Wednesday, 15 April, 2026
حوثی حوثی قبائل کا سعودی عرب کے شہروں، آرامکو کی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ

حوثی حوثی قبائل کا سعودی عرب کے شہروں، آرامکو کی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ

یمن کے حوثی قبائل نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سعودی عرب کے متعدد شہروں اور جدہ میں آرامکو پر 14 ڈرونز فائر کیے۔ خبرایجنسی رائٹرز کے مطابق حوثی قبائل کے عسکری ترجمان یحیٰ ساریا نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ گروپ نے جدہ میں آرامکو کی ریفائنریز، ریاض، جدہ، ابھا، جیزان اور ناجران میں فوجی اہداف پر حملہ کیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ یحیٰ ساریا کے بیان میں نقائص ہیں کیونکہ انہوں نے جدہ ایئرپورٹ کا نام غلط بتایا اور کنگ خالد بیس کا مقام بھی غلط بتایا حالانکہ یہ ملک کے جنوب میں واقع ہے جبکہ ترجمان نے اس کو ریاض میں بتایا۔

آرامکو نے خبرایجنسی کو رابطہ کرنے پر بتایا کہ اس حوالے سے جلد ہی بیان دیا جائے گا۔

دوسری جانب سعودی عرب کی سرکاری خبرایجنسی سعودی پریس نے رپورٹ کیا کہ یمن میں سعودی قیادت میں اتحاد نے حوثی باغیوں کے 13 اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

اتحادیوں نے بتایا کہ کارروائی میں یمن کے صوبوں صنعا، صعدا اور مارب میں حوثی باغیوں کے اسلحے کا ڈپو، فضائی دفاعی نظام اور ڈرونز کمیونیکیشن نظام تباہ کردیے گئے۔

یمن میں حوثی قبائل کے خلاف لڑنے والے اتحادیوں نے گزشتہ روز کہا تھا کہ سعودی عرب کے جنوبی علاقےکی طرف فائر کیے گئے ڈرونز ناکام بنا دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ باغی دو بلیسٹک میزائل داغنے میں ناکام ہوئے اور وہ یمن کے اندر ہی گر گئے۔

خیال رہے کہ حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر یمن سے مسلسل حملے ہوتے رہے ہیں جس میں ڈرونز اور میزائل بھی شامل ہیں، جو یمن میں 2015 میں سعودی اتحادیوں کے حملے کے بعد سے جاری ہیں۔ باغیوں کی جانب سے آرامکو کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے اور مارچ میں بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔

دوسری جانب یمن میں اقوام متحدہ اور امریکا کی جانب سے جنگ بندی کے لیے کوششیں بھی معطل کردی گئی ہیں۔

رواں برس اگست میں سعودی عرب کے صوبہ اسیر میں واقع ابھا ایئرپورٹ پر ڈرون حملے کے نتیجے میں آٹھ افراد زخمی ہو گئے تھے اور ایک طیارے کو نقصان پہنچا تھا۔

یمن کی جنگ 2014 میں شروع ہوئی تھی جب باغیوں نے دارالحکومت صنعا اور ملک کے شمال میں واقع بیشتر حصے پر قبضہ کر لیا تھا، سعودی قیادت میں فوجی اتحاد نے کئی مہینوں بعد حوثیوں کے خاتمے اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی بحالی کے لیے مداخلت کی۔ اس جنگ نے تقریباً ایک لاکھ 30 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور دنیا کے بدترین موجودہ انسانی بحران کو جنم دیا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  79817
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ایران کی ملٹری سینٹرل آپریشنل کمانڈ "خاتم الانبیاء" نے دعویٰ کیا ہے کہ دبئی میں امریکی فوج کے لیے کام کرنے والے یوکرین کے اینٹی ڈرون سسٹم کے ایک ڈپو کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا ہے۔
یوکرین نے روس کے سائبیرین علاقے میں ایک ائیر بیس پر حملے میں جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے بمبار طیاروں کو نشانہ بنایا ہے۔ غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق یوکرین کا یہ حملہ روسی سرحد کے اندر طویل ترین فاصلے تک کیا جانے والا حملہ ہے۔
امریکا نے کہا ہے کہ سعودی عرب ہمارا 8 دہائیوں سے اہم اسٹریجک پارٹنر ہے اور آئندہ آٹھ دہائیاں بھی رہے گا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا کے قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے کہا ہے کہ
ایران اور سعودی عرب نے دو ماہ کے اندر تعلقات کی بحالی اور دہائی سے بند سفارت خانے دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ہونے والے مذاکرات میں سعودی عرب

مقبول ترین
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق اس دستے میں لڑاکا اور معاون طیارے شامل ہیں، جن کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو مضبوط بنانا اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف جنگی تیاریوں کی سطح کو بلند کرنا ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں