Wednesday, 01 December, 2021
موٹروے زیادتی کیس: ملزمان عابد ملہی، شفقت کو سزائے موت

موٹروے زیادتی کیس: ملزمان عابد ملہی، شفقت کو سزائے موت

لاہور ۔ لاہور میں موٹروے پر خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے ملزمان کو سزائے موت سنا دی گئی۔میڈیا کے مطابق چند روز قبل موٹروے زیادتی کیس کی سماعت مکمل ہوئی تھی، انسداد دہشت گردی عدالت کے ایڈمن جج ارشد حسین بھٹہ کیمپ جیل میں فیصلہ سنانے کے لیے پہنچے تو دونوں ملزمان بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

عدالت نے مقدمہ میں 37 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے۔ گواہوں میں متاثرہ خاتون اور مقدمہ مدعی کا بیان بھی قلمبند کیا گیا۔

انسداد دہشت گردی عدالت کے جج نے دونوں ملزمان کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے عابد ملہی اور شفقت بگا کو سزائے موت سنانے کا حکم دے دیا۔ ملزمان کو 365 کے مقدمے میں ایک بار عمر قید سنائی گئی جبکہ 362 دفعات مین دونوں ملزمان کو 14,14 سال سزا سنائی گئی۔ملزمان کی جائیداد ضبط کرنے کے ساتھ 50.50 ہزار روپے جرمانہ کا بھی حکم سنایا گیا۔

انسداد دہشتگردی کی عدالت کی طرف سے فیصلہ سناتے ہی ملزم عابد ملہی رو پڑا اور معافیاں مانگتا رہا۔ ملزم عابد ملہی دہائی دیتے ہوئے کہا کہ اپنے کیے پر شرمندہ ہوں۔

کیمپ جیل کے باہر پراسکیوشن کی ٹیم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ عابد ملہی اور شفقت محمود کو دفعہ 376 کے تحت سزائے موت سنائی گئی۔ دونوں کو دفعہ 365 اے کے تحت عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ دفعہ 362 کے تحت 14 ،14 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

یاد رہے کہ چند روز قبل مقدمہ میں ملوث ملزمان عابد ملہی اور شفقت بگا کے 342 کے بیان پر وکلا کی جرح مکمل ہو گئی تھی۔

انسداد دہشت گردی عدالت کے ایڈمن جج ارشد حسین بھٹہ کیمپ جیل میں سماعت کر رہے تھے، ملزمان اپنے بیان میں وقوعہ سے منحرف ہو گٸے تھے۔ عدالت نے مقدمہ کے تمام گواہوں کا بیان قلمبند کر کے ملزمان کے بیان قلمبند کیے۔ دوران سماعت رنگ روڈ زیادتی کیس کی متاثرہ اور مدعی کا بیان بھی قلمبند کیا گیا متاثرہ خاتون نے تین گھنٹے سے زاٸد جیل میں موجود رہ کر بیان قلمبند کرایا تھا۔

خیال رہے کہ 9 ستمبر 2020ء کو منگل اور بدھ کی درمیانی شب لاہور-سیالکوٹ موٹروے پر گجرپورہ کے علاقے میں 2 مسلح افراد نے ایک خاتون کو اس وقت گینگ ریپ کا نشانہ بنایا تھا جب وہ وہاں گاڑی بند ہونے پر اپنے بچوں کے ہمراہ مدد کی منتظر تھی۔

واقعے کی سامنے آنے والی تفصیل سے یہ معلوم ہوا تھا کہ لاہور کی ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی کی رہائشی خاتون اپنے 2 بچوں کے ہمراہ رات کو تقریباً ایک بجے اس وقت موٹروے پر پھنس گئیں جب ان کی گاڑی کا پیٹرول ختم ہوگیا تھا۔

اس دوران خاتون نے اپنے ایک رشتے دار کو بھی کال کی تھی، جس نے خاتون کو موٹروے ہیلپ لائن پر کال کرنے کا کہا تھا جبکہ وہ خود بھی جائے وقوع پر پہنچنے کے لیے روانہ ہوگیا تھا۔

تاہم جب خاتون مدد کے لیے انتظام کرنے کی کوشش کر رہی تھیں تو 2 مرد وہاں آئے اور انہیں اور ان کے بچوں (جن کی عمر 8 سال سے کم تھی) بندوق کے زور پر قریبی کھیت میں لے گئے، بعد ازاں ان مسلح افراد نے بچوں کے سامنے خاتون کا ریپ کیا، جس کے بعد وہ افراد جاتے ہوئے نقدی اور قیمتی سامان بھی لے گئے۔

اس واقعے کے بعد جائے وقوع پر پہنچنے والے خاتون کے رشتے دار نے اپنی مدعیت میں واقعے کا مقدمہ بھی تھانہ گجرپورہ میں درج کروایا تھا۔

تاہم اس واقعے کے بعد اس وقت کے سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے ایک ایسا بیان دیا تھا جس نے تنازع کھڑا کردیا اور عوام، سول سوسائٹی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے علاوہ مسلم لیگ (ن) نے ان کو ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔

سی سی پی او نے کہا تھا کہ خاتون رات ساڑھے 12 بجے ڈیفنس سے گوجرانوالہ جانے کے لیے نکلیں، میں حیران ہوں کہ تین بچوں کی ماں ہیں، اکیلی ڈرائیور ہیں، آپ ڈیفنس سے نکلی ہیں تو آپ جی ٹی روڈ کا سیدھا راستہ لیں اور گھر چلی جائیں اور اگر آپ موٹروے کی طرف سے نکلی ہیں تو اپنا پیٹرول چیک کر لیں۔

بعدازاں انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس انعام غنی نے موٹروے پر اجتماع زیادتی کا شکار خاتون سے متعلق متنازع بیان پر کیپیٹل سٹی پولیس افسر لاہور عمر شیخ کو شوکاز نوٹس جاری کیا تاہم 14 ستمبر کو انہوں نے اپنے بیان پر معذرت کرلی تھی۔

یہی نہیں واقعے کے بعد عوام میں شدید غم و غصہ پایا گیا تھا جس پر حکومت بھی ایکشن میں آئی تھی اور آئی جی پنجاب پولیس نے مختلف تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی تھیں جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بھی صوبائی وزیرقانون راجا بشارت کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی بنائی تھی۔

علاوہ ازیں 12 ستمبر کو وزیراعلیٰ پنجاب نے آئی جی پنجاب انعام غنی و دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ 72 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں اصل ملزمان تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔

ساتھ ہی اس موقع پر بتایا گیا تھا کہ واقعے کے مرکزی ملزم کی شناخت عابد علی کے نام سے ہوئی اور اس کا ڈی این اے میچ کرگیا ہے جبکہ اس کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں، اس کے علاوہ ایک شریک ملزم وقار الحسن کی تلاش بھی جاری ہے۔

تاہم 13 ستمبر کو شریک ملزم وقار الحسن نے سی آئی اے لاہور میں گرفتاری دیتے ہوئے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی تردید کی تھی۔

14 ستمبر کو وزیراعلیٰ پنجاب نے بتایا کہ خاتون کے ریپ میں ملوث ملزم شفقت کو گرفتار کرلیا ہے جس کا نہ صرف ڈی این اے جائے وقوع کے نمونوں سے میچ کرگیا بلکہ اس نے اعتراف جرم بھی کرلیا ہے۔

15 ستمبر کو لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے سیالکوٹ موٹر وے پر دوران ڈکیتی خاتون سے زیادتی کے ملزم کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔ بعد ازاں موٹروے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابد ملہی کو 12 اکتوبر کو فیصل آباد سے گرفتار کیا گیا۔

گینگ ریپ کے واقعے کے ملزمان کی نشاندہی کے چند روز بعد وزیر اعلیٰ پنجاب کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران آئی جی پنجاب انعام غنی نے کیس کی تحقیقات میں پیشرفت سے متعلق بتاتے ہوئے کہا تھا کہ عابد علی بہاولنگر کے علاقے فورٹ عباس کا رہائشی ہے، ملزم کے گھر پر چھاپے کے دوران عابد اور اس کی بیوی کھیتوں میں فرار ہوگئے، اس کی بچی ہمیں ملی ہے۔ چار رکنی گینگ کا سربراہ عابد پنجاب کے مختلف تھانوں میں درج 10 دیگر مقدمات میں بھی پولیس کو مطلوب تھا۔ پولیس نے 21 اکتوبر کو بتایا کہ کیمپ جیل میں ملزم کی شناخت پریڈ کا عمل مکمل کیا گیا جہاں متاثرہ خاتون نے ملزم کی شناخت کرلی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  56861
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
شیعہ علما ءکونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ شبیر حسن میثمی نے کہا ہے کہ حکومت کی ناقص پالیسیوں نے عوام کی زندگی اجیرن کردی ہے ،ملک میں مہنگائی ،لاقانونیت اور بے روزگاری نے عوام سے سکھ چین چھین لیا ہے ۔ اس امر کا اظہار علامہ شبیر حسن میثمی نے
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ عالمی برادری افغانستان میں معیشت اورعوام کی بہتری کیلئےکرداراداکرے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق سپہ سالار
بھارتی میڈیا کی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کراچی پورٹ سے لدے ہوئے تجارتی جہاز کے کنٹینرز پر بھارتی پورٹ حکام کی جانب سے ’’ممکنہ تابکار مواد کو ضبط کیا گیا ہے‘‘ جسے پاکستان نے مسترد کردیا ہے۔
عدالتی استفسار پر وزیر اعظم نے کہا کہ جب یہ واقعہ ہوا تو میں فوراً پشاور پہنچا، میں تو اس وقت حکومت میں نہیں تھا، سانحے کے وقت صوبہ میں ہماری حکومت تھی، ہم نے ہر ممکن اقدامات اٹھائے۔

مقبول ترین
صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع شمالی وزیر ستان میں دہشتگردوں کے ملٹری پوسٹ پر حملے میں 2 سپاہی شہید ہوگئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق دہشتگردوں نے دتہ خیل کے علاقے میں ملٹری پوسٹ پر حملہ کیا۔
چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے سیکرٹری دفاع کو حکم دیا ہے کہ تمام فوجی چھاؤنیوں میں جائیں اور بتائیں کہ ملٹری لینڈ صرف اسٹریٹجک مقاصد کے لیے ہے۔ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں ملٹری لینڈ کو کمرشل
پاکستان نے زمین سے زمین تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل شاہین 1 اے کا کامیاب تجربہ کرلیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان نے زمین سے زمین تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل شاہین 1 اے کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے۔
شیعہ علما ءکونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ شبیر حسن میثمی نے کہا ہے کہ حکومت کی ناقص پالیسیوں نے عوام کی زندگی اجیرن کردی ہے ،ملک میں مہنگائی ،لاقانونیت اور بے روزگاری نے عوام سے سکھ چین چھین لیا ہے ۔ اس امر کا اظہار علامہ شبیر حسن میثمی نے

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں