Wednesday, 23 September, 2020
امریکی جرنیلوں نے فوج کو مظاہرین کیخلاف استعمال کرنے سے انکار کردیا

امریکی جرنیلوں نے فوج کو مظاہرین کیخلاف استعمال کرنے سے انکار کردیا
فائل فوٹو

واشنگٹن: امریکی جرنیلوں نے صدر ٹرمپ کے کہنے پر فوج کو مظاہرین کے خلاف استعمال کرنے سے انکار کر دیا ہے۔امریکی صدر ٹرمپ اپنے موقف سے پسپا ہونے پر مجبور ہوگئے، واشنگٹن کے باہر تعینات فوجی واپس شمالی کیرولائنا بھیج دیے گئے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی افواج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک میلی نے صدر ٹرمپ پر سرعام تنقید کی تھی اور فوج کو حکم دیا تھا کہ وہ آئین کی پاس داری کرے، سابق جرنیلوں نے صدر ٹرمپ پر فوج کو سیاسی چپقلش میں گھسیٹنے کی کوشش کا الزام لگایا تھا۔

امریکی فوج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک میلی نے صدر ٹرمپ پر سرعام تنقید کی تھی اور فوج کو حکم دیا تھا کہ وہ آئین کی پاسداری کرے۔ جنرل میلی نے مظاہرین کےحق اجتماع کو تسلیم کیا تھا اور واضح کیا تھا کہ فوجیوں نے اپنی زندگیاں امریکا کے لیے قربان کرنے کا عزم کیا ہوا ہے۔

جنرل مارک میلی نے فوج کے نام کھلے پیغام میں کہا تھا کہ اہلکار شہریوں کے حق آزادی کا تحفظ کریں گے ۔ امریکی فوج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی جانب سے صدر کیخلاف بیان کے نتیجے میں فوج کو واشنگٹن سے واپس شمالی کیرولائنا بھیج دیا گیا۔

بےگناہ جارج فلائیڈ کی موت کیخلاف مظاہرہ کرنیوالوں کو کچلنے کے لیے 200 فوجیوں کو واشنگٹن طلب کیا گیا تھا تاہم سڑکوں پر تعیناتی سے پہلے ہی صدر ٹرمپ کیخلاف محاذ کھڑا ہوگیا۔

فوج کے سابق فوراسٹار جنرل جان ایلن اور سابق وزیردفاع جنرل ریٹائرڈ جیمز میٹس نے بھی صدر ٹرمپ کی جانب سے فوج طلب کرنے پرکھلی تنقید کی تھی۔

جنرل میٹس نے کہا تھاکہ ٹرمپ پہلے صدر ہیں جو ملک کو متحد کرنے کے بجائے تقسیم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

جنرل ایلن نے ڈونلڈ ٹرمپ کے دور صدارت کو امریکا میں جمہوریت کے خاتمے کا نکتہ آغاز قرار دیا ، انہوں نے صدر ٹرمپ کے گرجاگھر جاکر بائبل کو تھامنے پر بھی تنقید کی تھی اور فلائیڈ کے قتل پر ٹرمپ کے ردعمل کو شرمناک قراردیا تھا۔

وزیر دفاع مارک ایسپر نے بھی فوج تعینات کرنے کے معاملے پر صدر ٹرمپ کے بیان سے دوری اختیار کرلی تھی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے دست راست سینیٹر لنزی گراہم نے بھی تسلیم کیا ہےکہ وہ اب یہ نہیں کہہ سکتے کہ صدر ٹرمپ پر کوئی الزام عائدہی نہیں کیا جاسکتا۔

ری پبلکن سینیٹر لیزا مرکووسکی نے جیمز میٹس کے بیان کو وقت کی ضرورت قرار دیا اور تسلیم کیا کہ صدر ٹرمپ کے ساتھ کھڑا ہونا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر امریکی صدر کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور ان کے سخت بیانات کی وجہ سے سنیپ چیٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اکاؤنٹ کی تشہیر پر پابندی لگا دی ہے۔  سنیپ چیٹ کی جانب سے یہ اقدام عدم تشدد کی پالیسی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ٹویٹر انتظامیہ کی تقلید میں اٹھایا گیا ہے۔

سیاہ فام امریکی شہری کے قتل کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں کا دائرہ ملک گیر سطح پر پھیل جانے کے بعد امریکہ کے چالیس سے زیادہ شہروں میں ہنگامی حالت کا اعلان اور کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی شہریوں کی اکثریت سیاہ فام شہری کی ہلاکت کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کی حامی ہے اور صدر ٹرمپ کے جوابی سخت اقدامات کی مخالف ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  21826
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وینیزویلا کے وزیر خارجہ خورخے اریزا (Jorge Arreaza) نے امریکی پابندیوں کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آئل ٹینکروں کے وینزنیلا میں داخلے سے متعلق امریکی اقدامات پوری قوم پر حملہ ہیں۔ تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ وینزویلا نے تیل لوڈ کرنے کے لئے آئل ٹینکروں کے وینزویلا میں داخلے پر پابندی سے متعلق امریکی اقدام کو
انسانی حقوق کے رہنما ال شارپٹن نے جارج فلائیڈ کی یادگاری تقریب سے خطاب میں کہا کہ اپنے گھٹنے سیاہ فاموں کی گردنوں سے ہٹاؤ۔ تبدیلی آنے تک احتجاج جاری رہے گا۔
امریکہ میں پولیس کے ہاتھوں کے سیاہ فام شخص کے قتل سے خراب ہونے والے حالات مزید کشیدہ ہوگئے ہیں اور دارالحکومت سمیت 13 شہریوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ امریکی پولیس نے ملک میں ہونے والے مظاہروں کے دوران اب تک 2564 افراد کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم گرفتار ہونے والوں کی تعداد 4 ہزار سے زائد ہے۔
اقوام متحدہ کی خاتون رپورٹر ایگنِس کیلا مارڈ نے اپنی رپورٹ میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو معروف صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا اصل ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ بن سلمان نے خاشقجی کو قتل کر کے ریاستی جرم کا ارتکاب کیا ہے اور اب سعودی حکام قاتلوں کی جان بخشوانے کے لئے مقتول کے ورثاء پر دباؤ ڈال رہے ہیں اور معاف کرنے کے بیانات جاری کروا رہے ہیں۔

مزید خبریں
چینی دفترخارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ نے ہفتہ وار پریس کانفرنس کے دوران سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر ایک تاریخی مسئلہ ہے جسے اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی روشنی میں پر امن طریقے

مقبول ترین
انسداد دہشت گردی عدالت نے سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کے مجرموں رحمان بھولا اور زبیر چریا کو 264 ، 264 بار سزائے موت سنادی ہے۔ انسداد دہشت گردی عدالت میں سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کی سماعت ہوئی جس میں رحمان بولا، زبیر چریا اور رؤف صدیقی
ایران نے کہا ہے کہ امریکا نے روایتی غنڈہ گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یک طرفہ طور پر اقوام متحدہ کی پابندیاں بحال کیں جس پر اُسے فیصلہ کن جواب دینے کا وعدہ کرتے ہیں۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر حسن روحانی نے ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیوں
وزیراعظم نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش تھی، عدالتوں اور فوج کو بدنام نہیں ہونے دیں گے۔ پاکستان کی مسلح افواج قومی سلامتی کی ضامن ہیں۔ ن لیگ نے ایک بار پھر بھارتی ایجنڈے کو فروغ دیا۔
عسکری قیادت نے واضح کیا ہے کہ پاک فوج کا ملک میں کسی بھی سیاسی عمل سے براہ راست یا بالواسطہ تعلق نہیں ہے۔ میڈیا کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی پارلیمانی رہنماؤں سے

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں