Thursday, 23 April, 2026
وزیراعظم نے دیامیر بھاشا ڈیم 2026ء تک مکمل کرنے کا ٹاسک دے دیا

وزیراعظم نے دیامیر بھاشا ڈیم 2026ء تک مکمل کرنے کا ٹاسک دے دیا


اسلام آباد - وزیراعظم شہبازشریف نے دیامیر بھاشا ڈیم 2026ء تک مکمل کرنے کا ٹاسک دے دیا، انہوں نے ڈیم کے دورے کے دوران جاری تعمیراتی کاموں کا جائزہ لیا۔ وزیراعظم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم پر کام کرنیوالی پاکستانی اور چینی کمپنیوں نےغیرمعمولی کارکردگی دکھائی، یہ ڈیم معیشت کیلئے بھی بڑی اہمیت کاحامل ہے، ہمیں توانائی کے بڑے منصوبوں کے بارے میں بھی سوچنا ہو گا، ہماری فصلوں کو بڑے پیمانے پر فراہمی آب کی ضرورت ہے، توانائی سمیت تمام بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کریں گے، دیامر بھاشا ڈیم کو 2029 کے بجائے 2026 میں مکمل کرنے کی کوشش کریں گے، منصوبے کیلئے چیئرمین واپڈا کی کاوشیں لائق تحسین ہیں۔

قبل ازیں چیئرمین واپڈا نے وزیراعظم کو جاری تعمیراتی کام پر تفصیلی بریفنگ دی، انہوں نے بتایا کہ منصوبےکی تکمیل سےبجلی کی پیداوار میں اضافہ ہو گا اور آبپاشی کیلئے پانی کی فراہمی بڑھے گی۔ قومی اہمیت کے منصوبے سے فوڈ سکیورٹی میں اضافہ ہو گا۔ 2.6 ٹریلین روپے کی لاگت سے مختلف منصوبے مکمل کیے جا رہے ہیں۔ منصوبےسے16 ہزار نوکریاں پیدا ہوں گی۔ چیئرمین واپڈا نے منصوبےمیں کچھ تکنیکی چیلنجز کی بھی نشاندہی کی۔ وزیراعظم نے چیئرمین واپڈا کو ہدایت دی کہ منصوبے کی متوقع وقت سے پہلے تکمیل یقینی بنائی جائے۔

شہباز شریف آج قراقرم ہائی وے، 3 میگا واٹ تھک پاور منصوبے اور چلاس کیڈٹ کالج کا فضائی دورہ بھی کریں گے۔  شاہدخاقان عباسی، خواجہ آصف اور مریم اورنگزیب بھی ان کے ہمراہ ہوں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  23444
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وزیراعظم شہباز شریف سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں اعلیٰ سطح کے وفود نے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں خطے کی صورتحال اور دو طرفہ اہمیت کے حامل امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والی کمی کا پورا فائدہ عوام تک پہنچانا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ اس کمی کے بعد ڈیزل کی قیمت 520 روپے سے کم ہو کر 385 روپے فی لیٹر ہو جائے گی۔ نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ایک ہفتے کے لیے کر دیا گیا ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری ہو چکا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کے بعد بڑے ریلیف پیکج کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعظم نے پٹرولیم لیوی میں 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد پٹرول کی قیمت 458 روپے سے کم ہو کر 378 روپے پر آ گئی ہے۔
پاک افغان سرحدی علاقے میں سیکیورٹی فورسز نے ایک بڑی اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الخوارج کے 8 بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق، دہشت گردوں نے سرحد پار سے پاکستان میں داخل ہونے کی مذموم کوشش

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں