Thursday, 16 April, 2026
پاکستانی معیشت کی بحالی کے لیے بھرپور تعاون کریں گے، امریکا

پاکستانی معیشت کی بحالی کے لیے بھرپور تعاون کریں گے، امریکا

 نیویارک - امریکا نے پاکستان کی نئی حکومت کو معیشت کی بحالی میں بھرپور تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ خوشحال اور مستحکم پاکستان کی تعمیر کے لیے سرمایہ کاری اور تجارتی مواقع بڑھانے کے طریقوں پر دوطرفہ طور پر کام کرتے رہیں گے۔

ڈان ڈاٹ کام کے مطابق امریکا کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکا پاکستان کی معیشت کی تعمیر نو کے لیے حکومت کی کوششوں کی بھرپور حمایت کرے گا۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ڈان اخبار سے بات کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ امریکا خوشحال اور مستحکم پاکستان کی تعمیر کے لیے سرمایہ کاری اور تجارتی مواقع بڑھانے کے طریقوں پر دوطرفہ طور پر کام کرتا رہے گا۔
 
ترجمان نے پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو کی اپنے امریکی ہم منصب سے سلسلہ وار ہونے والی ملاقاتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امریکا پاکستان کے آئی ایم ایف کے ہونے والے مذاکرات کا بھی خیر مقدم کرتا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے یہ بیان اُس وقت سامنے آیا ہے جب وزیر خارجہ بلاول بھٹو خصوصی دورے پر پاکستان سے نیویارک پہنچے ہیں۔ ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو میں بلاول بھٹو نے بتایا کہ عالمی برادری کے سامنے مختلف مسائل پر پاکستان کا نقطہ نظر پیش کرنے آیا ہوں۔

اس دورے میں اقوام متحدہ کے مختلف اجلاسوں میں شرکت کے علاوہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو اپنے امریکی ہم منصب سے بھی دو بدو ملاقات کریں گے اور دورے کے دوران حکومت کی معاشی پالیسی سے متعلق عالمی برادری سے بھی گفتگو کریں گے۔

ادھر واشنگٹن میں آئی ایم ایف کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ایک توسیعی فنڈ سہولت کے تحت 1 بلین ڈالر کی قسط کے اجراء کے معاہدے کے لیے دوحہ میں جائزہ مذاکرات کا آغاز آج سے ہوگا۔

رواں ہفتے جاری رہنے والے اس جائزے میں پاکستان کے پاس آئی ایم ایف کو ڈالر کی قلت سے دوچار معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے 6 بلین ڈالر کے رکے ہوئے پیکج کو بحال کرنے پر راضی کرنے کا نادر موقع ہے۔

دوسری جانب ماہرین کا خیال ہے کہ امریکا نے پاکستان کے لیے  حمایت کا دو ٹوک اظہار کرکے آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کے لیے پاکستان کی کوششوں کو تقویت بخش دی ہے اور اس امریکی حمایت سے پاکستانی اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کے رجحانات کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  59240
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔
صدر ٹرمپ نے اس معاہدے کو امریکہ کی 'سو فیصد کامیابی' قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس جنگ بندی کے نتیجے میں ایران کے یورینیم ذخائر کو اب مؤثر طریقے سے کنٹرول کیا جا سکے گا۔ انہوں نے اس اہم سفارتی پیش رفت میں چین کے کلیدی کردار کا بھی اعتراف کیا، جس نے ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں مدد فراہم کی۔

مقبول ترین
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق اس دستے میں لڑاکا اور معاون طیارے شامل ہیں، جن کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو مضبوط بنانا اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف جنگی تیاریوں کی سطح کو بلند کرنا ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں