Tuesday, 25 August, 2026
طالبان افغانستان کے 19 صوبائی دارالحکومتوں پر قابض

طالبان افغانستان کے 19 صوبائی دارالحکومتوں پر قابض

افغانستان میں طالبان تیزی سے شہروں کا کنٹرول حاصل کرنے لگے،19 صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کر لیا، ہرات کے بعد قندھار اور لشکر گاہ کا بھی کنٹرول حاصل کر لیا ،ہرات میں طالبان سے بر سرپیکار ملیشیا کمانڈر اسماعیل خان، گورنر ہرات اور صوبائی پولیس چیف کو طالبان نے گرفتار کر لیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق طالبان کا شدید ترین مخالف کمانڈر اسماعیل خان کو گرفتار کر لیا گیا۔ ہرات پر قبضے کے بعد طالبان نے اسماعیل خان، گورنر ہرات، نائب وزیر داخلہ اورصوبائی پولیس چیف کو حراست میں لے لیا۔

اسماعیل خان کے ہمراہ لڑنے والے 207 کمانڈوز نے بھی ہتھیار ڈال دیے۔ طالبان نے قیدیوں کو نقصان نہ پہنچانے اور ان سے عزت کے ساتھ پیش آنے کی یقین دہانی کرادی۔

طالبان نے ہرات ائیرپورٹ سے بھارتی لڑاکا طیارہ بھی قبضے میں لے لیا۔ اس سے پہلے قندوز ائیر پورٹ سے بھارتی ہیلی کاپٹر طالبان کے ہاتھ آیا تھا۔ طالبان نے صدر اشرف غنی کے آبائی صوبے لوگر پر بھی مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔ 

افغانستان میں حکام کے مطابق افغان طالبان نے دارالحکومت کابل سے محض 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع صوبہ لوگر کے دارلحکومت پلِ علم پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس سے قبل طالبان نے قندھار اور جنوب میں اہم شہر لشکر گاہ پر بھی قبضہ کرلیا تھا اور افغان سکیورٹی ذرائع نے اس کی تصدیق بھی کردی تھی۔ قندھار اور لشکر گاہ کی فتح کے بعد اب افغانستان کی حکومت کے ہاتھ میں صرف ملک کا دارالحکومت اور دیگر کچھ علاقے باقی بچے ہیں۔

دوحہ میں موجود طالبان ترجمان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ خارجی قوتوں کی جانب سے مسلط کی گئی حکومت کو تسلیم کرنا ان کے اصولوں کے خلاف ہے۔ ادھر برطانوی وزیر دفاع بین والس نے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کو بڑی غلطی قرار دیا۔

ان کا کہنا ہے کہ افواج کی واپسی سے طالبان مضبوط ہو گئے، افغانستان خانہ جنگی کا شکار ناکام ریاست بن چکی ہے وہاں سے القاعدہ کے دوبارہ ابھرنے کا خدشہ ہے جو مغرب کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے طالبان سے سفارتخانے پر حملہ نہ کرنے کی گارنٹی مانگ لی ہے۔امریکا نے افغانستان سے سفارتی عملہ نکالنے کی ہنگامی تیاریاں شروع کر دیں۔ پینٹا گون کے مطابق 3ہزارامریکی فوجی 24سے 48گھنٹے میں کابل پہنچ جائیں گے تاہم یہ فوجی طالبان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہیں کیے جائیں گے۔

ترجمان امریکی دفترخارجہ نیڈ پرائس نے کہا ہے کہ کابل میں سفارت خانہ کھلا رہے گا اورکام جاری رہے گا۔ برطانیہ نے بھی افغانستان سے اپنے شہریوں کو نکالنے کے لیے 600 فوجیوں کو بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ چار ہزار برطانوی شہری اب بھی افغانستان میں مقیم ہیں۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  50297
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ایران نے کبھی بھی مذاکرات کے لیے اسلام آباد جانے سے انکار نہیں کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ امریکی میڈیا کی جانب سے ایرانی موقف کو غلط رنگ میں پیش کیا جا رہا ہے، جس کی وہ سختی سے تردید کرتے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق امریکی تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، تاہم انہیں غیرمناسب قرار دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ اختیار نہیں دے سکتا کہ وہ جنگ کے خاتمے کا وقت مقرر کریں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ انہوں نے روس اور پاکستان کے رہنماؤں سے بات کرتے ہوئے خطے میں امن کے لیے ایران کے عزم کا دوبارہ اعادہ کیا ہے، اس جنگ کو صہیونی حکومت اور امریکا واسرائیل نے بھڑکایا ہے، اس کو ختم کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے
افغانستان کے وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند کی بیماری کی وجہ سے طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ نے بدھ کے روز مولوی عبدالکبیر کو افغانستان کا قائم مقام وزیر اعظم مقرر کردیا۔

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں