Wednesday, 15 April, 2026
پاک فوج نے آپریشن بنیان مرصوص کی تکمیل کا اعلان کردیا

پاک فوج نے آپریشن بنیان مرصوص کی تکمیل کا اعلان کردیا

مسلح افواج نے آپریشن بُنیان مرصوص کی کامیاب تکمیل کا اعلان کردیا
پاک فوج نے آپریشن بنیان مرصوص کی تکمیل کا اعلان کردیا

راولپنڈی - پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایاگیا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج نے بھارت کے خلاف 22 اپریل سے 10 مئی تک ہونے والی جھڑپوں کو معرکہ حق کا نام دیا ہے۔

آئی ایس پی آر نے اعلامیے میں بتایا کہ اس کے بعد 10 مئی کو پاکستانی مسلح افواج نے بھارت کے خلاف آپریشن "بُنیان مرصوص" کامیابی سے مکمل کیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق بھارت کی 6 اور 7 مئی کی شب سے جاری بزدلانہ جارحیت کے جواب میں "معرکۂ حق" آپریشن شروع کیا گیا، بھارتی افواج کی جارحیت میں خواتین، بچے، بزرگوں سمیت متعدد بے گناہ اور معصوم شہری شہید ہوئے۔

آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان نے ان مظالم کا بدلہ لینے اور انصاف فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا اور الحمد اللہ نے قوم سے کیا گیا وعدہ پورا کر کے دکھایا۔ جس پر ہم ربِ ذوالجلال کا شکر ادا کرتے ہیں جس نے ہمیں ظلم کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی توفیق دی۔

اعلامیے میں لکھاگیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں کو حکم دیا ہے کہ ظلم کا بدلہ لیا جائے،اور ہم اسی عاجزی کے ساتھ اللہ کے حضور سجدہ ریز ہیں۔ ہم اپنے ان شہداء کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے وطن پر اپنی جان قربان کی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعاگو ہیں۔

آئی ایس پی آر نے جنگ میں حصہ لینے والے سپائیوں، افسران، پائلٹس، ملاحوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی جرأت، پیشہ وارانہ مہارت اور قربانی کی وجہ سے میدان جنگ میں کامیابی ممکن ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی قوم کی ثابت قدمی، دعاؤں اور اخلاقی حمایت نے مسلح افواج کو حوصلہ کیا جبکہ نوجوان نسل نے سائبر اور انفارمیشن وارفیئر میں پہلی صف کے سپاہی بن کر اپنا کردار ادا کیا۔

آئی ایس پی آر نے جنگ کے دوران بھارت کے جھوٹے پروپیگنڈے کیخلاف آہنی دیوار بن کر کھڑے ہونے پر ملکی میڈیا کا شکریہ ادا کیا جبکہ دفترِ خارجہ اور سفارتی عملے کا بھی شکریہ ادا کیا جس نے اس دورانیے میں پاکستان کے مؤقف کو بین الاقوامی سطح پر جس وضاحت، بصیرت اور اعتماد سے پیش کیا۔

ترجمان پاک فوج نے اعلامیے میں کہا کہ ہم اپنے سائنسدانوں اور انجینئرز کے بھی ممنون ہیں جنہوں نے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اس آپریشن کو مؤثر بنایا جبکہ ہم تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے مادرِ وطن کے دفاع پر مکمل یکجہتی کا مظاہرہ کیا جبکہ وزیرِ اعظم اور ان کی کابینہ کا، جنہوں نے اہم فیصلے لے کر قوم کو بحران سے نکالا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے دیا گیا ردعمل مشترکہ عسکری ہم آہنگی، جدید جنگی شعور، نیٹ ورک بیسڈ وارفیئر اور ملٹی ڈومین آپریشنز کی اعلیٰ مثال تھا۔ بری، بحری، فضائی اور سائبر محاذوں پر مکمل ہم آہنگی سے 26 سے زائد دشمن کے اہم اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ سرسا، بھُج، نالیا، آدمپور، بٹھنڈا، پٹھان کوٹ، سرینگر، ادھم پور، جموں میں فضائی اور عسکرے اڈوں کو نشانہ بنایا گیا، اس کے علاوہ 10 بریگیڈ، 80 بریگیڈ، راجوری، نوشہرہ کے ہیڈکوارٹرز تباہ کیے گئے جبکہ دہشت گردی پھیلانے کیلیے راجوری اور نوشہرہ میں قائم کیے گئے بھارتی اڈے و تربیتی مراکز بھی تباہ کیے۔اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ ایل او سی پر دشمن کی پوسٹیں اور توپ خانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، حتیٰ کہ انہوں نے سفید جھنڈے بلند کیے اور جنگ بندی کی اپیل کی۔

آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارتی ڈرونز نے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی، جس کے جواب میں پاکستانی مسلح افواج نے اپنے مسلح ڈرونز سے بھارت کے بڑے شہروں بشمول نئی دہلی تک پیغام پہنچایا کہ ہم بھی اُن سے زیادہ ڈرونز کی بھرپور طاقت رکھتے ہیں۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق سائبر محاذ پر بھی اہم بھارتی عسکری نیٹ ورک اور بنیادی ڈھانچے کو وقتی طور پر مفلوج کیا گیا جبکہ آپریشن کے دوران پاکستان نے صرف مخصوص اور محدود نوعیت کی جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، تمام حملے صرف اُن ٹھکانوں پر کیے گئے جو براہِ راست دہشت گردی یا معصوم پاکستانیوں کے قتل میں ملوث تھے۔

اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ مشرقی سرحد پر آپریشن کے دوران بھی پاکستان کو خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردی کا سامنا کرنا پڑا، جس کا کامیاب انسداد بیک وقت مغربی محاذ پر جاری رہا۔ "معرکۂ حق" قومی قوتوں کی ہم آہنگی اور قوم کے غیر متزلزل عزم کی عظیم مثال بن گیا، جس نے ملک کی خودمختاری اور سالمیت کا دفاع یقینی بنایا۔

ترجمان پاک فوج نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ کوئی بھی اس غلط فہمی نہ ہے کہ وہ پاکستان کی خودمختاری کو چلینج کرے گا، اگر ایسا ہوا تو ہمارا جواب ہمہ گیر اور فیصلہ کن ہو گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  33857
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
فیلڈمارشل نے آپریشن بنیانِ مرصوص کے شہدا کو خراجِ عقیدت، لواحقین سے یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ قومی قیادت کے تحت پاکستان کے عوام مادرِ وطن کے دفاع کیلئے فولادی دیوار بن گئے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے آپریشن بنیان مرصوص کی فرنٹ لائنز کا دورہ کیا جہاں انہوں نے آپریشن میں شریک افسران اور جوانوں سے ملاقات کی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دورے کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے پسرور
’’آپریشن بُنیان مرصوص‘‘کے دوران پاک فضائیہ نے بھارتی فضائیہ کو دھول چٹادی، پاک فضائیہ کی جوابی کارروائی میں بھارتی فضائیہ کے متعدد لڑاکا طیارے مختلف علاقوں میں گر کر تباہ ہوئے، یہ طیارے کہاں تباہ ہوئے
وزیراعظم شہباز شریف نے بھارت کی جانب سے کی گئی جارحیت کے مؤثر اور بھرپور جواب اور “آپریشن بنیان مرصوص” کی کامیابی پر 10 مئی کو ملک بھر میں “یومِ معرکہ حق” کے طور پر منانے کا اعلان کیا ہے۔

مقبول ترین
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق اس دستے میں لڑاکا اور معاون طیارے شامل ہیں، جن کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو مضبوط بنانا اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف جنگی تیاریوں کی سطح کو بلند کرنا ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں