Saturday, 17 April, 2021
بھارت کی ناکامی، نیپال کی پارلیمنٹ نے نیا نقشہ منظور کرلیا

بھارت کی ناکامی، نیپال کی پارلیمنٹ نے نیا نقشہ منظور کرلیا

کھٹمنڈو ۔ چین کے بعد نیپال نے بھی بھارت کی نیندیں اڑا دیں، نیپالی پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت سے نیا نقشہ منظور کر لیا گیا۔ لیپولیکھ، لمپیا دھورا اور کالا پانی کے علاقے حصہ قرار، نیپالی فورسز متنازع علاقوں میں داخل ہو گئیں۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق نیپال کی پارلیمنٹ نے دو تہائی اکثریت سے ملک کا نیا نقشہ منظور کر لیا ہے۔ 275 اراکین پارلیمان میں سے 258 نے نقشے کے حق میں ووٹ دیا جبکہ نقشے کی مخالفت میں کوئی ووٹ نہیں پڑا۔

نئے نقشے میں لیپو لیکھ، لمپیا دھورا اور کالا پانی کو نیپال کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ بھارت کالا پانی سمیت دیگر علاقوں پر ملکیت کا دعویدار ہے۔ اس سے قبل نیپال کے وزیراعظم نے بھارت کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنی افواج کو کالا پانی سے ہٹائے، اپنی زمین کا ایک انچ بھی کسی کے قبضے میں نہیں رہنے دیں گے۔

نیپالی وزیراعظم خدگا پرساد اولی نے بھارت کو انتباہی انداز میں کہا کہ ہمیں اپنی سرزمین پر بھارت کا قبضہ برداشت نہیں، ہندوستان فوری طور پر ہمارے علاقے سے نکل جائے۔

یاد رہے کہ چالاک بننے کی کوشش میں ہندوستان نے ملک کا نیا نقشہ چھاپا جس میں ‘’کالا پانی’’ کو اپنا حصہ ظاہر کیا تو نیپالی عوام سڑکوں پر آ گئی اور بھارت کے خلاف بھرپور احتجاج کیا۔ کالا پانی سے بھارت کو نکالو کے نعرے جگہ جگہ گونجنے لگے۔ حکمران عوامی دباؤ میں آئے اور بھارت کو ملک سے نکل جانے کا کہہ ڈالا۔

نیپالی کانگریس کے ترجمان وشو پرکاش شرما نے ٹویٹر پر لکھا تھا کہ پارٹی کے سربراہ شیر بہادر دیوبا نے آل پارٹی میٹنگ میں کہا ہے کہ جس نیپالی سرزمین پر انڈین فوجی ہیں انھیں وہاں سے جانے کے لیے کہا جائے۔

سماج وادی پارٹی نیپال کے رہنما اور سابق وزیر اعظم بابو رام بھٹّارئی نے بھی مطالبہ کیا تھا کہا کہ وزیراعظم اولی انڈین وزیر اعظم نریندر مودی سے کالا پانی کے علاقے کے بارے میں بات کریں۔

کالا پانی تنازع کیا ہے؟
کالا پانی انڈیا کی ریاست اتراکھنڈ کے پتھوڑا گڑھ ضلعے میں 35 مربع کلومیٹر اراضی پر محیط علاقہ ہے۔ یہاں انڈو تبت سرحدی پولیس کے اہلکار تعینات ہیں۔ انڈین ریاست اتراکھنڈ کی سرحد نیپال سے 80.5 کلومیٹر اور چین سے 344 کلومیٹر تک ملتی ہے۔ دریائے کالی کی ابتدا بھی کالا پانی ہے۔ انڈیا نے اس دریا کو بھی نئے نقشے میں شامل کیا ہے۔

1816ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی اور نیپال کے مابین سگولی معاہدہ ہوا تھا۔ اس وقت دریائے کالی کی مغربی سرحد پر مشرقی انڈیا اور نیپال کے مابین نشاندہی کی گئی تھی۔ جب 1962 میں انڈیا اور چین کے مابین جنگ ہوئی تو انڈین فوج نے کالا پانی میں ایک چوکی تعمیر کی تھی۔

نیپال کا دعویٰ ہے کہ ہند چین جنگ سے قبل نیپال نے 1961ء میں یہاں مردم شماری کروائی تھی اور انڈیا نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔ نیپال کا کہنا ہے کہ کالا پانی میں انڈیا کی موجودگی سگولی معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں انڈیا اور نیپال کی سرحد پر فائرنگ سے ایک بھارتی شخص ہلاک، دو زخمی ہو گئے تھے۔ یہ واقعہ انڈیا اور نیپال کی سرحد پر ریاست بہار کے ضلع سیتامڑھی میں پیش آیا۔ مقامی حکام نے فائرنگ سے ایک شخص کے ہلاک جبکہ دو افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

بھارتی پولیس حکام کے مطابق فائرنگ کا یہ واقعہ جمعہ کی صبح ساڑھے آٹھ سے نو بجے کے درمیان انڈیا کی مقامی آبادی اور نیپال پولیس کے درمیان جھڑپ کے بعد پیش آیا۔ ادھر نیپالی حکام کا کہنا ہے کہ ہماری سکیورٹی فورس نے اس وقت گولیاں چلائیں جب کچھ بھارتی شہریوں نے غیر قانونی طور پر داخل ہونے کی کوشش کی۔ بشکریہ دنیا نیوز

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  31452
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
بھارت کے نیپال سے بھی تعلقات کشیدہ ہو گئے ہیں۔ ریڈیو اسٹیشنوں سے بھارت مخالف نغمے نشر ہونے لگے ہیں۔ ایک نجی ٹی وی کے مطابق لداخ کی وادی گلوان میں چین کے ساتھ حالیہ جھڑپوں کے بعد مودی حکومت کی فسطائی پالیسیوں کے باعث بھارت
نیپال کی قومی اسمبلی نے نیا نقشہ منظور کر لیا ہے جس میں بھارت کے زیر قبضہ علاقے کو اپنی حدود کا واضح حصہ دکھایا گیا ہے۔ بھارت نے اپنی مذموم توسیع پسندانہ حکمت عملی پر عمل کرتے ہوئے اس وقت 4 ہمسایہ ممالک پاکستان، چین، نیپال اور بنگلہ
متحدہ عرب امارات اور صیہونی حکومت نے دبئی میں اسرائیل کا عارضی سفارت خانہ کھولنے پر اتفاق کرلیا ہے۔ یوئل ہارون نے بھی اس خبر کی تائید کردی ہے۔ یونیوز نے اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے بتایا ہے کہ تل ابیت اور ابوظہبی کے درمیان ہونے والے اتفاق کے مطابق

مقبول ترین
عوامی نیشنل پارٹی نے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) سے راہیں جدا کرنے کا فیصلہ کرلیا جس کے نتیجے میں اتحاد ٹوٹ گیا اور اے این پی رہنماؤں نے پی ڈی ایم کے تمام عہدے چھوڑ دیے۔ پشاور میں اے این پی کی مرکزی
وفاقی حکومت نے وفاقی وزیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ کو عہدے سے ہٹا دیا جبکہ ان کی جگہ حماد اظہر لیں گے۔ سینیٹر شبلی فراز نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وفاقی وزیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے، جبکہ قلمدان حماد اظہر کو تفویض
لاہور میں موٹروے پر خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے ملزمان کو سزائے موت سنا دی گئی۔میڈیا کے مطابق چند روز قبل موٹروے زیادتی کیس کی سماعت مکمل ہوئی تھی، انسداد دہشت گردی عدالت کے ایڈمن جج ارشد حسین بھٹہ کیمپ جیل میں فیصلہ سنانے
مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں ہونے والے پی ڈی ایم کے اہم اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں میں استعفوں اور لانگ مارچ سے متعلق اختلافات کھل کر سامنے آگئے۔ سربراہی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں