Saturday, 17 April, 2021
قرآن حکیم اور امام خمینیؒ

قرآن حکیم اور امام خمینیؒ
تحریر: سید ثاقب اکبر

 

ان دنوں اسلام کے بطل جلیل حضرت امام سید روح اللہ موسوی الخمینی کی اکتسویں برسی منانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ اس موقع پر ان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر بات کی جائے گی۔ ان کی زندگی ویسے بھی بڑی جامعیت کی حامل ہے اور ایک بڑی شخصیت کے اعتبار سے جس پہلو کی جانب نظر کریں وہ ہمیں بلندی پر فائز نظر آتے ہیں۔ عام طور پر ان کی زندگی کے سیاسی پہلو کو دیکھا گیا ہے حالانکہ ان کا سیاسی پہلو دینی عرفانی اور اخلاقی اور ملکوتی پہلوؤں سے پھوٹتا ہے۔ ان کے وجود سے اسلامی انقلاب کی جو بہار وابستہ ہے وہ پڑی پہلو دار ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلام کی جامع تعلیم آج بھی جیسے انسان ڈھالنے کی صلاحیت رکھتی ہے اس پہلو سے آپ کی شخصیت کا مطالعہ کیا جائے۔ ہم زیر نظر سطو رمیں قرآن حکیم کے ساتھ امام خمینی کے خصوصی تعلق اور قراان حکیم کے بارے میں ان کے بعض افکار کا ذکر کریں گے اگر چہ یہ موضوع خود نہایت اہم ہے اور وسیع بھی۔ہم اپنے قارئین میں اس موضوع کے حوالے سے اشتیاق پیدا کرنے کی غرض سے چند معروضات پیش کرتے ہیں۔

امام خمینی کی منظم زندگی میں قرآن حکیم ایک جزو لا ینفک ہی نہیں بلکہ ایک ملجا و ماوی کی حیثیت سے دکھائی دیتا ہے۔ آپ ہر شب نماز تہجد کے بعد اور نماز فجر سے پہلے قرآن حکیم کے ایک پارے کی تلاوت کرتے تھے۔ یہ تلاوت ماہ مبارک رمضان میں دو گنا ہو جاتی تھی اور رمضان المبارک میں آپ اپنے معمولات میں تبدیلی کرتے تھے تاکہ عبادات اور تمسک بالقرآن کا موقع زیادہ مل سکے۔رمضان شریف میں نزول قرآن کے حوالے سے انھوں نے فرمایا:

”ماہ رمضان وہ مہینہ ہے کہ جس نے تمام پردے چاک کر دیے ہیں اور اس میں جبرئیل امین رسول اللہ ؐ کے پاس آئے ہیں، دوسرے لفظوں میں پیغمبر اکرم ؐ جبرئیل امین کو دنیا میں لائے ہیں۔“

اس میں بہت گہرے نکات موجود ہیں، آپ کہنا چاہتے ہیں کہ پیغمبر اکرم ؐ کا وجود اقدس نہ ہوتا تو جبرئیل امین بھی ان قرآنی حقائق، معارف، اموراور اوامر کو لے کر زمین پر نہ اترتے۔اس مطلب کو مزید ذہنوں کے قریب کرنے کے لیے ہم دو اشعار اپنے قارئیں کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔ پہلا شعر ایک نعت سے ہے اور دوسرا قرآن حکیم کے حوالے سے ایک نظم سے ماخوذ ہے:

یہ جذب قلب ہے کہ نزول کلام ہے 

اتری ہے یا کسی نے اتاری ہے گفتگو

 

ایسا اک ناز کمال آتا تو ممکن ہوتا 

اے جدا! جس پہ اترتا ترا کامل قرآن 

امام خمینی کے گھر کے افراد کا کہنا ہے کہ آپ کو اگر کسی موقع پر دو منٹ بھی مل جاتے تو اس دوران میں قرآن حکیم کھول کر اس کی تلاوت کرتے۔ مثال کے طور پر آپ کے لیے کھانالایا جارہا ہے اور دو منٹ اس دوران میں میسر ہیں تو آپ قرآن حکیم کی تلاوت کرتے تھے۔آپ کے بارے میں آپ کے قریبی رفقاء کا کہنا ہے کہ آپ قرآن حکیم ہمیشہ کھول کر اور دیکھ کر تلاوت کرتے تھے۔جو کتاب آپ کے قریب ترین ہوتی تھی وہ قرآن حکیم ہی تھا۔ یہاں تک کہ جن دنوں تہران دوران جنگ بمباری کی زد میں تھا اور عمارات لرزہ براندام تھیں آپ جس عمارت میں تھے وہاں بھی الماریوں سے کتابیں گرنے کا خطرہ تھا آپ نے قرآن حکیم کے علاوہ سب کتابیں اٹھوا دیں۔

بعثت پیغمبر اکرم ؐ کا مقصد بیان کرتے ہوئے امام خمینی کہتے ہیں:

”بعثت کا محرک نزول وحی و قرآن اور اسے انسانیت کے سامنے پیش کرنا ہے تاکہ انسانوں کا تزکیہ کیا جائے اور ان کے نفوس ان ظلمات اور سیاہیوں سے مصفا اور پاک ہو جائیں جو ان کے اندر موجود ہیں۔“

امام خمینی اس بات پر بہت زور دیتے تھے کہ قرآن فقط لفظوں اور ظواہر سے عبارت نہیں بلکہ اس کے حقائق کہیں زیادہ عمیق ہیں۔ حقیقت بعثت پر بات کرتے ہوئے ایک او رمقام پر کہتے ہیں:

”اصل بعثت کیا ہے، نزول وحی کیا ہے اور نزول وحی کی کیفیت کیا ہے یہ وہ امور ہیں جو سربستہ ہیں اور راز کی حیثیت سے باقی ہیں۔ ہم جو بعثت سے سمجھ سکتے ہیں وہ اس کی برکات ہیں کہ جو اس مظہر سے حاصل ہوئی ہیں۔“

امام خمینی نے یہ بھی فرمایا:

”قرآن جس کی حقیقت سمع و بصر، الفاظ اور اعراض نہیں لیکن اسے اس صورت میں نچلے(نازل) درجے پر لایا گیا ہے۔“

قرآن حکیم سب کے لیے راہنما ہے اور ہر صاحب فکر و فہم اور ہر درجہ معرفت کا انسان اس سے کسب فیض کر سکتا ہے۔اس سلسلے میں امام خمینی فرماتے ہیں:

”قرآن ایک ایسا دسترخوان ہے جسے تمام طبقوں کے لیے بچھایا گیا ہے یعنی اس کی ایک ایسی زبان ہے جو عامۃ الناس کے لیے بھی ہے اور فلاسفہ کے لیے بھی ہے، اس کی زبان عرفا کی اصطلاحی زبان بھی ہے اور اہل معرفت کی بھی جوحسب حقیقت ہے۔“

 

امام خمینی اسی امر پر بہت زور دیتے ہیں کہ قرآن کو پانے کے لیے انسان کو خود اپنی اصلاح کرنا ہے، قرآن کی پاکیزگیاں ناپاک ظروف میں نہیں آ سکتیں۔ ایسے مطالب کو امام خمینی نے اپنے عارفانہ انداز سے اور اپنی خاص معرفت کی اصطلاحوں میں متعدد مقامات پر بیان کیا ہے،مثلا ملاحظہ کیجیے۔

”جب تک انسان خود اپنے حجاب میں ہے اس قرآن کا ادراک نہیں کرسکتا،جو نور ہے اور خود اپنے فرمان کے مطابق نور ہے۔ جو لوگ حجاب میں ہیں اوربہت سے حجابات میں ہیں، اس نور کو نہیں پاسکتے۔ یہ ان کا گمان ہے کہ اس کا ادراک کر سکتے ہیں۔ جب تک انسان اپنے بہت سے تاریک حجابات سے باہر نہ نکلے، جب تک نفسانی خواہشات میں گرفتار رہے، جب تک خودبینی میں گرفتار رہے اور جب تک ایسی چیزوں میں گرفتار رہے جو اس نے اپنے باطن نفس میں خود پیدا کرلی ہیں اور جو ایک دوسرے سے بڑھ کر تاریک ہیں، اس میں یہ قابلیت پیدا نہیں ہوتی کہ یہ نور الہی اس کے قلب پر منعکس ہو۔ جو لوگ چاہتے ہیں قرآن کو سمجھیں، اس کے حقیقی محتوی کو جانیں نہ کہ اس نازل اور پائین تر چھوٹی صورت کو، وہ ایسا نہیں کرسکتے جب تک حجابات نہ اٹھ جائیں۔وہ جب قرآن کے حقیقی مطلب کو جان لیں گے تو جس قدر اس کی قرات کریں گے بلندی کی طرف جائیں گے اور مبداء نور اور مبداء اعلی کے نزدیک ہو تے جائیں گے۔“

قرآن میں بہت سے اسرار و موز ہیں اور بعض چیزیں خاصان خدا کے لیے خاص ہیں اور بعض چیزیں تو ایسی ہیں کہ جو اللہ اور اس کے رسولؐ کے مابین ہیں۔اس موضوع پر بھی امام خمینی مختلف مواقع پر بات کی ہے ایک مقام پر کہتے ہیں:

”یہ خطاب ہے حبیب و محبوب کے مابین اور مناجات ہیں عاشق و معشوق کے مابین اور ایسے اسرار ہیں کہ جن تک خوداسے اور اس کے حبیب کے سوا کسی کو رسائی نہیں اور اس رسائی کا امکان بھی نہیں۔ بعض سورتوں میں آنے والے حروف مقطعہ مثلا الم، ص، یس وغیرہ اسی قبیل سے ہیں اور بہت سی آیات کریمہ جن کی اہل ظاہر، اہل فلسفہ ہ، اہل عرفان اور اہل تصوف میں سے ہر کوئی اپنی تفسیر یا تاویل کرتا ہے اسی قبیل سے ہیں اگرچہ ہر گروہ اپنی ظرفیت کے مطابق کچھ حصہ یا خیال رکھتا ہے۔“

امام خمینی قرآن حکیم کو ہر طرح کی تحریف سے پاک او رمحفوظ سمجھتے تھے اس بات کو انھوں نے مختلف مقامات پر وضاحت سے بیان کیا ہے۔ اس سلسلے میں بعض لوگوں نے بہت سی ضعیف اور مرسل روایات کے کمزور سہارے سے تحریف کا جو ناروا نظریہ اختیار کیا امام خمینی نے اس کا سخت محاکمہ کیا ہے چنانچہ صاحب فصل الخطاب کے نقطہ نظر کو وہم قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں:

”اگر بات ویسی ہی ہوتی جیسا کہ صاحب فصل الخطاب کو وہم ہو گیا تھا اور ان کی کتابوں کا علمی فائدہ ہوا نہ عملی، انھوں نے بعض ضعیف روایتیں جمع کر ڈالیں جن پر ہمارے علماء نے سخت تنقید کی ہے اور ہمارے متقدمین اہل فکر و فہم مثلا’محمدین ثلاثہ‘ ]شیخ کلینی، شیخ صدوق اور شیخ طوسی [نے ان سے دوری اختیار کی ہے۔۔۔مختصر یہ کہ اس کے کلام کی پستی اور ناپسندیدہ عقیدے کی برائی اس سے کہیں واضح ہے کہ اہل ادراک و فہم سے پنہاں رہے۔“

وہ واضح الفاظ میں قرآن عدم تحریف پر بات کرتے ہوئے کہتے ہیں:

”یہ قرآن کریم جو مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے صدر اول سے لے کر اب تک اس میں ایک کلمہ یا ایک حرف زیادہ یا کم نہیں ہوا۔۔۔قرآن شریف کی طرف کسی کو دست درازی کی اجازت نہیں دی گئی۔ یہ جس طرح رسول اللہ ؐ کے زمانے میں نازل ہوا اب بھی اسی طر ح ہے اس میں کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا۔“

قرآن حکیم کی ہمہ گیر اشاعت امام خمینی کا مطمح نظر تھا، آپ چاہتے تھے کہ قرآن و اسلامی احکام و تعلیمات غیر مسلموں تک پہنچائی جائیں۔ اس سلسلے میں وہ بعض فقہا کے اس نظریے کو تسلیم نہیں کرتے تھے کہ قرآن حکیم کو غیر مسلموں کے ہاتھ نہیں آنا چاہیے۔ اس سلسلے میں ایک مقام پر امام خمینی کہتے ہیں:

”قرآن کے بارے میں احتیاط کے نام پر کفار کے لیے اس کی دستیابی سے ممانعت شارع مقدس کے ذوق کے خلاف ہے کیونکہ تبلیغ اسلام ضروری ہے۔ احکام الہی کی اشاعت اور تمام ممکنہ وسائل سے انسانوں کی ہدایت کے واجب ہونے کے پیش نظر قرآن کی اشاعت ضروری ہے۔ یہ احتمال کہ کسی کافر کا ہاتھ قرآن کو لگے گا اور وہ نجس ہو جائے گا، اس مصلحت کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اکرم ؐ نے بادشاہوں کے نام جو خطوط لکھے ان میں قرآنی آیات موجود نہیں۔ وہ بادشاہ ان خطوط کو چھوتے تھے حالانکہ وہ کافر تھے۔“

ابھی اس موضوع پر بہت کچھ کہنا باقی ہے، آج کی نشست اسی پر اٹھا رکھتے ہیں،یار زندہ صحبت باقی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: مضمون نگار ’’مبصر ڈاٹ کام‘‘ کے چیف ایڈیٹر ہیں اور البصیرہ کے سربراہ ہیں۔ مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  35496
کوڈ
 
   
مقبول ترین
عوامی نیشنل پارٹی نے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) سے راہیں جدا کرنے کا فیصلہ کرلیا جس کے نتیجے میں اتحاد ٹوٹ گیا اور اے این پی رہنماؤں نے پی ڈی ایم کے تمام عہدے چھوڑ دیے۔ پشاور میں اے این پی کی مرکزی
وفاقی حکومت نے وفاقی وزیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ کو عہدے سے ہٹا دیا جبکہ ان کی جگہ حماد اظہر لیں گے۔ سینیٹر شبلی فراز نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وفاقی وزیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے، جبکہ قلمدان حماد اظہر کو تفویض
لاہور میں موٹروے پر خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے ملزمان کو سزائے موت سنا دی گئی۔میڈیا کے مطابق چند روز قبل موٹروے زیادتی کیس کی سماعت مکمل ہوئی تھی، انسداد دہشت گردی عدالت کے ایڈمن جج ارشد حسین بھٹہ کیمپ جیل میں فیصلہ سنانے
مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں ہونے والے پی ڈی ایم کے اہم اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں میں استعفوں اور لانگ مارچ سے متعلق اختلافات کھل کر سامنے آگئے۔ سربراہی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں