![]() |
اے میرے اوورسیز پاکستانی بھائیو اور وطنِ عزیز کے ذمہ داران! کیا ہماری آواز سننے والا کوئی ہے؟ کیا ہمارے مسائل اور تکالیف پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے؟
ہم اوورسیز پاکستانی اپنے پیارے وطن سے دور رہ کر محنت و مشقت کی زندگی گزارتے ہیں۔ ہم اپنے خاندان کی کفالت اور ملک کی ترقی میں حصہ ڈالنے کے لیے دن رات محنت کرتے ہیں۔ پردیس میں مختلف مشکلات اور چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے بھی ہم پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
عام طور پر کہا جاتا ہے کہ وطن ماں کی مانند ہوتا ہے، مگر بدقسمتی سے ہمیں اپنے ہی ملک کے بعض اداروں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کئی مواقع پر سرکاری امور کی انجام دہی کے لیے غیر ضروری تاخیر اور نامناسب رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے دل آزاری ہوتی ہے۔ جب ہم اپنے جائز حقوق کی بات کرتے ہیں تو اکثر ہمیں سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔
اوورسیز پاکستانی بیرونِ ملک سخت موسمی حالات اور اجنبی ماحول میں رہ کر اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔ اس دوران ہم اپنے پیاروں سے دوری، خوشی اور غم کے مواقع پر عدم موجودگی جیسے کربناک لمحات بھی برداشت کرتے ہیں۔ ان قربانیوں کے باوجود اگر ہمیں اپنے ہی ملک میں مسائل کا سامنا ہو تو یہ نہایت افسوسناک ہے۔
ہم ہر سال اربوں ڈالر کا زرمبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں اور ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے باوجود اگر ہمیں بنیادی سہولیات کے حصول میں مشکلات پیش آئیں تو یہ ایک قابلِ توجہ مسئلہ ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کو سنجیدگی سے سنا جائے اور ان کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ ایک ایسا نظام تشکیل دیا جائے جو شفاف ہو، جہاں رشوت یا سفارش کی گنجائش نہ ہو، اور جہاں ہر شہری کو عزت اور انصاف کے ساتھ خدمات فراہم کی جائیں۔
ہم حکومتِ وقت اور متعلقہ اداروں سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں، ان کے مسائل کے حل کے لیے مؤثر نمائندگی فراہم کی جائے، اور ایسا ادارہ قائم کیا جائے جہاں ان کے کام باوقار اور آسان طریقے سے انجام پائیں۔
ہمیں یقین ہے کہ اگر ہماری آواز سنی جائے اور ہمارے مسائل کا سنجیدہ حل نکالا جائے تو ہم مزید مؤثر انداز میں اپنے وطن کی خدمت جاری رکھ سکیں گے۔
(چوہدری محمد وقاص گل)
چیئرمین، گلوبل اوورسیز گروپ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ