Tuesday, 21 April, 2026
جو ہونا تھا وہ ہوچکا، اب حالات بہتری کی طرف جائیں گے، اسحاق ڈار

جو ہونا تھا وہ ہوچکا، اب حالات بہتری کی طرف جائیں گے، اسحاق ڈار

اسلام آباد - وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ بہت مشکل اصلاحات ہوچکی ہیں اور آئی ایم ایف معاہدے کی تاخیر میں کوئی تکنیکی وجہ نہیں۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام سب سے نقصان دہ چیز ہے، حکومت اب تک معیشت میں جدوجہد کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بڑا مشکل فیصلہ تھا کہ گزشتہ حکومت کو چلنے دیں اور تباہی ہوجائے یا پھر فیصلہ لیا جائے، پھر سب جماعتوں نے مل کر فیصلہ کیاکہ سیاست ہوتی رہتی ہے، پی ڈی ایم کی تمام جماعتوں نے لبیک کہا تو ہم نے ذمہ داری لے لی، پہلے 1998، پھر 2013 اور آج پھر ملک کو ہماری ضرورت ہے۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ جو نقصان ہونا تھا وہ ہوچکا، اب حالات بہتری کی طرف جائیں گے، پاکستان نے سروائیو کرنا ہے اور ہم نے مل کر چیلنج کا سامنا کیا مزید بھی کریں گے، بہت مشکل اصلاحات ہوچکیں، آئی ایم ایف معاہدے کی تاخیر میں کوئی تکنیکی وجہ نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہماری سب سے پہلی ترجیح ہے کہ پاکستان کی کسی کمٹمنٹ میں تاخیر نہ ہو، کوشش ہے غیر ملکی ادائیگیاں وقت پر ہوں اور کر بھی رہے ہیں، کچھ لوگوں کو شوق ہے وہ ڈیفالٹ کی تاریخیں دیتے رہتے ہیں ان کو شرم آنی چاہیے، بجائے لوگوں کو امید اور تسلی دینے کے تاریخیں دے رہے ہیں، باہر تو کوئی نہیں کہہ رہا ہےکہ پاکستان ڈیفالٹ کرے گا، ایم ڈی آئی ایم ایف نے کہا کہ پاکستان ڈیفالٹ نہیں کرے گا۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ہمیں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، معاشی ٹیم پوری کوشش کررہی ہے، ہم اس مسئلے سے نکلیں، آئندہ ہفتوں میں نئے آئیڈیاز ہونگے اور بجٹ بھی ہوگا اس کے بعد لانگ ٹرم کے لیے کچھ اور کام ہونگے، پاکستان میں اب وہ چیزیں ہونگی جس کا یہ حقدار ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ ایک روز میں سارے مسائل حل نہیں ہوسکتے ، ملکی معیشت مشکل کا شکار ہے لیکن بہتری کی امید ہے، قرض زیادہ ہے لیکن ملک کے پاس قیمتی اثاثے ہیں اس میں اضافہ ہواہے، اس لیے ناامیدی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  35199
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ایک طرف جہاں پاکستان کی ثالثی سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، وہیں دوسری جانب اسرائیل نے لبنان پر حملوں میں شدید اضافہ کر دیا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فورسز کی وحشیانہ کارروائیوں میں 254 لبنانی شہری شہید ہو گئے ہیں،
امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد خلیجی ممالک سمیت عالمی برادری نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔ عالمی رہنماؤں نے اسے خطے میں امن و استحکام کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے پاکستان کے کلیدی کردار کو تسلیم کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کے بعد بڑے ریلیف پیکج کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعظم نے پٹرولیم لیوی میں 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد پٹرول کی قیمت 458 روپے سے کم ہو کر 378 روپے پر آ گئی ہے۔
خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں کے تھانہ ڈومیل پر خوارج کا بزدلانہ خودکش حملہ ناکام بنا دیا گیا، 10 شہری شہید اور 4 زخمی ہو گئے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور نے تھانے کے باہر سول آبادی کو نشانہ بنا ڈالا، خودکش حملے میں شہید ہونے والوں میں7 خواتین ، ایک بچہ اور2مرد شامل ہیں۔

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں