Friday, 24 April, 2026
فوج کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، آئی ایس پی آر

فوج کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، آئی ایس پی آر

راولپنڈی - پاک فوج کے ترجمان ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ فوج کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، اس معاملے پر غیر ضروری بحث نہ کی جائے، یہ ہی ہم سب کے لیے اچھا اور بہتر ہے. راولپنڈی میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے ایک سوال کے جواب میں واضح کیا کہ پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہےاور وہ مزید موجودہ سیاسی صورتحال پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔

علاوہ ازیں میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ 9 مارچ کو بھارتی حدود سے ایک چیز پاکستان میں داخل ہوئی تھی، پاکستان فضائی حدود کی خلاف ورزی کی بھرپور مذمت کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایئر فورس نے اس چیز کی مکمل مانیٹرنگ کی ہے، اس کی کوئی بھی وجہ ہے اس کی وضاحت بھارت کو دینی ہے، ہم اس واقعے پر کسی قسم کی اشتعال انگیزی نہیں کررہے۔

میجرجنرل بابر افتخارنے کہا کہ جس وقت وہ چیز بھارت سے پاکستانی حدود میں داخل ہوئی وہ ممکنہ طور پر غیر مسلح تھی، پاکستانی فضائی حدود میں یہ چیز 3 منٹ چند سیکنڈ موجود رہی تھی جبکہ نشاندہی اور رسپانس کا وقت بالکل درست رہا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارتی چیز کسی حساس جگہ پر نہیں گری، بھارت کے زیر استعمال ٹیکنالوجی ناقص ہے اور اس پر انہیں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے، اڑنے والی چیز گرنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فوج کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، اس معاملے میں غیر ضروری بحث نہ کی جائے، وہی ہم سب کے لیے اچھا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  3650
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ایک طرف جہاں پاکستان کی ثالثی سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، وہیں دوسری جانب اسرائیل نے لبنان پر حملوں میں شدید اضافہ کر دیا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فورسز کی وحشیانہ کارروائیوں میں 254 لبنانی شہری شہید ہو گئے ہیں،
امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد خلیجی ممالک سمیت عالمی برادری نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔ عالمی رہنماؤں نے اسے خطے میں امن و استحکام کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے پاکستان کے کلیدی کردار کو تسلیم کیا ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیرِ صدارت جی ایچ کیو میں اہم کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ملکی سلامتی، علاقائی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے شرکا نے سعودی عرب کے پیٹرو کیمیکل اور صنعتی کمپلیکس پر حالیہ ایرانی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں
خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے بھر میں کاروباری اوقات کار محدود کرنے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ نئے احکامات کے مطابق پشاور سمیت تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں مارکیٹیں رات 9 بجے بند کر دی جائیں گی، جبکہ دیگر اضلاع میں بازاروں کو رات 8 بجے تک بند کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں