Tuesday, 21 April, 2026
ایران: افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات شروع

ایران: افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات شروع

تہران ۔ ایران کے وفاقی دارالحکومت تہران میں حکومت افغانستان اور طالبان کے درمیان باقاعدہ مذاکرات کا آغاز ہوا ہے۔ بین الافغان مذاکرات کی میزبانی ایران کر رہا ہے۔ ایرانی وزیرخارجہ محمد جواد ظریف کا مشترکہ اجلاس سے اپنے افتتاحی خطاب میں کہنا تھا کہ  افغانستان میں امریکی فوجی مداخلت اور اس کی بیس سالہ تباہ کن اور غاصبانہ موجودگی کی وجہ سے آج افغانستان کے عوام اور رہنماں کو اپنے مستقبل کے سلسلے میں نہایت اہم اور سخت فیصلے کرنا ہوں گے۔جواد ظریف نے  مذاکرات کی میز پر واپس آنے پر زور دیتے ہوئے سیاسی طریقہ کار کو ہی بہترین آپشن قرار دیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا کہ ایران افغانستان کے بحران اور تنازعات کے حل کے لئے موجودہ گروہوں کے درمیان گفتگو کے عمل میں ہر طرح کی مدد کے لئے تیار ہے۔ ایرانی وزیرخارجہ نے زور دے کر کہا کہ ایران افغانستان میں قیام امن کے بعد اس ملک کی سیاسی، اقتصادی اور سماجی ترقی و پیشرفت کے لئے ہر قسم کی مدد کے لئے تیار ہے۔

میڈیا کے مطابق افغان حکومت کی طرف سے اس وفد میں افغانستان کے صدر اشرف غنی کے مشیر سلام رحیمی، افغانستان کے سابق نائب صدر یونس قانونی، سابق نائب وزیر خارجہ ارشاد احمدی، محمد اللہ تابش، کریم خرم اور ظاہر وحدت شامل ہیں۔ جبکہ طالبان کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ عباس استنکزئی اپنے وفد کے ہمراہ موجود ہیں۔

افغان طالبان کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق اس ملاقات میں ایران میں افغان پناہ گزینوں کے مسائل اور افغانستان میں موجودہ امن عامہ کے صورت حال پر بات چیت کی جائے گی۔

اجلاس کے موقع پر مغربی ایشیا کے امور میں ایران کے نائب وزیر خارجہ رسول موسوی نے خبر دی ہے کہ اس وقت افغانستان کے بیک وقت چار وفود ایرانی وزارت خارجہ کے عہدیداروں کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کا جائزہ لینے اور باہمی تبادلہ خیال کے لئے تہران میں موجود ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  17295
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کا تعلق اعلیٰ سطح پر ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو سے جوڑا جا رہا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکی نائب صدر اور اسرائیلی

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں