Thursday, 16 April, 2026
پشاور: پولیس لائنز مسجد میں خودکش دھماکا، 32 شہید

پشاور: پولیس لائنز مسجد میں خودکش دھماکا، 32 شہید

 پشاور - تھانہ پولیس لائنز کی مسجد کے اندر خود کش دھماکے کے نتیجے میں اب تک امام مسجد اور اہلکاروں سمیت 32 افراد شہید جبکہ 150 زخمی ہوگئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکا عین ظہر کی نماز کے وقت ہوا جہاں حملہ آور پہلی صف میں موجود تھا، دھماکے کی نوعیت کا معلوم کیا جا رہا ہے جبکہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کی جانب سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔

دھماکے کے بعد پشاور کے تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، زخمیوں اور لاشوں کو لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ اسپتال میں زخمیوں کو خون دینے کے لیے اپیل کی گئی ہے جس میں O negative خون خصوصی طور پر عطیہ کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔

لیڈی ریڈنگ اسپتال کے ترجمان محمد عاصم نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکے میں ابتک 32 افراد شہید ہوئے جبکہ ایل آر ایچ میں زخمیوں کی تعداد 65 سے زائد ہوگئی۔ اسپتال لائے گئے زخمیوں میں 10 کی آپریشن تھیٹرز میں سرجری جاری ہے جبکہ 15 زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔

اس سے قبل، کمشنر پشاور ریاض محسود نے تصدیق کی تھی کہ دھماکے میں شہید افراد کی تعداد 28 تک پہنچ گئی ہے۔

پولیس کے مطابق خدشہ ہے کہ حملے میں بھاری دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا جس کی شدت کے باعث مسجد اور اس سے متصل کینٹین کی چھت دونوں گر گئیں، ملبہ ہٹانے کے لیے کرین منگوائی گئی ہے۔ مسجد کے عقب میں سی ٹی ڈی کا دفتر بھی موجود ہے۔

اطلاعات کے مطابق حملہ آور نمازیوں کے ساتھ تھانے کے مرکزی دروازے سے داخل ہوکر تین سے چار چیکنگ پوائنٹس عبور کرکے مسجد میں داخل ہوا اور خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ دھماکے کے بعد تھانہ پولیس لائنز کے مرکزی دروازے کو بند کر دیا گیا۔

سی سی پی او پشاور اعجاز خان نے بتایا کہ دھماکے کی بو سے اندازہ یہی ہوتا ہے کہ حملہ خودکش تھا جس کی شدت سے مسجد کا ہال جہاں نماز ادا کی جاتی ہے وہ منہدم ہوگیا جبکہ دھماکے سے مسجد کے صحن تک کا حصہ بھی شہید ہوا۔

انہوں نے کہا کہ پولیس لائن میں دو گیٹ ہوتے ہیں اور 10 سے 15 اہلکار ڈیوٹی پر تعنیات ہوتے ہیں، ایک گیٹ عام لوگوں اور دوسرا پولیس آفیسرز کے لیے ہے۔

سی سی پی او پشاور نے کہا کہ دھماکے میں بلڈنگ کو گرانے والا مواد استعمال کیا گیا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ تھانے کے اندر حملہ سیکیورٹی کی ناکامی ہے، فی الحال چھت کا ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے تاکہ زخمیوں کو نکالا جا سکے۔ مسجد میں 300 کے قریب افراد موجود تھے جبکہ دھماکے میں اب تک 150 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

جی ٹی روڈ کو بالا حصار کے قریب ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

تھانے کے باہر میڈیا سے گفتگو میں رہنما جماعت اسلامی اور سابق وزیر بلدیات کے پی عنایت اللہ نے بتایا کہ دھماکے کے نتیجے میں گرنے والے ملبے کے نیچے سے لوگوں کی آوازیں آرہی ہیں، سی سی پی او اور کمشنر سے کہا ہے کہ لوگوں کو جلد سے جلد نکالا جائے۔

پی ٹی آئی رہنماء شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ ملبے کے نیچے 5 افراد زندہ ہیں جنہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نگراں حکومت کو صرف سیکیورٹی پر فوکس کرنا ہوگا۔

واضح رہے کہ پشاور پولیس لائن کو ہیڈکوارٹر کے طور جانا جاتا ہے اور یہاں حساس عمارتیں سمیت اہم افسران کے دفاتر بھی ہیں۔

ملبے میں مزید افراد کی موجودگی کا امکان، خصوصی ٹیم طلب:
پولیس لائن میں ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے، ملبے کے نیچے مزید افراد کے موجود ہونے کی اطلاعات ہیں جس پر اسپپشل انجنئیرز کی ٹیم کو طلب کرلیا گیا ہے۔

جاری آپریشن کے نتیجے میں ملبے سے مزید تین زخمیوں کو نکال لیا گیا جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا، مزید افراد کو نکالنے کے لیے ہیوی مشینری کی مدد سے سرچ آپریشن جاری ہے۔

شہید ہونے والوں کے نام:
دھماکے میں جاں بحق افراد میں انسپکٹر دوران شاہ، زہیب نواز، مقصود احمد، رشیدہ بی بی زوجہ پشاوری لال، رفیق اللہ، نسیم شاہ کانسٹیبل، لیاقت علی، امجد ڈرائیور، شہریار، لیاقت ، محمد علی، امام مسجد صاحبزادہ ظاہر شاہ، ایس آئی تلاوت شاہ، وسیم شاہ، گل شرف، حیات اللہ خٹک، زبیر، عبدالحمید، عثمان، خالد جان، رفیق خان، انسپکٹر عرفان خان، عبدالودود، لیاقت اللہ شاہ، عاطف، رضوان اللہ، حضرت عمر، نور احمد شاہ، آفتاب، حفیظ اللہ، سی ٹی ڈی کے دو اہلکار اشفاق، کرامت اللہ، ایف سی کے تین اہلکار ذاکر علی خلیل، شہاب اللہ، امجد خان اور دیگر شامل ہیں۔

وزیراعظم سمیت دیگر شخصیات کا اظہار مذمت:
وزیراعظم شہباز شریف نے پولیس لائنز پشاور کی مسجد میں خود کش دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور سربسجود مسلمانوں کا بہیمانہ قتل قرآن کی تعلیمات کے منافی ہے، اللہ کے گھر کو نشانہ بنانا ثبوت ہے کہ حملہ آوروں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

وزیراعظم نے وفاقی وزیر داخلہ کو ہدایت کی ہے کہ صوبوں بالخصوص خیبر پختونخوا کاﺅنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی صلاحیت بڑھانے میں مدد فراہم کریں۔

وزیر خارجہ بلاول بھٹو اور سابق صدر آصف علی زرداری نے دھماکے کی مذمت کی ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کیخلاف سخت کارروائی ہوگی جبکہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرکے دہشتگردوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ ضمنی اور عام انتخابات سے قبل دہشتگردی کے واقعات معنی خیز ہیں۔

سابق صدر آصف علی نے خودکش دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشتگردوں کا سرگرم ہونا انتہائی خطرناک ہے، حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرتے ہوئے دہشتگردی کی نرسریوں کو تباہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ ضمنی اور عام انتخابات سے قبل دہشتگردی کی وارداتیں باعث تشویش ہیں۔ وفاقی اور صوبائی نگراں حکومت دہشتگردوں کے منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں کو قانون کی گرفت میں لائیں۔

نگراں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد اعظم خان نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ریسکیو اداروں کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا کہ زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پشاور پولیس لائنز میں دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے جانی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی ہے۔

پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پشاور مسجد میں بم حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقدس مقام اور عبادت کے دوران حملہ سفاکیت کی انتہاء ہے، قوم باہمی اتحاد و اتفاق سے ایسے سازشی عناصر کا مقابلہ کرے۔ حملے میں شہید ہونے والوں کے لئے مغفرت اور زخمیوں کی صحتیابی کیلئے اللہ سے دعا گو ہوں۔

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے پشاور پولیس لائنز مسجد میں دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہدا کے لواحقین سے اظہار تعزیت کی ہے۔ سراج الحق نے جماعت اسلامی اور الخدمت فاونڈیشن کے کارکنان کو خون کے عطیات دینے کے لیے اسپتال پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔

سابق وزیراعظم عمران خان نے پولیس لائنز پشاور کی مسجد میں دورانِ نماز دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لیے لازم ہے کہ ہم اپنی انٹیلی جنس میں بہتری لائیں اور اپنی پولیس کو مناسب انداز میں ضروری ساز و سامان سے لیس کریں۔

مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پشاور خودکش دھماکا بدترین دہشتگردی اور انتہائی قابل مذمت ہے۔ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال اور دہشتگردی کے حالیہ واقعات انتہائی تشویشناک ہیں۔ اللہ تعالی زخمیوں کو جلد صحت، شہدا کے درجات بلند اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  20073
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ایک طرف جہاں پاکستان کی ثالثی سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، وہیں دوسری جانب اسرائیل نے لبنان پر حملوں میں شدید اضافہ کر دیا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فورسز کی وحشیانہ کارروائیوں میں 254 لبنانی شہری شہید ہو گئے ہیں،
امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد خلیجی ممالک سمیت عالمی برادری نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔ عالمی رہنماؤں نے اسے خطے میں امن و استحکام کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے پاکستان کے کلیدی کردار کو تسلیم کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کے بعد بڑے ریلیف پیکج کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعظم نے پٹرولیم لیوی میں 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد پٹرول کی قیمت 458 روپے سے کم ہو کر 378 روپے پر آ گئی ہے۔
پاک افغان سرحدی علاقے میں سیکیورٹی فورسز نے ایک بڑی اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الخوارج کے 8 بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق، دہشت گردوں نے سرحد پار سے پاکستان میں داخل ہونے کی مذموم کوشش

مقبول ترین
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق اس دستے میں لڑاکا اور معاون طیارے شامل ہیں، جن کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو مضبوط بنانا اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف جنگی تیاریوں کی سطح کو بلند کرنا ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں