Thursday, 23 April, 2026
اکیلے پنجاب کی ترقی پاکستان کی ترقی نہیں، شہباز شریف

اکیلے پنجاب کی ترقی پاکستان کی ترقی نہیں، شہباز شریف

بشام - وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آٹے کی جو قیمت پنجاب میں ہوگی وہی جلد کے پی میں ہوگی، اکیلے پنجاب کی ترقی پاکستان کی ترقی نہیں ہے پاکستان جب ترقی کرے گا جب پنجاب کے ساتھ کے پی ترقی کرے گا۔ شانگلہ کے علاقے بشام میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ خیبرپختونخوا پاکستان کا سب سے خوبصورت شہر ہے، خیبرپختونخوا کے لوگوں نے بہت قربانیاں دیں، ابھی وزیراعظم بنے تین ہفتے ہی ہوئے ہیں جب تک جان میں جان ہے دن رات کام کروں گا، پاکستان میں غریب آدمی سسک سسک کر جان دے دیتا ہے، کے پی سمیت پورے پاکستان کے اسپتالوں میں مفت علاج ہوگا۔
 
وزیر اعظم نے کہا کہ پی ٹی آئی نے تاریخ کے سب سے بڑے قرضے لیے جن کی مالیت 24 ہزار ارب ہے، چار برس میں مہنگائی اپنے عروج پر پہنچ گئی، عمران خان نے عوام کو دھوکا دیا، پاکستان آج بھی اپنی منزل ڈھونڈ رہا ہے، غداری کے سرٹیفیکیٹ بانٹے جا رہے ہیں لیکن ہم پاکستان کو قائداعظم کا پاکستان بنا کر چھوڑیں گے۔
وزیراعظم نے شانگلہ میں میڈیکل کالج بنانے کا اعلان کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگلے ایک دو دن میں جو قیمت آٹے کی پنجاب میں ہوگی وہی خیبر پختونخوا میں ہوگی، وزیراعلیٰ کے پی کے سستا آٹا فراہم کریں، وزیراعلی نے اس قیمت پر آٹا نہیں دیا تو اپنے کپڑے بیچوں گا اور سستا آٹا دوں گا، ہم کب تک کشکول لے کر پھریں گے، کشکول لے کر پھرنے سے عزت نہیں ملتی۔

شہباز شریف نے پوران گرڈ اسٹیشن 3 ماہ میں بنانے کا اعلان کردیا اور کہا کہ ہم ساری زندگی بھیک نہیں مانگ سکتے، میں خیبر پختونخوا کے مسائل کے حل کے لیے دو ارب روپے کا اعلان کرتا ہوں، اکیلے پنجاب کی ترقی پاکستان کی ترقی نہیں ہے پاکستان جب ترقی کرے گا جب پنجاب کے ساتھ کے پی ترقی کرے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  31834
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد خلیجی ممالک سمیت عالمی برادری نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔ عالمی رہنماؤں نے اسے خطے میں امن و استحکام کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے پاکستان کے کلیدی کردار کو تسلیم کیا ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیرِ صدارت جی ایچ کیو میں اہم کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ملکی سلامتی، علاقائی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے شرکا نے سعودی عرب کے پیٹرو کیمیکل اور صنعتی کمپلیکس پر حالیہ ایرانی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت منعقدہ اعلیٰ سطح کے جائزہ اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی کھپت میں کمی لانے کے لیے کفایت شعاری کے ان اقدامات کی منظوری دی گئی۔ اس فیصلے کا اطلاق آج 7 اپریل سے پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان، اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں فوری طور پر ہوگا۔
پاکستان کے مختلف حصوں میں گزشتہ کئی روز سے جاری طوفانی بارشوں اور برف باری نے نظامِ زندگی درہم برہم کر دیا ہے۔ ملک کے مختلف صوبوں میں چھتیں گرنے اور دیگر حادثات کے نتیجے میں کم از کم 43 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں بچوں

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں