Saturday, 27 June, 2026
ملی یک جہتی کونسل پاکستان

ملی یک جہتی کونسل پاکستان
تحریر: منیر احمد خلیلی

 

ہمارے ملک میں مدت سے فرقوں کی بنیاد پر  ایک ایک مسلک کے کئی کئی دیو بندی، بریلوی، اہل حدیث اور شیعہ دھڑے موجود رہے ہیں۔ ہر دھڑا اپنے آپ کو اپنے فرقے کا نمائندہ ثابت کرتا ہے۔ فرقہ واریت بجائے خود اسلام کے امیج کو بری طرح مجروح کرتی اور ملت کے ضعف کا سبب بنتی ہے۔ فرقہ وارانہ دہشت گردی کے عفریت نے خوف و دہشت اور خون ریزی کا جو کھیل پچھلے تیس چالیس سال میں کھیلا اس نے ہمارے وطن کی کمر بھی توڑ دی۔ 

'مِلّی یک جہتی کونسل' بڑے نیک مقاصد کے تحت وجود میں آئی تھی۔ اس کا مقصد فرقہ واریت کی بنیاد پر تعصبات اور منافرتوں کو کم کرنا اور ملّتِ اسلامیہ پاکستان میں یکجہتی کی فضا قائم کرنا تھا۔ اس نے بڑے نازک حالات میں بہت موثر انداز میں کام شروع کیا تھا۔ قاضی حسین احمد رح اور مولانا شاہ احمد نورانی رح جیسی بلند پایہ شخصیتیں اس کی قیادت پر فائز تھیں اور ان کی آواز اندرون و بیرون ملک سنی اور مانی جاتی تھی۔

ہمارے ملک کے مخلتف مذہبی فرقوں کے اندر ٹوٹ پھوٹ کا عمل جاری رہتا ہے اور فرقوں کی قیادت بھی اس حساب سے اِدھر اُدھر ہوتی رہتی ہے۔ بریلوی مکتب فکر میں علامہ شاہ احمد نورانی کی جمعیت علمائے پاکستان کئی ٹکڑوں میں بٹی اور فرقہ کے اندر اثر و اقتدار ثروت قادری کی سُنّی تحریک کے ہاتھ چلا گیا۔ ایک وقت تھا کہ اس کے اثر سے ہر طرف ہری پگڑیوں کی بہار دیکھنے میں آتی تھی۔ اس سے بھی کچھ پہلے اسی فرقہ میں ڈاکٹر طاہر القادری چھائے ہوئے نظر آتے تھے۔ ثروت قادری کراچی میں محدود ہو گئے اور ان کی تنظیم میں ایم کیو ایم کے بھگوڑوں نے پناہ لینی شروع کر دی تو اس کی پذیرائی بھی ختم ہو گئی۔

اسی دوران میں ممتاز قادری کے ہاتھوں سلمان تاثیر کا قتل ہوا۔ ممتاز قادری کو سزائے موت سنائی گئی۔ جب تک معاملہ عدالت میں رہا ان کے حق میں کوئی طاقتور آواز نہ اٹھی لیکن ان کی شہادت کے بعد مولانا خادم رضوی مرحوم کی سربراہی میں 'تحریک لبیک یا رسول اللہ' ایک نئے phenomenon کی صورت میں نمودار ہوئی چھا گئی۔ اس نے عملا پورے بریلوی مکتب فکر کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔

 ملی یکہجتی کونسل کی تشکیل کے وقت شیعہ گروپ میں   علامہ ساجد نقوی کی قیادت میں 'تحریک نفاذ فقہ جعفریہ' مرکزی حیثیت رکھتی تھی لیکن 'جمعیت علمائے پاکستان' کی طرح یہ فرقہ بھی شکست و ریخت سے گزرتا ہوا اس مقام پر پہنچا کہ اس کا اقتدار علامہ راجہ ناصر کی 'مجلس وحدت المسلمین' کے ہاتھ آ گیا۔ اب وہی اپنے فرقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔

'ملی یک جہتی کونسل' میں اس وقت کسی بھی مسلک کا تسلیم شدہ با اثر اور مضبوط و موثر رائے رکھنے والا دھڑا شامل نہیں ہے۔ یہ سکڑتی سکڑتی اب پنجاب تک محدود ہوتی جا رہی ہے۔ جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ اس میں اس وقت واحد قومی سطح کے رہنما ہیں باقی سب اپنے اپنے فرقے کے کسی چھوٹے یونٹ کے نمائندہ ہیں۔

'ملی یک جہتی کونسل' کے کرنے کا اصل کام یہ تھا کہ یہ ایک علمی و فکری اور فقہی و تحقیقی اور اجتہادی ادارے میں ڈھلتی اور پوری امت کو اعتقادی اور فکری و نظریاتی طور پر قریب کرتی۔ اس کے کرنے کا ایک اور بہت بڑا کام یہ ہے کہ کسی دور میں ملک کے عظیم علماء کے پیش کردہ 22 نکات کے فریم ورک کے اندر فرقوں میں ہم آہنگی اور قربت کا کوئی جامع پروگرام پیش کرتی۔ لیکن ہم اسے محدود سے محدود تر ہوتا ہوا دیکھتے ہیں۔ یہ ہر دو چار ماہ بعد 'نشستند گفتند برخاستند' کی حد تک کوئی میٹنگ کرتی ہے اور کیک پیسٹری کھا کر اگلے اجلاس تک فارغ ہو جاتی ہے۔ 

پوری ملت کے اندر یکجہتی تو دور کی بات ہے اس کے اندر اتنی صلاحیت بھی نہیں ہے کہ یہ بریلوی ٹکڑوں، دیوبندی دھڑوں، شیعہ اجزا اور اہل حدیث ٹکڑیوں کو یکجا کر کے ان فرقوں کی اندرونی ٹوٹ پھوٹ کو ختم کرے۔ اس کی موجودہ ہیئت ایسی ہے کہ جو دیو بندی، بریلوی اور شیعہ اور اہل حدیث ٹکڑے اس میں نمائندگی کر رہے ہیں ان کو یہ مکاتیب فکر اپنا حقیقی نمائندہ سمجھتے ہی نہیں۔ ایسی صورت میں یہ ایک قومی فورم کا درجہ کیسے حاصل کر سکتی ہے؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  7654
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی ایران سے زیادہ امریکی اور اسرائیلی ضرورت تھی مگر یہ جنگ بندی قائم نہیں رہ پائے گی - امریکہ، اسرائیل اور مغربی ممالک دوبارہ ایران پر حملہ آور ہوں گے مگر اسکے لئے کوئی نیا راستہ اختیار کریں گے اور پہلے سے ذیادہ تیاری اور شدت سے ایران کو تباہ کرنے کی کوشش کریں گے-
اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف صیہونی حکومت اور امریکہ کی جارحیت کے آغاز کو تیں ہفتے سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ ایک ایسی جارحیت جو گزشتہ نو ماہ قبل کی طرح ہوئی ہے۔جب اسلامی جمہوریہ ایران مغربی ایشیائی خطے میں پائیدار امن کے لیے ایک متوازن
قرآنِ کریم میں متعدد مقامات پر امت ِ مسلمہ کے چار فرائض بیان کیے گئے ہیں: نیکی کا حکم دینا، برائی سے روکنا، نیکی کے کاموں میں تعاون اور گناہ کے کاموں میں عدمِ تعاون، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ’’جو امتیں لوگوں
آج آفس سے گھر آیا تو ٹی وی پر افواج پاکستان کے ترجمان کی پریس کانفرنس جاری تھی اور بار بار ٹی وی اسکرین پر یہ ٹکر چل رہا تھا کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔۔۔۔ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے۔۔۔۔۔ ڈی جی آئی ایس پی آر

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں