Thursday, 16 April, 2026
پاکستان کو بلاول اور مریم کے حوالے نہیں کیا جاسکتا, فواد چوہدری

پاکستان کو بلاول اور مریم کے حوالے نہیں کیا جاسکتا, فواد چوہدری

جہلم ۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان بہت عظیم ملک ہے، بلاول بھٹو اور مریم نواز کے حوالے نہیں کیا جاسکتا۔ جہلم میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چودھری نے کہا کہ بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں کے پیچھے گہری سازش ہے، کسی بھی قسم کے تشدد کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں جب معیشت ملی تو دیوالیہ حالت میں تھی مگر ہم نےگری ہوئی معیشت کواپنایا اور مضبوط پاکستان کی بنیاد رکھی، آج پاکستان میں 929 بڑی کمپنیاں ہیں۔ اپوزیشن کو سینیٹ میں بھی شکست کاسامنا کرنا پڑا، جس ایوان میں (ن) لیگ اورپیپلزپارٹی کو نام نہاداکثریت حاصل تھی انہیں وہاں بھی شکست ہوئی، اپوزیشن کی کوئی پالیسی نہیں ہے، یہ ایوان میں کچھ اور باہر کچھ کہتے ہیں، ہمارے کوئی سیاسی مخالفین نہیں، ہم اپنے ووٹر کو جوابدہ ہیں اس لیے پی ٹی آئی کا ووٹر ہمیں پالیسی ڈکٹیٹ کرےگا۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہا کہ یہ ملک بلاول اورمریم کےحوالے نہیں کیاجاسکتا، یہ ملک بہت عظیم ہے اور اس ملک کی قیادت کیلئے یہ دونوں بہت بھولے ہیں لہٰذا بلاول کوچاہیےکہ میئرکراچی کا الیکشن لڑیں، دونوں کو چاہیے کہ نیچے سے اوپر آنے کا سفر شروع کریں، بلاول اور مریم کا قد نہیں ہے کہ وہ خود کو قومی لیڈر کہیں، ان کا انحصار فضل الرحمان کے مدرسے کے بچوں پر ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ راوی ریور روڈہاؤسنگ سوسائٹی نہیں بلکہ پورا شہر ہے اور شہربسانے سے متعلق فیصلہ حکومت نے کرنا ہوتا ہے، عدلیہ پالیسی فیصلہ سازی میں تو نہیں آسکتی اور جب بھی عدلیہ نے پالیسی فیصلہ سازی میں دخل اندازی کی ہے تو ملک کو نقصان ہوا اس لیے جتنا ماضی کی غلطیوں سے سیکھ کر چلیں گے اتنا فائدہ ہوگا۔ ایک سوال کے جواب میں فواد چودھری نے کہا کہ احتساب کے عمل سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے، ہمارا ووٹر ہمیں اس کی اجازت نہیں دےگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  92171
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ایک طرف جہاں پاکستان کی ثالثی سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، وہیں دوسری جانب اسرائیل نے لبنان پر حملوں میں شدید اضافہ کر دیا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فورسز کی وحشیانہ کارروائیوں میں 254 لبنانی شہری شہید ہو گئے ہیں،
امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد خلیجی ممالک سمیت عالمی برادری نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔ عالمی رہنماؤں نے اسے خطے میں امن و استحکام کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے پاکستان کے کلیدی کردار کو تسلیم کیا ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیرِ صدارت جی ایچ کیو میں اہم کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ملکی سلامتی، علاقائی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے شرکا نے سعودی عرب کے پیٹرو کیمیکل اور صنعتی کمپلیکس پر حالیہ ایرانی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت منعقدہ اعلیٰ سطح کے جائزہ اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی کھپت میں کمی لانے کے لیے کفایت شعاری کے ان اقدامات کی منظوری دی گئی۔ اس فیصلے کا اطلاق آج 7 اپریل سے پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان، اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں فوری طور پر ہوگا۔

مقبول ترین
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق اس دستے میں لڑاکا اور معاون طیارے شامل ہیں، جن کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو مضبوط بنانا اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف جنگی تیاریوں کی سطح کو بلند کرنا ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں