![]() |
تہران ۔ ایران کے وفاقی دارالحکومت تہران میں حکومت افغانستان اور طالبان کے درمیان باقاعدہ مذاکرات کا آغاز ہوا ہے۔ بین الافغان مذاکرات کی میزبانی ایران کر رہا ہے۔ ایرانی وزیرخارجہ محمد جواد ظریف کا مشترکہ اجلاس سے اپنے افتتاحی خطاب میں کہنا تھا کہ افغانستان میں امریکی فوجی مداخلت اور اس کی بیس سالہ تباہ کن اور غاصبانہ موجودگی کی وجہ سے آج افغانستان کے عوام اور رہنماں کو اپنے مستقبل کے سلسلے میں نہایت اہم اور سخت فیصلے کرنا ہوں گے۔جواد ظریف نے مذاکرات کی میز پر واپس آنے پر زور دیتے ہوئے سیاسی طریقہ کار کو ہی بہترین آپشن قرار دیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا کہ ایران افغانستان کے بحران اور تنازعات کے حل کے لئے موجودہ گروہوں کے درمیان گفتگو کے عمل میں ہر طرح کی مدد کے لئے تیار ہے۔ ایرانی وزیرخارجہ نے زور دے کر کہا کہ ایران افغانستان میں قیام امن کے بعد اس ملک کی سیاسی، اقتصادی اور سماجی ترقی و پیشرفت کے لئے ہر قسم کی مدد کے لئے تیار ہے۔
میڈیا کے مطابق افغان حکومت کی طرف سے اس وفد میں افغانستان کے صدر اشرف غنی کے مشیر سلام رحیمی، افغانستان کے سابق نائب صدر یونس قانونی، سابق نائب وزیر خارجہ ارشاد احمدی، محمد اللہ تابش، کریم خرم اور ظاہر وحدت شامل ہیں۔ جبکہ طالبان کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ عباس استنکزئی اپنے وفد کے ہمراہ موجود ہیں۔
افغان طالبان کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق اس ملاقات میں ایران میں افغان پناہ گزینوں کے مسائل اور افغانستان میں موجودہ امن عامہ کے صورت حال پر بات چیت کی جائے گی۔
اجلاس کے موقع پر مغربی ایشیا کے امور میں ایران کے نائب وزیر خارجہ رسول موسوی نے خبر دی ہے کہ اس وقت افغانستان کے بیک وقت چار وفود ایرانی وزارت خارجہ کے عہدیداروں کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کا جائزہ لینے اور باہمی تبادلہ خیال کے لئے تہران میں موجود ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ