Saturday, 31 July, 2021
ملی یک جہتی کونسل پاکستان

ملی یک جہتی کونسل پاکستان
تحریر: منیر احمد خلیلی

 

ہمارے ملک میں مدت سے فرقوں کی بنیاد پر  ایک ایک مسلک کے کئی کئی دیو بندی، بریلوی، اہل حدیث اور شیعہ دھڑے موجود رہے ہیں۔ ہر دھڑا اپنے آپ کو اپنے فرقے کا نمائندہ ثابت کرتا ہے۔ فرقہ واریت بجائے خود اسلام کے امیج کو بری طرح مجروح کرتی اور ملت کے ضعف کا سبب بنتی ہے۔ فرقہ وارانہ دہشت گردی کے عفریت نے خوف و دہشت اور خون ریزی کا جو کھیل پچھلے تیس چالیس سال میں کھیلا اس نے ہمارے وطن کی کمر بھی توڑ دی۔ 

'مِلّی یک جہتی کونسل' بڑے نیک مقاصد کے تحت وجود میں آئی تھی۔ اس کا مقصد فرقہ واریت کی بنیاد پر تعصبات اور منافرتوں کو کم کرنا اور ملّتِ اسلامیہ پاکستان میں یکجہتی کی فضا قائم کرنا تھا۔ اس نے بڑے نازک حالات میں بہت موثر انداز میں کام شروع کیا تھا۔ قاضی حسین احمد رح اور مولانا شاہ احمد نورانی رح جیسی بلند پایہ شخصیتیں اس کی قیادت پر فائز تھیں اور ان کی آواز اندرون و بیرون ملک سنی اور مانی جاتی تھی۔

ہمارے ملک کے مخلتف مذہبی فرقوں کے اندر ٹوٹ پھوٹ کا عمل جاری رہتا ہے اور فرقوں کی قیادت بھی اس حساب سے اِدھر اُدھر ہوتی رہتی ہے۔ بریلوی مکتب فکر میں علامہ شاہ احمد نورانی کی جمعیت علمائے پاکستان کئی ٹکڑوں میں بٹی اور فرقہ کے اندر اثر و اقتدار ثروت قادری کی سُنّی تحریک کے ہاتھ چلا گیا۔ ایک وقت تھا کہ اس کے اثر سے ہر طرف ہری پگڑیوں کی بہار دیکھنے میں آتی تھی۔ اس سے بھی کچھ پہلے اسی فرقہ میں ڈاکٹر طاہر القادری چھائے ہوئے نظر آتے تھے۔ ثروت قادری کراچی میں محدود ہو گئے اور ان کی تنظیم میں ایم کیو ایم کے بھگوڑوں نے پناہ لینی شروع کر دی تو اس کی پذیرائی بھی ختم ہو گئی۔

اسی دوران میں ممتاز قادری کے ہاتھوں سلمان تاثیر کا قتل ہوا۔ ممتاز قادری کو سزائے موت سنائی گئی۔ جب تک معاملہ عدالت میں رہا ان کے حق میں کوئی طاقتور آواز نہ اٹھی لیکن ان کی شہادت کے بعد مولانا خادم رضوی مرحوم کی سربراہی میں 'تحریک لبیک یا رسول اللہ' ایک نئے phenomenon کی صورت میں نمودار ہوئی چھا گئی۔ اس نے عملا پورے بریلوی مکتب فکر کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔

 ملی یکہجتی کونسل کی تشکیل کے وقت شیعہ گروپ میں   علامہ ساجد نقوی کی قیادت میں 'تحریک نفاذ فقہ جعفریہ' مرکزی حیثیت رکھتی تھی لیکن 'جمعیت علمائے پاکستان' کی طرح یہ فرقہ بھی شکست و ریخت سے گزرتا ہوا اس مقام پر پہنچا کہ اس کا اقتدار علامہ راجہ ناصر کی 'مجلس وحدت المسلمین' کے ہاتھ آ گیا۔ اب وہی اپنے فرقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔

'ملی یک جہتی کونسل' میں اس وقت کسی بھی مسلک کا تسلیم شدہ با اثر اور مضبوط و موثر رائے رکھنے والا دھڑا شامل نہیں ہے۔ یہ سکڑتی سکڑتی اب پنجاب تک محدود ہوتی جا رہی ہے۔ جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ اس میں اس وقت واحد قومی سطح کے رہنما ہیں باقی سب اپنے اپنے فرقے کے کسی چھوٹے یونٹ کے نمائندہ ہیں۔

'ملی یک جہتی کونسل' کے کرنے کا اصل کام یہ تھا کہ یہ ایک علمی و فکری اور فقہی و تحقیقی اور اجتہادی ادارے میں ڈھلتی اور پوری امت کو اعتقادی اور فکری و نظریاتی طور پر قریب کرتی۔ اس کے کرنے کا ایک اور بہت بڑا کام یہ ہے کہ کسی دور میں ملک کے عظیم علماء کے پیش کردہ 22 نکات کے فریم ورک کے اندر فرقوں میں ہم آہنگی اور قربت کا کوئی جامع پروگرام پیش کرتی۔ لیکن ہم اسے محدود سے محدود تر ہوتا ہوا دیکھتے ہیں۔ یہ ہر دو چار ماہ بعد 'نشستند گفتند برخاستند' کی حد تک کوئی میٹنگ کرتی ہے اور کیک پیسٹری کھا کر اگلے اجلاس تک فارغ ہو جاتی ہے۔ 

پوری ملت کے اندر یکجہتی تو دور کی بات ہے اس کے اندر اتنی صلاحیت بھی نہیں ہے کہ یہ بریلوی ٹکڑوں، دیوبندی دھڑوں، شیعہ اجزا اور اہل حدیث ٹکڑیوں کو یکجا کر کے ان فرقوں کی اندرونی ٹوٹ پھوٹ کو ختم کرے۔ اس کی موجودہ ہیئت ایسی ہے کہ جو دیو بندی، بریلوی اور شیعہ اور اہل حدیث ٹکڑے اس میں نمائندگی کر رہے ہیں ان کو یہ مکاتیب فکر اپنا حقیقی نمائندہ سمجھتے ہی نہیں۔ ایسی صورت میں یہ ایک قومی فورم کا درجہ کیسے حاصل کر سکتی ہے؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  76917
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
یہ خبر ہر پاکستانی کیلئے اتنی تکلیف دہ تھی کہ جیسے اسے زندہ کھولتے ہوئے تیل میں ڈال دیا گیا ہو اس خبر کو سوشل میڈیا پر انتہائی منظم طریقے سے پھیلایا گیا لمحوں میں یہ افواہ ٹاپ ٹرینڈ بن گئی کہ ایف اے ٹی ایف کے معاملہ میں سعودی عرب نے پاکستان کے خلاف
25 مئی 2020 امریکی ریاست مینیسوٹا میں سیاہ فام جارج فلائیڈ کی سفید فام پولیس افسر کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد سے امریکہ بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکی پولیس کے ایسے مظالم طویل عرصے سے جاری ہیں۔
افغانستان میں قتل وغارت گری کے حالیہ واقعات نے طویل عرصے سے جنگ سے تباہ حال ملک بارے امن کی امید کو ناامیدی میں بدل رہے ہیں، کابل میں زچہ وبچہ وارڈ میں ماؤں اور نونہالوں کا قتل جاری خون ریزی کے بدترین واقعات میں اپنی جگہ بنا گیا ، ایک بار پھر یہ تاثر مضبوط ہوا کہ دہشت گرد عناصر کسی مذہبی و اخلاقی اصول پر پورے نہیں اترتے،
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے 2017ء میں سعودی عرب کی ترقی کے لیے ایک بہت بڑا اور مہنگا منصوبہ پیش کیا، جس کا عنوان وژن 2030ء رکھا گیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ یہ پراجیکٹ جدید معیارات کے مطابق اور ترقی یافتہ ٹیکنالوجی کا شاہکار ہوگا۔ اس کے ذریعے سعودی عرب کی آمدنی کا تیل پر انحصار ختم کر دیا جائے گا۔ اس منصوبے کے تحت بحیرہ احمر کے کنارے 12 شہروں کو بسایا جانا ہے، اسے نیوم پراجیکٹ کہتے ہیں۔

مقبول ترین
- وزیراعظم عمران خان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ افغانستان کے معاملے پر پاکستان پر بہت بڑا پریشر آئے گا، ہم دباؤ میں آنے کے بجائے عوام کی بہتری کے لیے فیصلے کریں گے۔ وزیراعظم نے یہ بات اسلام آباد میں اپنے زیر صدارت حکومتی رہنماؤں کے ایک اہم اجلاس سے خطاب میں کہی۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جب لاکھوں امریکی و نیٹو فوجی افغانستان میں تھے تب طالبان سے مذاکرات کرنے چاہیے تھے اب جب طالبان کو افغانستان میں فتح نظر آرہی ہے تو وہ ہماری بات کیوں سنیں گے۔ تاشقند میں وسطی اور جنوبی ایشیا رابطہ ممالک کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے
افغانستان میں قیام امن اور خطے میں تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے پاکستان، امریکا، افغانستان اور ازبکستان پر مشتمل سفارتی پلیٹ فارم قائم کردیا گیا۔ امریکی دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق سفارتی پلیٹ فارم کا قیام تاشقند میں جاری سنٹرل اینڈ ساؤتھ ایشیا کانفرنس کے موقع پر عمل میں آیا۔
کروڑوں دلوں پر راج کرنے والے برصغیرکے مایہ ناز اداکار اوربالی ووڈ کے شہنشاہ جذبات اداکار دلیپ کمار 98 برس کی عمر میں انتقال کر گئے، انہوں نے 65 سے زائد فلموں میں لازوال کردار نبھائے۔ ایک اور عہد تمام، یوسف خان عرف دلیپ کمار خالق حقیقی سے جا ملے، وہ طویل عرصے سے ممبئی

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں