Friday, 17 April, 2026
بجلی سستی: نیپرا نے نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا

بجلی سستی: نیپرا نے نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا

اسلام آباد - ملک بھر میں بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے لیے خوشخبری ہے کہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کے نرخوں میں نمایاں کمی کی منظوری دے دی ہے۔ اس سلسلے میں مجموعی طور پر فی یونٹ بجلی کی قیمت میں 1 روپے 83 پیسے کی کمی کا اعلان کیا گیا ہے، جس کا اطلاق مختلف بنیادوں پر صارفین کو ریلیف دینے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

یہ کمی دو حصوں میں کی گئی ہے۔ ایک ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں اور دوسری سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کے تحت۔ ماہانہ بنیاد پر 28 پیسے فی یونٹ کی کمی کا اطلاق رواں ماہ یعنی مئی کے لیے کیا جا رہا ہے جب کہ سہ ماہی بنیاد پر 1 روپے 55 پیسے فی یونٹ بجلی سستی کر دی گئی ہے، جس کا اطلاق 3 مہینوں (مئی، جون اور جولائی) کے لیے ہوگا۔

ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت کی گئی یہ کمی بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال ہونے والے ایندھن کی لاگت میں کمی کی عکاسی کرتی ہے۔ جب عالمی منڈی میں تیل یا گیس کی قیمتیں کم ہوتی ہیں تو اس کا فائدہ بجلی صارفین کو بھی منتقل کیا جاتا ہے اور اسی سلسلے میں مئی کے لیے فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں فی یونٹ قیمت میں 28 پیسے کی کمی کی گئی ہے۔

دوسری جانب سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ ایک ایسا نظام ہے جس کے تحت بجلی کمپنیوں کی پیداواری لاگت اور دیگر مالیاتی معاملات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر 3ماہ بعد نرخوں میں تبدیلی کی جاتی ہے۔ نیپرا نے حالیہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمت میں 1 روپے 55 پیسے فی یونٹ کمی کی منظوری دی ہے، جس کا اطلاق مئی سے شروع ہو کر جولائی کے آخر تک جاری رہے گا۔ اس فیصلے سے لاکھوں گھریلو، تجارتی اور صنعتی صارفین کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔

نیپرا کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ بجلی کی نئی قیمتوں کا اطلاق ملک بھر کے تمام ڈسٹری بیوشن کمپنیوں پر یکساں طور پر ہوگا، تاہم یہ رعایت صرف اُن صارفین کے لیے ہے جو حکومت کی سبسڈی پالیسی کے دائرے میں آتے ہیں۔ یعنی کہ لائف لائن صارفین اور وہ افراد جن کی ماہانہ بجلی کی کھپت کم ہے، انہیں اس فیصلے کا براہِ راست فائدہ حاصل ہوگا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتیں کم رہتی ہیں اور حکومت اپنے مالیاتی اہداف کو بہتر انداز میں حاصل کرتی ہے تو آئندہ مہینوں میں بجلی کی قیمتوں میں مزید کمی بھی متوقع ہو سکتی ہے،تاہم اس کا انحصار کئی دیگر عوامل پر بھی ہے جن میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر، پاور سیکٹر کے گردشی قرضے اور بجلی کی چوری کی شرح شامل ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  7627
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے جنوری 2026 سے نئے ٹیرف میں فکسڈ چارجز کو لوڈ کی بنیاد پر عائد کرنے کی منظوری دی۔ اس سے قبل یہ چارجز ماہانہ بجلی کی کھپت کے مطابق وصول کیے جاتے تھے۔
نیپرا نے بجلی کی قیمت میں 7.91 روپے فی یونٹ تک اضافے کی منظوری دے دی۔ میڈیا کے مطابق نیپرا نے اس منظوری کے بعد فیصلہ حکومت کو ارسال کردیا جس کے بعد حکومت کی جانب سے قیمت بڑھنے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا جائے گا۔
نیپرا نے ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے فی یونٹ 57 پیسے اضافے کی منظوری دے دی۔ نیپرا نے بجلی کی قیمتوں میں 57 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی۔ اضافے کا اطلاق کے الیکٹرک کے سوا ملک بھر کے تمام بجلی صارفین پر ہوگا۔
حکومت نے آئی ایم ایف سے معاہدے کے بعد اب ہر ماہ پٹرولیم لیوی چار روپے ماہانہ بڑھانے اور پی ڈی ایل کو تیس روپے تک لے کا اعلان کردیا، بجلی کی بنیادی قیمتوں میں بھی مزید اضافہ ہوگا ساتھ ہی پارلیمنٹ کے ذریعے اسٹیٹ بینک کو خودمختاری دی جائے گی۔

مقبول ترین
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق اس دستے میں لڑاکا اور معاون طیارے شامل ہیں، جن کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو مضبوط بنانا اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف جنگی تیاریوں کی سطح کو بلند کرنا ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں