Saturday, 04 July, 2020
71 کھرب 36 ارب کا بجٹ پیش، نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا

71 کھرب 36 ارب کا بجٹ پیش، نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا

اسلام آباد ۔ وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار حماد اظہر نے قومی اسمبلی میں مالی سال 21-2020 کا وفاقی بجٹ پیش کردیا۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ کا کل حجم 71 کھرب 37 ارب روپے ہے جس میں حکومتی آمدنی کا تخمینہ فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) کی جانب سے محصولات کی صورت میں 4963 ارب روپے اور نان ٹیکس آمدنی کی مد میں 1610 ارب روپے رکھا گیا ہے۔

تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کے بغیر تین ہزار چار سو سینتیس ارب خسارے کا بجٹ پیش، وفاقی میزانیے کا حجم سات ہزار دو سو چورانوے ارب، کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔

وفاقی اخراجات کا کل تخمینہ سات ہزار ایک سو سینتس ارب:
نئے مالی سال کے دوران وفاقی اخراجات کا کل تخمینہ سات ہزار ایک سو سینتس ارب، دو ہزار دو سو تئیس ارب روپے کے غیر ملکی قرضے حاصل کیے جائیں گے۔ وفاقی وزارتوں کے لیے چار سو چھہتر ارب مختص، این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو دو ہزار آٹھ سو چوہتر ارب روپے ملیں گے۔ پنشن کی ادائیگی کے لیے چار سو ستر ارب اور سبسڈیز کے لیے دو سو دس ارب کا بجٹ پیش کیا گیا۔

مہنگائی کی شرح ساڑھے چھ فیصد پر لانے کا ہدف:
جی ڈی پی گروتھ دو اعشاریہ ایک، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ایک اعشاریہ چھ اور مہنگائی کی شرح ساڑھے چھ فیصد پر لانے کا ہدف، معاشی ترقی کا ہدف دو اعشاریہ ایک فیصد مقرر، براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں پچیس فیصد تک اضافے کا ٹارگٹ رکھا گیا ہے۔

سگریٹ، ٹیکس پینسٹھ سے بڑھا کر 100 فیصد کرنے کا اعلان:
وفاقی بجٹ میں بچوں کا درآمدی دودھ سستا، ربڑ، سیمنٹ، موبائل فون سستے، مہنگا، سگریٹ اور سگار پر ٹیکس پینسٹھ سے بڑھا کر 100 فیصد کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

سبسڈیز کی مد میں دو سو نو ارب مختص:
سبسڈیز کی مد میں دو سو نو ارب مختص کر دیئے گئے ہیں۔ انفراسٹرکچر کی بہتری پر تین سو چونسٹھ ارب اور توانائی منصوبوں پر 80 ارب خرچ کیے جائیں گے۔ صاف پانی کے لیے ستر ارب، ٹرانسپورٹ اور کمیونیکشن کی بہتری کے لیے ایک سو اناسی ارب کا بجٹ مختص، ایوی ایشن ڈویژن کو ایک ارب بتیس کروڑ اور وزارت آئی ٹی کو چھ ارب سڑسٹھ کروڑ کی گرانٹس دی جائیں گی۔

زرعی شعبے کی ترقی کا ہدف دو اعشاریہ نو فیصد مقرر:
بجٹ میں زرعی شعبے کی ترقی کا ہدف دو اعشاریہ نو فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ ٹڈی دل کی روک تھام کے لیے دس ارب مختص، صنعتی شعبے میں نمو کا ہدف صفر اعشاریہ ایک فیصد رکھنے کا اعلان، مقامی صعنتوں پر ڈیوٹی بارہ سے کم کرکے چھ فیصد کر دی گئی۔ ہوٹلز کیلئے چھ ماہ کے لیے ٹیکس کی شرح اعشاریہ پانچ فیصد کرنے کا اعلان جبکہ غیر منقولہ جائیداد کی فروخت سے حاصل منافع ٹیکس سے مستشنیٰ قرار دیدیا گیا۔

احساس پروگرام اگلے مالی سال بھی جاری رہے گا:
حماد اظہر نے بجٹ تقریر کے دوران اعلان کیا کہ احساس پروگرام اگلے مالی سال بھی جاری رہے گا۔ نئے بجٹ میں دو سو آٹھ ارب روپے مختص، نیا پاکستان ہاؤسنگ کے لیے تیس ارب جبکہ ریلوے کے لیے چالیس ارب مختص کیے گئے ہیں۔ 

آمدن کا تخمینہ چھ ہزار پانچ سو تہتر ارب، ترقیاتی پروگرام کے لیے ایک ہزار تین سو چوبیس ارب، دفاع کے لیے ایک ہزار دو سو نواسی ارب روپے مختص، ٹیکس وصولیوں کا ہدف چار ہزار نو سو تریسٹھ جبکہ نان ٹیکس ریونیو ٹارگٹ ایک ہزار چھ سو دس ارب روپے مقرر کر دیا گیا۔

 وفاقی وزیر صنعت وپیداوار حماد اظہر کا وفاقی بجٹ پیش کرتے ہوئے کہنا تھا کہ تحریک انصاف کا دوسرا سالانہ بجٹ پیش کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔ اسے وبا کے باعث مشکلات کو مدنظر رکھ کر بنایا گیا ہے۔

کرپشن کا خاتمہ، سرکاری اداروں میں شفافیت اور احتساب کا عمل:
حماد اظہر کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران کرپشن کا خاتمہ، سرکاری اداروں میں شفافیت اور احتساب کا عمل جاری ہے۔ مطلوبہ اہداف کے حصول کے لیے عوام کے تعاون کی ضرورت ہے۔ دو سال کے دوران کرپشن کا خاتمہ اور احتساب رہنما اصول رہے۔ بی آئی ایس پی میں 8 لاکھ سے زائد جعلی افراد کو نکالا گیا۔

شرح نمو میں بہتری کے لیے حکومتی اقدامات:
حماد اظہر نے بجٹ تقریر میں کہا کہ شرح نمو میں بہتری کے لیے ہر ممکن اقدام کیے۔ اقتدار سنبھالا تو ملک معاشی بحران کا شکار تھا۔ تجارتی خسارہ 32 ارب تک پہنچ چکا تھا۔ ہم سے پہلے پانچ سال میں برآمدات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا تھا۔ جاری کھاتوں کا خسارہ 20 ارب ڈالر کی انتہائی سطح پر تھا۔ ماضی میں سٹیٹ بینک سے بے تحاشا قرض لیے گئے جبکہ منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے ماضی میں کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔

پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک رسائی کیلئے ‘’میڈ ان پاکستان’’ پروگرام:
ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی مصنوعات کو عالمی منڈیوں میں متعارف کرانے کے لیے ’’میڈ ان پاکستان‘‘ پروگرام شروع کیا۔ گزشتہ مالی سال میں کوئی ضمنی گرانٹ نہیں دی گئی۔ سرکاری اداروں میں بہتری کے لیے بنیادی ڈھانچے میں اصلاحات کی گئیں۔ بلوم برگ نے پاکستان سٹاک ایکسچینج کو 10 بہترین مارکیٹ میں شامل کیا۔ اصلاحاتی پروگرام پر آئی ایم ایف نے 6 ارب ڈالر کی اضافی منظوری دی۔ مالی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے اہم معاشی اصلاحات کیں۔

کورونا وائرس کیخلاف حکومت کے معاشی اقدامات:
انہوں نے کہا کہ معیشت کے استحکام کے لیے جو محنت کی اسے کورونا وائرس کی وجہ سے شدید دھچکا لگا۔ بدقسمتی سے اس وبا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ طویل لاک ڈاؤن کے ذریعے معاشی سرگرمیاں ماند پڑ گئیں۔ کورونا کی وجہ سے تمام صعنتیں اور کاروبار بری طرح متاثر ہوئے۔ حکومت نے کمزور طبقے کے لیے 1200 ارب کا پیکج دیا جبکہ طبی شعبے کیلئے 75 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ کاروبار میں آسانی کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے۔ وزیراعظم نے چھوٹے تاجروں کو خصوصی پیکج دیا۔ تعمیراتی شعبے کو تاریخی مراعات دیتے ہوئے ود ہولڈنگ ٹیکس میں چھوٹ اور اسے صعنت کا درجہ دیا گیا۔

آسان کاروبار میں اصلاحات اور دیگر اقدامات:
حکومتی اصلاحات بارے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پنشن کے نظام کو جدید بنانے سے 20 ارب کی بچت ہوگی۔ نجکاری کے عمل سے حکومت کے غیر پیداواری بوجھ کو کم کیا جا سکے گا۔ آسان کاروبار میں اصلاحات میں عالمی ریکنگ 136 سے 106 پر آ گئی۔ پٹرولیم مصنوعات میں کمی کرکے عوام کو 70 ارب روپے کا ریلیف دیا گیا۔ طویل مدتی قرضوں کے حصول میں آسانی پیدا کی گئی۔ بینکوں کو 800 ارب قرض دینے کی اجازت دی گئی۔

کفایت شعاری اور غیر ضروری اخراجات میں کمی:
وفاقی وزیر نے کہا کہ کفایت شعاری اور غیر ضروری اخراجات میں کمی یقینی بنائی جائے گی۔ افواج پاکستان کے مشکور ہیں جس نے کفایت شعاری مہم میں بھرپور تعاون کیا۔ کمزور طبقے کے لیے احساس پروگرام کے تحت مالی معاونت کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ٹڈی دل کی روک تھام کے لیے 10 ارب روپے رکھے گئے۔ آئندہ مالی سال کا بجٹ وبا کی بحرانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تشکیل دیا گیا۔ 200 ارب روپے روزانہ اجرت کمانے والوں کو دیئے گئے ہیں۔

عوامی ریلیف کیلئے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا:
وفاقی وزیر نے کہا کہ عوام کو ریلیف پہنچانے کے لیے کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جا رہا۔ کورونا کے تدارک کے لیے 12 سو ارب روپے سے زائد کے پیکج کی منظوری دی گئی ہے۔ مجموعی طور پر 875 ارب روپے کی رقم وفاقی بجٹ میں رکھی گئی ہے۔ اس کے علاوہ طبی آلات کی خریداری کے لیے 71 ارب روپے، غریب خاندانوں کے لیے 150 ارب، یمرجنسی فنڈ کے لیے 100 ارب روپے، آزاد جموں کشمیر کے لیے 55 ارب، گلگت بلتستان کے لیے 32 ارب، خیبر پختونخوا میں ضم اضلاع کے لیے 56 ارب، سندھ کے لیے 19 ارب مختص جبکہ بلوچستان کے لیے 10 ارب کی خصوصی گرانٹ رکھی گئی ہے۔

وفاقی بجٹ میں تعلیم کے لیے 30 ارب روپے مختص:
انہوں نے بتایا کہ آبی وسائل کے لیے مجموعی طور پر 69 ارب روپے، خوراک وزراعت کے لیے 12 ارب روپے، موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اقدامات کیلئے 6 ارب روپے، سائنس و ٹیکنالوجی کے لیے 20 ارب روپے، قومی شاہراہوں کے لیے 118 ارب روپے، شعبہ صحت کے لیے 20 ارب روپے اور تعلیم کے لیے 30 ارب روپے مختص کی گئے ہیں۔

شناختی کارڈ کے بغیر خریداری کی حد ایک لاکھ روپے کرنے کی تجویز:
عام دکانداروں سے سیلز ٹیکس کی شرح 12 فیصد کی تجویز ہے۔ درآمدی سگریٹ اور تمباکو پر ڈیوٹی 65 فیصد سے بڑھا کر 100 فیصد مقرر کر دی گئی ہے۔ شناختی کارڈ کے بغیر خریداری کی حد 50 ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے کرنے کی تجویز ہے جبکہ کورونا اور کینسر کی تشخیص کے آلات کی درآمد پر ڈیوٹی معاف کر دی گئی ہے۔ کیفین والی مشروبات پر شرح 13 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد جبکہ ڈبل کیبن گاڑیوں پر بھی ٹیکس کی شرح بڑھا دی گئی ہے۔

وزارت صحت کیلئے مجموعی طور پر چودہ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز:
آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں وزارت صحت کیلئے مجموعی طور پر چودہ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ پمز میں دو سو بیڈ پر مشتمل حادثات اور ایمرجنسی سینٹر بنانے کا منصوبہ، کوئٹہ میں الرجی سینٹر اور اسلام آباد میں دو سو بیڈز پر مشتمل ہسپتال کی تعمیر کا منصوبہ، وزیراعظم کے پروگرام صحت سہولت پروگرام کیلئے چار ارب روپے، ای پی آئی پروگرام کیلئے دو ارب بیس کروڑ روپے، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان میں بہبود آبادی، ہیپاٹائٹس اور ٹی بی پروگراموں کیلئے فنڈز مختص کرنیکی تجویز دی گئی ہے۔

ہائیر ایجوکیشن کمیشن کیلئے ترقیاتی بجٹ کا حجم 29 ارب 47 کروڑ روپے تجویز:
نئے بجٹ میں 94 جاری منصوبوں کیلئے ساڑھے چوبیس ارب روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ایچ ای سی کیلیے پانچ ارب روپے مالیت کے 23 نئے منصوبے، 15.8 کروڑ روپے مالیت کا پاک یو کے نالج گیٹ وے کا منصوبہ، سمارٹ یونیورسٹیز فیز ون کیلئے ساڑھے 46 کروڑ روپے، سی پیک کنسورشیم آف یونیورسٹیز کے تحت اکیڈمک تعاون منصوبہ اور شمالی وزیرستان میں یونیورسٹی کے قیام کا منصوبہ بھی بجٹ میں شامل کر لیا گیا ہے۔ منصوبے کی فیزیبلٹی سٹڈی کیلئے 75لاکھ روپے کے فنڈز بجٹ میں مختص کرنے کی تجویز جبکہ چترال اور تربت میں یونیورسٹیاں قائم کرنے کے منصوبے بھی نئے بجٹ میں شامل کر لیے گئے ہیں۔

مختلف ٹیکسز کے ذریعے 5 ہزار 464 روپے وصولیوں کا تخمینہ:
وفاقی بجٹ میں آئندہ مالی سال میں مختلف ٹیکسز کے ذریعے 5 ہزار 464 روپے وصولیوں کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ ایف بی آر کے ٹیکسز سے 4 ہزار 963 ارب روپے حاصل کرنے کا ہدف تجویز جبکہ ڈائریکٹ ٹیکسز سے 2 ہزار 43 ارب روپے حاصل ہونے کا تخمینہ ہے۔ انکم ٹیکس کی مد میں 2 ارب تین کروڑ روپے سے زائد، ورکرز ویلفئیر فنڈ سے تین ارب روپے سے زائد کے ٹیکسز، ان ڈائریکٹ ٹیکسز کی مد میں 2 ہزار 920 ارب سے زائد، کسٹمز ڈیوٹیز کی مد میں 640 ارب اور سیلز ٹیکس کی مد میں ایک ہزار 919 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

فیڈرل ایکسائز کی مد میں 361 ارب روپے، موبائل ہینڈ سیٹ لیوی کی مد میں پانچ ارب 80 کروڑ روپے، گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس سے 15 ارب روپے اور قدرتی گیس ڈویلپمنٹ سرچارج سے 10 ارب روپے وصولی کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ پٹرولیم لیوی کی مد میں ساڑھے چار سو ارب روپے وصول کئے جائیں گے۔

آٹو رکشا، موٹر سائیکل رکشا اور 200 سی سی موٹر سائیکلوں پر ایڈوانس ٹیکس ختم:
وفاقی وزیر حماد اظہر نے بتایان کہ آٹو رکشا، موٹر سائیکل رکشا اور 200 سی سی تک کی موٹر سائیکلوں پر ایڈوانس ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے جبکہ بھاری فیسیں وصول کرنے والے تعلیمی اداروں پر 100 فیصد ٹیکس عائد کر دیا گیا ے۔ دو لاکھ روپے سے زائد سالانہ فیس لینے والے تعلیمی اداروں کو 100 فیصد سے زائد ٹیکس دینا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کے تقاضوں کو بھی بجٹ میں مدنظر رکھا گیا۔ ایک سال میں بیرونی محصولات پر کسی قسم کا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  90670
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
حکومت نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو سپورٹ فراہم کرنے کیلئے کریڈٹ رسک شیئرنگ فسیلٹی اسکیم متعارف کروادی ہے جبکہ یہ رسک شیئرنگ فسیلٹی اسکیم چار سال کے لئے ہے۔
چیئرمین یوٹیلٹی اسٹورز ذوالقرنین خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ شوگر ملز مالکان سے ایک لاکھ ٹن چینی خریدنے کیلئے کابینہ سے خصوصی اجازت لی جائیگی، جس کی سمری منظوری کے لئے کابینہ کو بھجوا دی ہے۔
حکومت نے سگریٹ اور سوفٹ ڈرنکس پر ہیلتھ ٹیکس لگانے کی حتمی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت 20 سگریٹ والے پیکٹ پر 10 روپے جب کہ 250 ملی لیٹر کی کاربونیٹڈ ڈرنک کی ایک بوتل پرایک روپیہ ہیلتھ ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ ہیلتھ ٹیکس
حکومت نے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ میں مزید 15 دن کی توسیع کردی ہے۔ اب ٹیکس دہندگان اپنے انکم ٹیکس گوشوارے 15 دسمبر 2017 تک جمع کرواسکتے ہیں۔ قبل ازیں ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ آج تک تھی۔

مقبول ترین
پاکستان اور چین کے وزرائے خارجہ نے ایک اہم ٹیلی فونک گفتگو میں بین الاقوامی فورمز پر باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا ہے۔ میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے خطے
ہائی کورٹ کی انتظامی کمیٹی نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو العزیزیہ اسٹیل مل ریفرنس میں سزا سنانے والے احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کو برطرف کر دیا ہے۔ ارشد ملک کا اسکینڈل سامنے آنے پر انہیں عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ مائنس عمران خان کا مطالبہ غیر جمہوری مطالبہ نہیں۔ حکومت ہٹانے کے لیے کبھی بھی غیر آئینی طریقے کی حمایت نہیں کریں گے۔
تائیوان حکومت کا عجیب و غریب اقدام ،کورونا وائرس میں سفر کے لیے ترسنے والوں کے لیے تائیوان میں ’’جعلی پروازوں‘‘ کا سلسلہ شروع کردیا۔ ابتدائی مرحلے میں اس سفر کے لیے 7 ہزار افراد نے رجوع کیا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں