قبل واضح کر دیا تھا تجارت کو امداد پر فوقیت دینا حکمت عملی ہے۔ اسی پر ہماری بات ہوئی۔ اب چاہے وہ زرعی شعبہ ہو یا توانائی کا، ٹیکنالوجی کا شعبہ ہو یا طب کا، ہر شعبے میں تعلقات میں بہتری لانے کی امید رکھتے ہیں۔ امریکا کیساتھ تعلقات میں جتنی وسعت ہونی چاہیے تھی وہ اب تک نہیں ہو سکی ہے۔ اس کی وجہ واقعات کے گرد گھومنے والا محدود رابطہ ہے۔

انہوں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ امریکا اور پاکستان کے درمیان تعلقات دونوں کے مفاد میں ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جس طرح کی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور جس طرح ایف اے ٹی ایف کی شرائط کو پاکستان نے پورا کیا ہے، اس کے بعد امید ہے کہ دنیا ان کامیابیوں کو تسلیم کرے گی۔

پاکستان میں امریکا مخالف جذبات کے سوال پر وزیر خارجہ نے عمران خان کا نام لیے بغیر کہا کہ پاکستان میں امریکا مخالف نعرے اور جذبات کو پھیلایا جا رہا ہے لیکن ہم عوام کے مفادات کا تحفظ کریں گے۔ ہمارا مقصد ملکی عوام کو فائدہ پہنچانا ہے۔ کل کسی کے دباؤ میں آئے تھے اور نہ آئندہ آئیں گے۔ سفارت کاری ایک الگ طریقہ کار ہے، یہ ایک ہنر ہے جس میں محنت کرنا پڑتی ہے۔

بلاول نے مزید کہا کہ امریکی وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات میں افغانستان کی صورتِ حال پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا مستقبل افغانستان کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ افغانستان میں جو انسانی بحران پیدا ہوا ہے، اس میں بہت ضروری ہے ہم اپنا کردار ادا کریں۔ افغانستان کے 90 فیصد عوام غربت کی لکیر سے نیچے جا رہے ہیں، ہمیں اس عمل کو روکنا ہے۔ دنیا کو ساتھ مل کر کوشش کرنی چاہیے کہ افغان عوام غربت کی لکیر سے نیچے نہ جائیں اور افغانستان کے عوام کو یہ محسوس نہ کرنے دیا جائے کہ ان کو ایک بار پھر راستے میں چھوڑ دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے اندر انسانی مسئلہ ہو یا دہشت گردی، اگر پاکستان اور امریکہ مل کر کام کریں تو مسائل کا حل نکال سکتے ہیں۔پاکستان افغانستان میں استحکام اور امن کے لیے کردار ادا کر رہا ہے اور کردار کسی اور کے لیے نہیں بلکہ اپنا لیے کر رہے ہیں کیونکہ ہم افغانستان کے عوام کی ترقی چاہتے ہیں۔ اور چاہتے ہیں مک کو کسی بھی طرح کے منفی اثرات سے بچایا جا سکے۔

روس، یوکرین تنازع پر بلاول نے بتایا کہ تنازع کا اثر غذائی قلت پر ضرور ہوا ہے اور پاکستان جیسے ملک پہلے ہی سے خوراک کے حوالے سے عدم تحفظ کا شکار تھے۔ ملک میں پانی، بجلی اور توانائی کا بحران ایک حقیقت ہے۔ البتہ یوکرین بحران کی وجہ سے گندم اور یوریا کا بحران پیدا ہوا ہے لیکن پاکستان یہ مسائل پہلے بھی دیکھ رہا تھا۔ یوکرین روس تنازع کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارتکاری کو موقع دیا جائے۔اس جنگ کو ہمیں امن کی طرف لے جانا چاہیے تاکہ ہماری توجہ مل کر موسمیاتی تغیر جیسے چیلنجز اور دیگر اجتماعی مسائل کا مقابلہ کرنے پر ہو۔

روس جانے کا موقع ملا تو ضرور جاؤں گا:
انٹرویو کے دوران جب بلاول سے قریب کچھ روسی صحافیوں نے پوچھا کہ کیا آپ روس کا دورہ کرنا چاہیں گے تو مسکراتے ہوئے انہوں نے جواب دیا کہ کبھی ماسکو یا روس نہیں گیا لیکن اگر جانے کا موقع آیا تو ضرور جاؤں گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  45880
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کے بعد بڑے ریلیف پیکج کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعظم نے پٹرولیم لیوی میں 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد پٹرول کی قیمت 458 روپے سے کم ہو کر 378 روپے پر آ گئی ہے۔
اقی دارالحکومت اسلام آباد، پنجاب، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کے مختلف شہروں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت ہر شہری کو اظہارِ رائے کی آزادی حاصل ہے تاہم اس آزادی پر قانون کے تحت کچھ پابندیاں بھی ہیں اور اسلام، سلامتی اور قومی سیکیورٹی جیسے معاملات پر احتیاط ضروری ہے، پاکستان کے دوست ممالک
چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ دریائے سندھ پر ایک اور حملہ بھارت کی طرف سے ہوا ہے، کہنا چاہوں گا کہ دریائے سندھ ہمارا ہے اور یہ ہمارا رہے گا، اس دریا سے ہمارا پانی بہے گا یا ان کا خون بہے گا۔

مقبول ترین
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق اس دستے میں لڑاکا اور معاون طیارے شامل ہیں، جن کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو مضبوط بنانا اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف جنگی تیاریوں کی سطح کو بلند کرنا ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں