Thursday, 23 April, 2026
آئین کے تحفظ پر گالیاں پڑتی ہیں لیکن اپنا کام کرتے رہیں گے، چیف جسٹس

آئین کے تحفظ پر گالیاں پڑتی ہیں لیکن اپنا کام کرتے رہیں گے، چیف جسٹس

اسلام آباد - چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ عدالت 24 گھنٹے کام کرتی ہے، کسی کو انگلی اٹھانے کی ضرورت نہیں، 10 سے 15 ہزار لوگ جمع کر کے تنقید کریں تو ہم کیوں فیصلے دیں، سوشل میڈیا پر جو چل رہا ہے اسکی پرواہ نہیں، آئینی تحفظ پر گالیاں پڑتی ہیں لیکن اپنا کام کرتے رہیں گے، قومی لیڈروں کو عدالتی فیصلوں کا دفاع کرنا چاہیے۔ سپریم کورٹ نے سماعت منگل دن ایک بجے تک ملتوی کردی۔

سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح کیلئے صدارتی ریفرنس کی سماعت ہوئی، دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سیاسی جماعتوں کو چار صورتوں میں آرٹیکل 63 میں تحفظ دیا گیا ہے، ضیاء الحق نے پارٹی سے انحراف پر پابندی کی شق آئین سے نکال دی تھی، 2010 میں 18 ویں ترمیم کے ذریعے آرٹیکل 63 اے شامل کیا گیا، آئین کی خلاف ورزی چھوٹی بات نہیں ہے، کئی لوگ آئین کی خلاف ورزی پر آرٹیکل 6 پر چلے جاتے ہیں، آرٹیکل 63 اے کی خلاف ورزی آرٹیکل 6 کا کیس نہیں بنتا، عدالت تعین کرے گی کہ آئین سے انحراف کا کیا نتیجہ ہوگا، آئین کی خلاف ورزی کرنے والا یا اپنی خوشی پر جائے گا یا قیمت ادا کرنی ہوگی۔

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے دلائل دیئے کہ ووٹ پارٹی کی امانت ہوتا ہے، پیسے دیکر ضمیر نہیں بیچا جاسکتا، پیسے دیکر تو اراکین اسمبلی سے ملک مخالف قانون سازی کرائی جاسکتی ہے، پنجاب میں جو حالات ہیں وہ سب کے سامنے ہے، تمام اسٹیک ہولڈر عدالت کی جانب دیکھ رہے ہیں، اب تو منحرف اراکین عوام میں بھی نہیں جاسکتے، سینیٹ الیکشن کے بعد بھی ووٹ فروخت ہورہے ہیں۔

جسٹس جمال خان نے استفسار کیا کہ کیا عدالت اپنی طرف سے تاحیات نااہلی شامل کر سکتی ہے؟َ۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے دلائل مکمل کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح میں عدالت تاحیات نااہلی قرار دے چکی ہے۔

عدالت میں جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ کچھ لوگ چاہتے ہیں انحراف کی اجازت ہو کچھ چاہتے ہیں نہ ہو؟ آج کل آسان طریقہ ہے دس ہزار بندے جمع کرو کہو میں نہیں مانتا، پارلیمان نے تاحیات نااہلی کا واضح نہیں لکھا، پارلیمنٹ نے یہ جان بوجھ کر نہیں لکھا یا غلطی سے نہیں لکھا گیا، پارلیمنٹ موجود ہے دوبارہ اس کے سامنے معاملہ پیش کردیں، عدالت کے سر پر کیوں ڈالا جارہا ہے، پارلیمنٹ کو خود ترمیم کرنے دیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  9793
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ایک طرف جہاں پاکستان کی ثالثی سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، وہیں دوسری جانب اسرائیل نے لبنان پر حملوں میں شدید اضافہ کر دیا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فورسز کی وحشیانہ کارروائیوں میں 254 لبنانی شہری شہید ہو گئے ہیں،
امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد خلیجی ممالک سمیت عالمی برادری نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔ عالمی رہنماؤں نے اسے خطے میں امن و استحکام کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے پاکستان کے کلیدی کردار کو تسلیم کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کے بعد بڑے ریلیف پیکج کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعظم نے پٹرولیم لیوی میں 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد پٹرول کی قیمت 458 روپے سے کم ہو کر 378 روپے پر آ گئی ہے۔
صدر آصف علی زرداری کی زیر صدارت قومی قیادت کے مشاورتی اجلاس میں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے ملک بھر میں سمارٹ لاک ڈاؤن کی تجویز مسترد کرتے ہوئے کفایت شعاری اقدامات مزید سخت کرنے پر اتفاق کیا۔

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں