Friday, 17 April, 2026
حکومت نے منی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا

حکومت نے منی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا

حکومت نے منی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا اور اس دوران اپوزیشن جماعتوں نے شدید احتجاج کیا۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کے مشیر  برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے ایوان میں رولز معطل کرنے کی قرارداد پیش کردی، رولز  معطل کرنے کی قرارداد منظور ہوئی جس کے بعد وزیر خزانہ شوکت ترین نے ضمنی مالیاتی بل 2021 (منی بجٹ) قومی اسمبلی میں پیش کردیا۔

اسپیکر  نے رولنگ دی کہ قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط و طریقہ کار کے قاعدہ 122 کے تحت یہ بل قومی اسمبلی کی فنانس کمیٹی کے سپرد نہیں ہوگا۔

اپوزیشن کی جانب سے اس موقع پر شدید احتجاج کیا گیا اور حکومت کیخلاف نعرے لگائے گئے۔ بعد ازاں قومی اسمبی کا اجلاس جمعہ دن 11 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

منی بجٹ میں کیا ہے؟
مِنی بجٹ میں تقریباً 150 اشیاء پر سیلز ٹیکس بڑھانے کی تجویز ہے جن سے 350 ارب روپے سے زیادہ اضافی ریونیو حاصل ہوسکے گا۔  امپورٹڈ فوڈ آئٹمز پر ٹیکس چھوٹ ختم ہونے سے 215 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا، بیکری آئٹمز، برانڈڈ فوڈ آئٹمز  پر بھی جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) چھوٹ واپس لینے کی تجویز ہے۔

بل میں پاور سیکٹر کیلئے امپورٹڈ مشینری پر دی گئی چھوٹ واپس لینے، ادویات بنانے کیلئے استعمال ہونے والےخام مال پرٹیکس چھوٹ ختم کرنے، بیرون ملک سے منگوائے جانے والے پالتو جانوروں، پرندوں اور انڈوں پرٹیکس چھوٹ واپس لینے، امپورٹڈ گوشت اور پولٹری آئٹمز  پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے، موبائل فون کمپنیوں کی سروسز  پر ایڈوانس ٹیکس 10 فیصد سے 15 فیصدکرنےکی تجویز ہے۔ موبائل فونز  پر انکم ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ 

اس کے علاوہ 850 سی سی سے بڑی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس 17فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ ڈیوٹی فری شاپس پر  پہلی بار 17 فیصد سیلز ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے۔

پولٹری کے شعبے سے متعلقہ مشینری پر ٹیکس 7 فیصد سے بڑھاکر 17 فیصد کرنے جبکہ چاندی اور سونے پر ٹیکس کی شرح 1 سے بڑھاکر 17 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

کمپیوٹرز، لیپ ٹاپ پر بھی ٹیکس عائد کرنے کی تجویز بل میں پیش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بیکری، ریسٹورنٹس، فوڈ چینز  پر بریڈ کی تیاری پر 17فیصد جی ایس ٹی کی تجویز ہے جب کہ عام تندوروں پر روٹی اور چپاتی پر ٹیکس استثنیٰ برقرار رہے گا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  77027
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ایک طرف جہاں پاکستان کی ثالثی سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، وہیں دوسری جانب اسرائیل نے لبنان پر حملوں میں شدید اضافہ کر دیا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فورسز کی وحشیانہ کارروائیوں میں 254 لبنانی شہری شہید ہو گئے ہیں،
امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد خلیجی ممالک سمیت عالمی برادری نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔ عالمی رہنماؤں نے اسے خطے میں امن و استحکام کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے پاکستان کے کلیدی کردار کو تسلیم کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کے بعد بڑے ریلیف پیکج کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعظم نے پٹرولیم لیوی میں 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد پٹرول کی قیمت 458 روپے سے کم ہو کر 378 روپے پر آ گئی ہے۔
پاک افواج نے کابل اور ننگرہار میں افغان طالبان فوجی کی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے جس میں دو مقامات پر ٹیکنیکل سپورٹ انفرااسٹرکچر اور ایمونیشن اسٹوریج کو تباہ کیا گیا۔

مقبول ترین
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق اس دستے میں لڑاکا اور معاون طیارے شامل ہیں، جن کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو مضبوط بنانا اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف جنگی تیاریوں کی سطح کو بلند کرنا ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں