Saturday, 28 March, 2026
مغرب کا مسئلہ مسلمان نہیں اسلام اور پیغمبر اسلام ہیں

مغرب کا مسئلہ مسلمان نہیں اسلام اور پیغمبر اسلام ہیں
شاہنواز فاروقی کا کالم

 

مسلمانوں کو مغربی دنیا سے زخم کھاتے ہوئے ایک ہزار سال ہوگئے مگر آج بھی مسلمانوں کی عظیم اکثریت مغرب کے بارے میں ’’نیک خیالات‘‘ رکھتی ہے۔ چنانچہ ہمارا سیاسی نظام مغرب سے آیا ہوا ہے۔ ہمارا معاشی نظام مغرب کی عطا ہے۔ ہمارا تعلیمی نظام مغربی علوم و فنون پر کھڑا ہے۔ ہمارا عدالتی نظام مغرب کی نقل ہے۔ حد تو یہ ہے کہ ہماری خواہشیں، آرزوئیں، تمنائیں اور مثالیے یا Ideals تک مغرب سے آئے ہیں۔ جو تھوڑے بہت لوگ مغرب کو کچھ سمجھتے ہیں وہ اس خیال کے حامل ہیں کہ مغرب کا مسئلہ نام نہاد بنیاد پرست مسلمان ہیں۔ حالانکہ ایک ہزار سال کی تاریخ گواہ ہے کہ مغرب کا اصل مسئلہ مسلمان نہیں اسلام اور پیغمبر اسلام ہیں۔ کل بھی مسلمانوں کے سلسلے میں مغرب کی پوزیشن یہی تھی آج بھی اس کی پوزیشن یہی ہے۔ ابھی کچھ سال پہلے تک مغرب سنی افغانستان کو کچل رہا تھا آج وہ شیعہ ایران کو بھنبھوڑ رہا ہے۔ اسی لیے ہم نے عرض کیا ہے کہ مغرب کا مسئلہ ’’یہ مسلمان‘‘ یا ’’وہ مسلمان‘‘ نہیں اس کا مسئلہ اسلام اور رسول اکرمؐ کی ذاتِ اقدس ہے۔ اس حوالے سے مغرب کی پوری تاریخ ہمارے سامنے ہے۔

یہ سن 1095 کی بات ہے۔ اس وقت عیسائیت کی سب سے بڑی شخصیت پوپ اُربن دوم تھے۔ انہوں نے چرچ میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ خدا نے یہ بات میرے قلب پر القا کی ہے کہ اسلام ایک ’’شیطانی مذہب‘‘ ہے اور اس کے ماننے والے ایک شیطانی مذہب کے ماننے والے ہیں۔ چنانچہ عیسائیوں کا فرض ہے کہ وہ اس شیطانی مذہب اور اس کے ماننے والوں کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیں۔ اس سلسلے میں پوپ نے کوئی ’’عقلی دلیل‘‘ پیش کی نہ نقلی شہادت پیش کی۔ انہوں نے قرآن کی کسی آیت کا حوالہ دیا نہ کسی حدیث نبوی کی مثال پیش کی، نہ مسلمانوں کے کسی ’’شیطانی طرزِ عمل‘‘ کا ثبوت پیش کیا۔ پوپ نے صرف اپنے ’’الہام‘‘ پر بھروسا کیا اور ہر پڑھا لکھا شخص جانتا ہے کہ الہام خدا بھی کرتا ہے اور شیطان بھی وسوسے کی صورت میں انسانی فکر کو متاثر کرتا ہے۔ لیکن پوپ اپنے بارے میں یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اسے بھی شیطان گمراہ کرسکتا ہے۔ بہرحال پوپ کی اس تقریر کا نتیجہ یہ نکلا کہ 1099 میں یورپ کے تمام ملک اور اقوام ایک صلیبی جھنڈے کے نیچے جمع ہوئیں اور انہوں نے ان صلیبی جنگوں کا آغاز کیا جو کم و بیش دو سو سال جاری رہیں۔ یہاں نوٹ کرنے کے لائق بات یہ ہے کہ اسلام پر حملہ کسی عام مغربی شخص نے نہیں خود مغرب کی سب سے طاقت ور شخصیت نے کیا۔ اس نے مسلمانوں پر بعد میں اور اسلام پر پہلے حملہ کیا۔

مغربی دنیا نے چودھویں صدی میں رسول اکرمؐ کے بارے میں یہ پروپیگنڈا کیا کہ آپ معاذ اللہ جھوٹے نبی تھے۔ آپ پر وحی نازل ہونے کے وقت جو کیفیت طاری ہوتی تھی اس کے بارے میں مغرب میں یہ جھوٹ ایجاد کیا کہ معاذ اللہ رسول اکرمؐ کو مرگی کے دورے پڑتے تھے۔ چنانچہ چودھویں صدی کے ایک عیسائی بادشاہ مینوئل دوم نے ایک موقع پر کہا کہ محمد کیا نیا لائے ہیں۔ انہوں نے کچھ توریت سے لے لیا اور کچھ انجیل سے لے لیا اور اس کو ملا کر معاذ اللہ قرآن کے نام سے ایک کتاب گھڑ لی۔ مینوئل دوم نے اس موقع پر یہ کہنا بھی ضروری سمجھا کہ اسلام صرف تلوار کے زور سے پھیلا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اہل مغرب نے ایک بار پھر مسلمانوں کو نہیں خود رسول اکرمؐ کو ہدفِ تنقید بنایا۔ اس طرح کی باتوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ مغرب کے ممتاز شاعر دانتے نے معاذ اللہ ایک نظم میں رسول اکرمؐ کو دوزخ میں پڑا ہوا دکھایا ہے۔ دانتے اگر عام مسلمانوں کو دوزخ میں پڑا ہوا دکھاتا تو یہ کوئی خاص بات نہ ہوتی مگر دانتے نے بھی مسلمانوں پر نہیں رسول اکرمؐ پر حملہ کیا۔ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ مغرب عیسائی بادشاہ مینوئل دوم کے رسول اکرمؐ پر لگائے گئے الزامات کو کبھی نہیں بھولا۔ چنانچہ 2009ء میں اس وقت کے پوپ بینی ڈکٹ شش دہم نے مینوئل دوم کا بیان دہرایا۔ اس پر مسلم دنیا میں شدید ردعمل ہوا تو پوپ بینی ڈکٹ خاموش ہوگئے۔

مغرب نے 18 ویں اور 19 ویں صدی میں عالم اسلام پر قبضہ کیا تو اس نے مسلم دنیا میں جدیدیت زدگان کا ایک ایسا طبقہ پیدا کیا جو نام کے مسلمان تھے اور ان کا باطن مغرب کے رنگ میں رنگا ہوا تھا۔ برصغیر میں اس کی سب سے بڑی مثال سرسید احمد خان ہیں۔ سرسید مفسر قرآن ہونے کے باوجود منکر ِ قرآن تھے اس لیے کہ انہوں نے قرآن میں بیان ہونے والے تمام معجزات کا انکار کیا ہے۔ انہوں نے صاف لکھا ہے کہ رسول اکرمؐ کو جسمانی معراج نہیں ہوئی بلکہ رسول اکرمؐ خواب میں معراج پر گئے۔ کیونکہ معراج کی جو تفصیلات مسلمانوں کے علم تفسیر میں موجود ہیں وہ ’’خلافِ عقل‘‘ ہیں۔ سرسید نے ابراہہ کے لشکر کی ہلاکت کے بارے میں لکھا کہ وہ پرندوں کی کنکریوں سے ہلاک نہیں ہوا تھا بلکہ ابراہہ کے لشکر میں چیچک پھوٹ بڑی تھی اور ابراہہ کا پورا لشکر اسی چیچک سے ہلاک ہوا۔ سرسید منکر حدیث بھی تھے اور وہ حدیث کے کسی بھی مجموعے کو مستند نہیں سمجھتے تھے۔ سرسید نے مسلمانوں کے پورے تفسیری علم کو بھی مسترد کردیا تھا۔ سرسید کو مسلمانوں کی زبانوں یعنی عربی، فارسی اور اردو سے بھی نفرت تھی۔ چنانچہ انہوں نے مسلمانوں سے کہاکہ عربی، فارسی اور اردو کو چھوڑ کر سیکھنی ہے تو انگریزی اور فرانسیسی سیکھو۔ سرسید کا یہ طرز عمل مغرب سے سیکھا ہوا طرز عمل تھا۔

مغرب اور اس کے ایجنٹ سرسید نے جو مغربی علوم و فنون مسلمانوں پر مسلط کیے انہوں نے مسلمانوں کے عقائد، نظریات، خیالات اور طرز عمل پر گہرے منفی اثرات مرتب کیے۔ ان اثرات کی تفصیل دیکھنا ہو تو اکبر الٰہ آبادی کی شاعری پڑھیے۔ مغربی علم نے مسلمانوں میں خدا کے وجود پر شکوک پیدا کیے تو اکبر نے کہا۔

خدا کی ہستی پہ شبہ کرنا اور اپنی ہستی کو مان لینا
پھر اس پہ طرہّ اس ادّعا کا کہ ہم ہیں اہلِ شعور ایسے
……٭٭٭……
دنیا میں بے خبر ہے جو پروردگار سے
شاید ہے زندہ اپنے ہی وہ اختیار سے
……٭٭٭……
منزلوں دور ان کی دانش سے خدا کی ذات ہے
خرد بیں اور دور بیں تک ان کی بس اوقات ہے
……٭٭٭……
کفر نے سائنس کے پردے میں پھیلائے ہیں پائوں
بے زباں ہے بزمِ دل میں شمعِ ایماں ان دنوں
……٭٭٭……
علومِ دینوی کے بحر میں غوطے لگانے سے
زباں گو صاف ہوجاتی ہے دل طاہر نہیں ہوتا
……٭٭٭……
نئی تعلیم کو کیا واسطہ ہے آدمیت سے
جنابِ ڈارون کو حضرتِ آدمؑ سے کیا مطلب
……٭٭٭……
مذہب کبھی سائنس کو سجدہ نہ کرے گا
انسان اُڑیں بھی تو خدا ہو نہیں سکتے

نائن الیون 21 ویں صدی کا واقعہ اور کل کی بات ہے مگر اس واقعے نے بھی اسلام اور اسلامی تہذیب سے مغرب کی نفرت کو ایک بار پھر آشکار کردیا۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ نائن الیون کے ذمے دار اسامہ بن لادن تھے، چنانچہ مغرب کا سارا ملبہ بھی ایک فرد یا ان کی تنظیم القاعدہ پر پڑنا چاہیے تھا۔ مگر ایسا نہیں ہوا، مغرب ایک بار پھر اسلام پر پل پڑا۔ امریکا کے صدر جارج بش نے نائن الیون کے بعد اپنی قوم سے خطاب کیا تو انہوں نے اعلان کیا کہ ہم نے ’’کروسیڈ‘‘ یعنی صلیبی جنگ کا آغاز کردیا ہے۔ اس اصطلاح کے استعمال پر مسلمانوں نے اعتراض کیا تو جارج بش کے ترجمان نے وضاحت کی کہ خطاب کرتے ہوئے جارج بش کی زبان پھسل گئی تھی۔ حالانکہ جارج بش لکھی ہوئی تقریر پڑھ رہے تھے۔ اگر یہ بات مان لی جائے کہ جارج بش کی زبان پھسل گئی تھی تو اس کے بارے میں مغرب کے ممتاز ماہر نفسیات سگمنڈ فرائیڈ نے کہا ہے کہ زبان پھسلنے کا بھی ایک نفسیاتی پس منظر ہوتا ہے، لیکن جارج بش کے بعد اٹلی کے وزیراعظم سلویو برلسکونی کا بیان سامنے آگیا۔ برلسکونی بھی اسامہ بن لادن پر حملہ کرنے کے بجائے اسلام پر حملہ کیا۔ اس نے کہاکہ مغربی تہذیب اسلامی تہذیب سے برتر ہے کیونکہ مغربی تہذیب کے اقداری نظام سے انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا ہے۔ امریکا کا اٹارنی جنرل ایش کرافٹ اٹلی کے وزیراعظم سے بھی آگے نکل گیا۔ اس نے نائن الیون کے بعد اسامہ بن لادن یا القاعدہ پر حملہ کرنے کے بجائے اسلام کے خدا پر حملہ کیا۔ اس نے کہا کہ عیسائیت کا خدا اسلام کے خدا سے برتر ہے کیونکہ اسلام کا خدا اپنی عظمت کے اظہار کے لیے مسلمانوں سے جان کی قربانی مانگتا ہے جبکہ عیسائیت کا خدا ایسا خدا ہے جس نے اپنی عظمت کے اظہار کے لیے اپنے بیٹے سیدنا عیسیٰ کی قربانی دے دی۔ ناٹو کے سابق کمانڈر جنرل کلارک نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے صاف کہا کہ مغرب کی جنگ اسلام کو Define کرنے کے لیے ہے۔ مغرب کو طے کرنا ہے کہ آیا اسلام ایک پرامن مذہب ہے یا یہ اپنے ماننے والوں کو تشدد پر اُکساتا ہے۔

مغرب کتنا ’’انسان دوست‘‘ ہے اس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ امریکا کے سفید فاموں نے امریکا میں 8 سے 10 کروڑ ریڈ انڈینز کو قتل کردیا۔ آسٹریلیا میں مغرب کے سفید فاموں نے آسٹریلیا پر قبضہ کرنے کے لیے 45 لاکھ سے زیادہ ایب اوریجنلز کو مار ڈالا۔ امریکا نے دوسری عالمی جنگ میں جاپان کے خلاف دو ایٹم بم استعمال کر ڈالے۔ اسرائیل نے امریکا کی سرپرستی میں غزہ کے اندر 75 ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کو شہید کردیا۔ ایک لاکھ سے زیادہ فلسطینی زخمی کردیے مگر اس کے باوجود امریکا نے سلامتی کونسل میں اسرائیل کے خلاف قرارداد وں کو پانچ بار ویٹو کردیا۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود ایران کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا۔ مذاکرات جاری تھے کہ امریکا نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کرکے علی خامنہ ای سمیت ایران کے قائدین کی بڑی تعداد کو شہید کردیا۔ اس سے ایک بار پھر ثابت ہوا کہ مغرب ابلیس سے بھی بڑا شیطان ہے۔ ............... بشکریہ روزنامہ جسارت کراچی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  78277
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
ایران کیخلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کو مذہبی رنگ کون دے رہا ہے؟ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تو جنگ کا اصل مقصد ایران کی ایٹمی صلاحیت کو ختم کرنا قرار دیا تھا
جب دلیل کمزور ہو، ثبوت مفقود ہوں اور نیت میں کھوٹ ہو، تو شور شرابے کو دلیل بنا لیا جاتا ہے۔ یہی حال انڈین حکومت اور میڈیا کا ہے، جو پہلگام حملے کو لے کر ایک بار پھر پاکستان کے خلاف طبلِ جنگ بجانے لگے ہیں۔ حملہ ہوا
آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے بالواسطہ طور پر ملک کے موجودہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دشمن عوام اور فوج کے درمیان دراڑیں ڈال رہا ہے لیکن فوج کو عوام کا اعتماد حاصل ہے اور وہ عوام کے تعاون سے اس صورت حال
تحریک انصاف نے ریاست پر کاری وار کیا، خدا کرے وطن عزیز جانبر ہوجائے؟ایک بدقسمت دن، وطنی طول و عرض میں ہیبت ناک مناظردیکھنے کو ملے۔ تصور میں نہ تھا، قومی حُرمت، تقدس، وقار، عزت اور طاقت

مقبول ترین
اجلاس میں عوامی مفاد کو مقدم رکھنے اور معاشی و توانائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ تیل و گیس کی عالمی قیمتوں کے اثرات اور مہنگائی پر قابو پانے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان قومی مفاد پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔
اے میرے اوورسیز پاکستانی بھائیو اور وطنِ عزیز کے ذمہ داران! کیا ہماری آواز سننے والا کوئی ہے؟ کیا ہمارے مسائل اور تکالیف پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے؟
وزیراعظم شہبازشریف نے امیرقطر کو مشکل وقت میں پاکستان کی مکمل یکجہتی اورحمایت کا یقین دلادیا۔ اطلاعات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے امیرقطر سے ٹیلی فونک رابطہ کیا، وزیراعظم نے امیرقطر اور

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں