Thursday, 16 April, 2026
24 سے 36 گھنٹے اہم: بھارت جارحیت کر سکتا ہے، عطا تارڑ

24 سے 36 گھنٹے اہم: بھارت جارحیت کر سکتا ہے، عطا تارڑ

اسلام آباد - وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان کو مصدقہ انٹیلیجنس اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ بھارت، اگلے 24 سے 36 گھنٹوں کے دوران، حالیہ پہلگام واقعے کو جواز بنا کر پاکستان کے خلاف کسی قسم کی فوجی کارروائی کا منصوبہ رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ الزامات بے بنیاد اور من گھڑت ہیں جنہیں پاکستان یکسر مسترد کرتا ہے۔

عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان بھارت کی جانب سے خود کو خطے میں جج، جیوری اور جلاد کے طور پر پیش کرنے کے رویے کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔ پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے خود دہشت گردی کا شکار رہا ہے اور دنیا کے کسی بھی حصے میں، کسی بھی شکل میں دہشت گردی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پہلگام واقعے کے تناظر میں پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست ہونے کے ناطے، مکمل، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش کی، تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور واقعات کی اصل نوعیت کا تعین کیا جا سکے۔

تاہم بھارت کی جانب سے اس پیشکش کو مسترد کر کے غیر معقولیت اور تصادم کے راستے کو اپنانا، نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے آزادانہ تحقیقات سے گریز اس کے اصل عزائم کو بے نقاب کرتا ہے، جس کا مقصد سیاسی فوائد کے لیے عوامی جذبات کو اشتعال دینا اور تصادم کی فضا پیدا کرنا ہے، یہ ایک نہایت افسوسناک رجحان ہے۔

عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان ایک بار پھر یہ واضح کرتا ہے کہ اگر بھارت نے کسی بھی قسم کی فوجی مہم جوئی کی کوشش کی تو اس کا منہ توڑ اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے بین الاقوامی برادری کو آگاہ کیا گیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ جنگ کی صورت میں اس کے تباہ کن نتائج کی مکمل ذمہ داری بھارت پر عائد ہو گی۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے مزید کہا کہ پاکستانی قوم اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی وقار کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر اور ہر قیمت پر اپنا دفاع کرے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  13126
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اِس وقت جنگ کا ماحول ہے، بدقسمتی سے پورے خطے میں اِس وقت شدید کشیدگی ہے، اِن حملوں اور انسانی جانوں کے ضیاع کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔
وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے کہاہے کہ جس طرح بھارتی جارحیت کے دوران اتقاق اور اتحاد کا مظاہرہ کیا گیا تھا، معاشی محاذ پربھی اسی اتفاق واتحاد کی ضرورت ہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے متعلق ابھی فیصلہ نہیں ہوا
بھارتی فوج کی بزدلانہ جارحیت کے نتیجے میں زخمی ہونے والے 2 جوان شہید ہو گئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے بھارتی جارحیت میں زخمی ہونے والے 2 زخمیوں کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے
قومی سلامتی کمیٹی نے پاک فوج کو بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کا اختیار دے دیا۔ وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس ختم ہوگیا جس میں اعلیٰ فوجی حکام، وزرا اور دیگر اہم شخصیات شریک ہوئیں۔

مقبول ترین
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق اس دستے میں لڑاکا اور معاون طیارے شامل ہیں، جن کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو مضبوط بنانا اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف جنگی تیاریوں کی سطح کو بلند کرنا ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں