Saturday, 28 March, 2026
پاکستان اور عالمی اداروں کی پیش گوئیاں

پاکستان اور عالمی اداروں کی پیش گوئیاں
قاضی جاوید کا کالم

 

ملک میں نئی سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع پید ا نہ ہونے سے مہنگائی سمیت بے روزگاری کا خوفناک سیلاب آرہا ہے جس سے نمٹنے کی حکومت کی کوئی تیاری نہیں ہے، ایک جانب آئی ایم ایف ملک کو نئے شکنجے میں جکڑنے کی تیاری کررہا ہے تو دوسری جانب ہمارے سیاستدان ملک کی بہتری کے لیے اپنے اختلافات ختم کرنے کو تیار نہیں ہیں اس کی وجہ سے عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز، برطانوی جریدے دی اکانومسٹ،بلومبرگ اور چین رواں سال کے دوران پاکستان کے ڈیفالٹ کی خبریں دے رہے ہیں اس میں کیا حقیقت اور کیا فسانہ ہے اس سے قطع نظر ملک میں جاری فساد کو دیکھا جائے تو اس سے پتا چلتا ہے کہ پاکستان کی معیشت کہاں کھڑی ہے۔ اس بارے میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے کہ چینی وزیر خارجہ چن گانگ نے پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو اتفاق رائے کا مشورہ دے دیا۔ چین کے سرکاری ترجمان نے پاکستان کے بارے میں رپورٹ شائع کی تھی لیکن بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق سنگاپور میں ریٹنگ ایجنسی کے تجزیہ کار گریس لِم نے بتایا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان جون میں ختم ہونے والے موجودہ مالی سال میں باقی غیر ملکی ادائیگیاں کر دے گا، لیکن جون کے بعد پاکستان کی فنانسنگ کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال ہے، پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کے بغیر ڈیفالٹ کرسکتا ہے کیونکہ اس کے ذرمبادلہ کے ذخائر بہت کمزور ہیں۔
اس سے چند دن قبل عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پیش گوئی کی ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کے بغیر ڈیفالٹ کرسکتا ہے۔ معیشتوں کی درجہ بندی کرنے والے ادارے موڈیز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کے بغیر ڈیفالٹ کرسکتا ہے، کیوں کہ جون کے بعد مالیاتی مواقع انتہائی غیر یقینی ہیں۔ آئی ایم ایف پروگرام کے بغیر پاکستان اپنے انتہائی کمزور ذخائر کی وجہ سے ڈیفالٹ کر سکتا ہے۔ موڈیز انویسٹرز کے مطابق پاکستان آئی ایم ایف سے 6.5 بلین ڈالر کے بیل آئوٹ پروگرام کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے سخت تگ و دو کررہا ہے، یہ پروگرام حکومت کی جانب سے قرض کی کچھ شرائط کو پورا کرنے میں ناکام ہونے کے بعد رک گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روان برس پاکستان میں ہونے والے انتخابات سے قبل سیاسی عدم استحکام آئی ایم ایف سے قرضے میں تاخیر کے خطرے میں اضافہ کررہا ہے، کیونکہ سابق وزیر اعظم عمران خان حکومت اور پاک فوج کے خلاف پیچھے ہٹتے دکھائی نہیں دے رہے۔ موڈیز کے تجزیہ کار گریس لِم نے گزشتہ روز ایک ای میل کے جواب میں کہا کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر جو 4.5 ارب ڈالر ہیں انتہائی کم ہیں اور صرف ایک ماہ کی درآمدات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہیں، تاہم جون کے بعد بھی آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت سے دیگر کثیر الجہتی اور دوطرفہ شراکت داروں سے اضافی مالی اعانت میں مدد ملے گی، جس سے ڈیفالٹ کے خطرے کو کم کیا جاسکتا ہے۔ ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز کے مطابق کرنٹ اکائونٹ وصولیوں اور قابل استعمال ذخائر کے تناسب سے پاکستان کی مجموعی بیرونی فنانسنگ کی ضروریات کا تخمینہ مالی سال 2024 میں 139.5 فی صد تک بڑھنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جو 2023 میں 133 فی صد تھا۔

برطانوی جریدے دی اکانومسٹ کی جانب سے 2024 کی ابتداء میں پاکستان کے دیوالیہ ہوجانے کی رپورٹ انتہائی تشویشناک ہے، اس رپورٹ سے پتا چلتا ہے کہ مغربی ممالک میں پاکستان کے بارے میں کیا خیالات ہیں۔ دی اکانومسٹ کی رائے کو عالمی سطح پر بہت اہم سمجھا جاتا ہے، اس ادارے نے پاکستان کے بارے میں 43 صفحات پر مشتمل رپورٹ شائع کی ہے جو سیاستدانوں، عدلیہ اور اشرافیہ سمیت سب کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مہنگائی اور ضروریات زندگی کی کمیابی پر مظاہرے جاری رہیں گے جبکہ سیاسی عدم استحکام بھی جاری رہے گا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پالیسی سازی کے عمل میں مداخلت جاری رہے گی جبکہ حکومت مختلف ذرائع سے قرض کے حصول کے لیے کوششیں جاری رکھے گی اور حکومت اپنی آمدنی بڑھانے کے لیے گیس اور بجلی کی قیمت میں اضافہ بھی کرے گی۔ حکومت کی آمدنی کم اور خسارہ زیادہ ہو گا جبکہ اسے سیلاب متاثرین کی بحالی پر بھی بھاری اخراجات کرنا ہوں گے۔

دی اکنانومسٹ کے مطابق مہنگائی کا مسئلہ ختم نہیں ہو گا جبکہ مرکزی بینک کو شرح سود میں کم ازکم دوبار اضافہ کرنا ہوگا جس سے تمام سابقہ ریکارڈ ٹوٹ جائیں گے۔ چین اور پاکستان کی اقتصادی اور اسٹرٹیجک پارٹنر شپ جاری رہے گی تاہم اس کی جانب سے قرضے ملنا کم ہو جائیں گے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات سے تعلقات کو بہتر رکھے گا تاکہ مسائل سے نکلنے کے لیے قرضے لے سکے اور اپنے زرمبادلہ کے ذخائر بہتر بنا سکے۔ رپورٹ سے پتا چلتا ہے کہ پاکستان میں معاشی اصلاحات میں مزید تاخیر انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ دنیا اب پاکستان کو مزید قرضے دینے کو تیار نہیں ہے۔ پاکستان کے لیے ناکام سرکاری اداروں کو پرائیویٹائز کرنا، بجلی اور گیس سیکٹر کے نقصانات کا خاتمہ، امپورٹ کے متبادل تلاش کرنا، زرعی اصلاحات اور ایکسپورٹس میں اضافہ ناگزیر ہوچکا ہے۔ اگر سیاسی انتشار کو اب بھی نکیل نہ ڈالی گئی تو عوام کو ناقابل بیان مصائب بھگتنا ہوں گے اور ہمیں تاعمر پچھتانا ہوگا۔

رواں مالی سال مارچ 2023 میں گزشتہ برس 2022 کی نسبت مہنگائی کی شرح میں 36 فی صد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور یہ گزشتہ 51 برسوں میں مہنگائی کی بلند ترین سطح ہے، اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی مہنگائی پر توقعات کے مطابق قابو نہیں پا سکی، امریکی ڈالر کے مقابلے میں ملکی کرنسی روپے کی قدر میں مسلسل کمی سے ملکی معیشت کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر بھی کم ہورہے ہیں اور اطلاعات ہیں کہ زر مبادلہ کے ذخائر صرف چار ہفتوں کی درآمدی ضروریات کو پورا کرسکیں گے جو تشویش کا باعث ہے۔ کیپٹن عبدالرشید ابڑو نے کہا کہ پاکستانی معیشت کو پچھلے سال اگست میں آنے والے تباہ کن سیلاب کی وجہ سے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا تھا اور حکومت نے 170 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگائے، پاکستان کو آئی اہم ایف سے قرض کی قسط کا انتظار ہے لیکن پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان قرض پروگرام تاحال تاخیر کا شکار ہے، اور اطلاعات ہیں کہ آئی ایم ایف بورڈ کے اجلاسوں کا جو شیڈول جاری کیا گیا ہے تو آئی ایم ایف کے 17 مئی تک اجلاس میں پاکستان کا معاملہ ایجنڈے میں شامل نہیں ہے، آئی ایم ایف نے پاکستان سے پالیسی ریٹ مزید بڑھانے کا مطالبہ کردیا، تمام تر مطالبات پورے کیے جانے کے باوجود نیا وفاقی بجٹ ایک بار پھر آئی ایم ایف کی توقعات کو پورا کرے گا یعنی نئے ٹیکسوں سے ملک کے غریب اور متوسط طبقے کا جینا دو بھر کیا جائے گا۔ پاکستان اپنی تاریخ کے سب سے بدترین معاشی بحران کی زد میں ہے اور ان مشکل حالات میں ہمارے حکمرانوں اور سیاستدانوں کو ایک میز پر بیٹھ کر ملک کے بہتر مفاد میں فیصلے کرنا ہوں گے۔ لیکن پاکستان کا ڈیفالٹ ہونا چین، امریکا، بھارت، روس اور سعودی عرب و امارات کے لیے نیک شگون ثابت نہیں ہو سکتا اور یہی چیز پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ بشکریہ روزنامہ جسارت

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  52803
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
اپنے ملک کی املاک اپنے ہی لوگوں کے ہاتھوں برباد ہوتے دیکھنا کس قدر اذیت ناک ہے۔ نجانے ملک کی شاہراہوں، گاڑیوں، عمارتوں اور دفاتر کواپنے ہاتھ سے آگ کی چنگاری کے حوالے کرکے شعلوں کے ساتھ ناچنے والے لوگ کس
آج آفس سے گھر آیا تو ٹی وی پر افواج پاکستان کے ترجمان کی پریس کانفرنس جاری تھی اور بار بار ٹی وی اسکرین پر یہ ٹکر چل رہا تھا کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔۔۔۔ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے۔۔۔۔۔ ڈی جی آئی ایس پی آر
چولستان میں خشک سالی نے زندگی کو معدوم کرکے رکھ دیا ہے ۔66 لاکھ ایکٹرپر مشتمل یہ علاقہ رواں ماہ سے بارشیں نہ ہونے کی بناء پر پانی کی شدید قلت سے دوچار ہے ۔یہاں چرند ،پرند ،جانور اور انسان پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔
پاکستان میں ایک بہت ہی مرغوب اور من بھاتاکھاجاہے:''سازش''۔ یہ ایسی چیونگم ہے جسے سبھی شوق سے چباتے ہیں۔ اس کے کئی فلیورزہیں۔ امریکی سازش، بھارتی سازش، یہودی سازش،یورپی سازش وغیرہ۔سازشی تھیوری کے بغیر

مقبول ترین
عالمی میڈیا کے مطابق جنگ کے آغاز سے قبل اس آبی راستے سے روزانہ تقریباً 135 جہاز گزرتے تھے، لیکن یکم مارچ سے 25 مارچ تک یہاں سے صرف 116 جہاز گزرے۔ زیادہ تر جہاز چین، بھارت اور خلیجی ممالک سے تعلق رکھتے تھے، جبکہ بعض ‘ڈارک فلیٹ’ کے جہاز بھی شامل تھے، جن پر مغربی پابندیاں عائد ہیں۔
امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کا تعلق اعلیٰ سطح پر ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو سے جوڑا جا رہا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکی نائب صدر اور اسرائیلی
وزیراعظم نے کہا کہ متعلقہ حکام کی جانب سے پیش کی گئی قیمتوں میں اضافے کی سمری مسترد کر دی گئی، جس میں پیٹرول کی قیمت 95 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 203 روپے فی لیٹر کرنے کی تجویز شامل تھی۔
اجلاس میں عوامی مفاد کو مقدم رکھنے اور معاشی و توانائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ تیل و گیس کی عالمی قیمتوں کے اثرات اور مہنگائی پر قابو پانے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں