Thursday, 16 April, 2026
وفاقی کابینہ نے بھی قومی سلامتی پالیسی کی منظوری دے دی

وفاقی کابینہ نے بھی قومی سلامتی پالیسی کی منظوری دے دی

اسلام آباد - وفاقی کابینہ نے پاکستان کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کی منظوری دے دی۔ نیشنل سیکیورٹی پالیسی قومی سلامتی ڈویژن کی جانب سے پیش کی گئی۔ وزیر اعظم کی سربراہی میں وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں پہلی قومی سلامتی پالیسی کی منظوری دی گئی۔ قومی سلامتی پالیسی 2022 تا 2026 کیلئے ہے۔ قومی سلامتی پالیسی کے تحت شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی کابینہ نے پہلی قومی سلامتی پالیسی کی منظوری دیدی، قومی سلامتی کی پالیسی نہایت جامع ہے، قومی سلامتی کیساتھ فوڈ سکیورٹی وابستہ ہے، پہلی بار قومی سلامتی کو معاشی صورتحال سے جوڑا گیا ہے، قومی سلامتی کی پالیسی کاسب سے اہم نقطہ عام آدمی کو تحفظ فراہم کرنا ہے، پالیسی کے ذریعے عام آدمی کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا، عام آدمی کے تحفظ تک ملکی سکیورٹی کو خطرہ لاحق ہوگا۔

فواد چودھری کا کہنا تھا کہ زراعت کے شعبے پر حکومت خصوصی توجہ دے رہی ہے، کپاس، گندم، چاول اور گنے کی تاریخ کی سب سے بڑی پیداوار حاصل ہوئی، اچھی پیداوار سے کاشتکاروں کو 1100 ارب اضافی آمدن ہوئی، ٹریکٹر اور زرعی آلات کی طلب میں اضافہ ہوا ہے، کابینہ کو یوریا کی پیداوار پر بریفنگ دی گئی، ان یوریا پلانٹس کو گیس فراہم کی گئی جنہیں عام طور پر ان دنوں میں گیس نہیں دی جاتی، عالمی مارکیٹ میں یوریا کی قیمت 10 ہزار روپے جبکہ پاکستان میں 1700 سے 1900 میں بک رہی ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت کے پاس یوریا کا اسٹاک موجود ہے، یوریا کی ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ کے باعث مصنوعی قلت کا سامنا رہا، آئندہ 48 گھنٹے میں یوریا کی فراہمی میں نمایاں فرق پڑے گا۔ کھاد کا بحران پیدا ہوا ہے، ڈی اے پی ہم درآمد کرتے ہیں۔

مشیر قومی سلامتی معید یوسف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی یہ پہلی قومی سلامتی پالیسی ہے، واضح وژن کے ذریعے ہی آئندہ کی حکمت عملی اور پالیسی مرتب دی جاسکتی ہے، سیکیورٹی کا مقصد ملک کے عام شہری کو تحفظ فراہم کرنا ہے، قومی سلامتی پالیسی پر 2014 سے کام شروع ہوا اور 7 سال اس پر لگے، قومی سلامتی پالیسی میں معاشی سلامتی پر سب سے زیادہ فوکس کیا گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  8023
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے بھر میں کاروباری اوقات کار محدود کرنے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ نئے احکامات کے مطابق پشاور سمیت تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں مارکیٹیں رات 9 بجے بند کر دی جائیں گی، جبکہ دیگر اضلاع میں بازاروں کو رات 8 بجے تک بند کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پاکستان کے مختلف حصوں میں گزشتہ کئی روز سے جاری طوفانی بارشوں اور برف باری نے نظامِ زندگی درہم برہم کر دیا ہے۔ ملک کے مختلف صوبوں میں چھتیں گرنے اور دیگر حادثات کے نتیجے میں کم از کم 43 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں بچوں
پاک افغان سرحدی علاقے میں سیکیورٹی فورسز نے ایک بڑی اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الخوارج کے 8 بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق، دہشت گردوں نے سرحد پار سے پاکستان میں داخل ہونے کی مذموم کوشش
صدر آصف علی زرداری کی زیر صدارت قومی قیادت کے مشاورتی اجلاس میں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے ملک بھر میں سمارٹ لاک ڈاؤن کی تجویز مسترد کرتے ہوئے کفایت شعاری اقدامات مزید سخت کرنے پر اتفاق کیا۔

مقبول ترین
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق اس دستے میں لڑاکا اور معاون طیارے شامل ہیں، جن کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو مضبوط بنانا اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف جنگی تیاریوں کی سطح کو بلند کرنا ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں