Friday, 17 April, 2026
‎’’کورونا وبا: عوام کی توقعات پرپورا اتریں گے، ڈی جی آئی ایس پی آر‘‘

‎’’کورونا وبا: عوام کی توقعات پرپورا اتریں گے، ڈی جی آئی ایس پی آر‘‘

اسلام آباد ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ ملک کے 16شہروں میں کورونا کیسز کی شرح بہت زیادہ ہے، جہاں سول اداروں کی مدد کے لیے پاک فوج کی تعیناتی کردی گئی ہے۔ راولپنڈی میں نیوز کانفرنس سے خطاب میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ ملک بھرمیں570افرادوینٹی لیٹرزپرہیں،4 ہزار300 کی حالت نازک ہے۔ کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد کرکے ہی ہم اس وباسےمحفوظ رہ سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پشاور، مردان، چارسدہ، لاہور، فیصل آباد، کراچی، حیدرآباد، کوئٹہ، آزاد کشمیر، مظفرآباد میں کورونا کے مثبت کیسز کی تعدادانتہائی زیادہ ہے۔ جب کہ 51 شہروں میں کورونا مثبت کیسزکی شرح 5 فیصدسےزیادہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ فوج کو سول اداروں کی مدد  کے لیے طلب کیا گیا ہے، ہرضلع کی سطح پرآرمی دستےسول انتظامیہ کی مدد کے لیے صبح 6 بجے پہنچ چکے ہیں۔ جو موجودہ وبائی صورتحال میں عوام کی حفاظت کویقینی بنائیں گے۔ ڈویژن کی سطح پربریگیڈیئراورضلع کی سطح پرلیفٹیننٹ کرنل معاملات دیکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک کا مہینہ ہمیں احساس اور نظم و ضبط کا درس دیتا ہے بحیثیت قوم ہمیں پہلے سے بھی زیادہ احتیاط اورمل کراجتماعی اور انفرادی ذمہ داریوں کو نبھانا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام صوبائی ایپکس کمیٹیوں کی میٹنگز ہفتے میں ایک دن ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ فوج کا کام ہنگامی حالات میں سول اداروں کی مدد کرنا ہے اور پاک فوج آزمائش کی اس گھڑی میں عوام کی توقعات پرپورا اترے گی۔ جب کہ پاک فوج نےانٹرنل سیکیورٹی الاوَنس نہ لینےکافیصلہ کیاہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت صحت کا شعبہ شدید دباؤ میں ہے، ملک میں آکسیجن کی کُل پیداوار کا 75 فیصد صحت کے شعبے کے لیے مختص ہے، لیکن اگر کورونا کی صورتحال خراب ہوئی تو صنعتوں کے لیے مختص آکسیجن اسپتالوں کو دینا پڑے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  96245
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وزیراعظم شہباز شریف سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں اعلیٰ سطح کے وفود نے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں خطے کی صورتحال اور دو طرفہ اہمیت کے حامل امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے اہم ترین مذاکرات کے پیشِ نظر حکومت نے اسلام آباد اور راولپنڈی میں 11 اپریل بروز ہفتہ کو بھی عام تعطیل کا اعلان کر دیا ہے۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق اس تعطیل کا اطلاق تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں اور دفاتر پر ہوگا، تاہم ایمرجنسی سروسز اور ہسپتال معمول کے مطابق کھلے رہیں گے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والی کمی کا پورا فائدہ عوام تک پہنچانا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ اس کمی کے بعد ڈیزل کی قیمت 520 روپے سے کم ہو کر 385 روپے فی لیٹر ہو جائے گی۔ نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ایک ہفتے کے لیے کر دیا گیا ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری ہو چکا ہے۔
ایک طرف جہاں پاکستان کی ثالثی سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، وہیں دوسری جانب اسرائیل نے لبنان پر حملوں میں شدید اضافہ کر دیا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فورسز کی وحشیانہ کارروائیوں میں 254 لبنانی شہری شہید ہو گئے ہیں،

مقبول ترین
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق اس دستے میں لڑاکا اور معاون طیارے شامل ہیں، جن کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو مضبوط بنانا اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف جنگی تیاریوں کی سطح کو بلند کرنا ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں