![]() |
ایران کیخلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کو مذہبی رنگ کون دے رہا ہے؟ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تو جنگ کا اصل مقصد ایران کی ایٹمی صلاحیت کو ختم کرنا قرار دیا تھا لیکن اوول آفس میں مسیحی پادریوں اور مذہبی لیڈروں کے ہمراہ جنگ میں کامیابی کے لیے خصوصی دعا کا اہتمام کس نے کیا؟ عالمی میڈیا نے اس خصوصی دعا کی ایک تصویر نشر کی ہے جس میں پادری گریگ لاری سمیت کئی مذہبی لیڈر ٹرمپ کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر ایران کیخلاف جنگ میں کامیابی کی نوید دے رہے ہیں۔ یہ سب لوگ سال ہا سال سے امریکیوں کو ظہورِ دجال سے پہلے ایک بڑی جنگ کے لیے تیار کر رہے تھے جسے Armageddon (ہر مجدون) کہا جاتا ہے۔ برطانوی اخبار ’’دی گارڈین‘‘ سمیت کئی مغربی اخبارات نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی فوج میں مذہبی آزادی کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ادارے (ایم آر ایف ایف) کو اب تک دو سو سے زائد شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج کے کمانڈرز اپنے ماتحتوں کو بتا رہے ہیں کہ ٹرمپ کو سیدنا عیسٰیؑ نے ایران پر حملے کا اشارہ دیا ہے کیونکہ وہ زمین پر واپس آنے والے ہیں اور یہ وہی ہرمجدون ہے جس کا ذکر بائبل میں بھی آچکا ہے۔ پندرہ امریکی فوجیوں کی طرف سے بھیجی گئی ایک مشترکہ شکایت میں گیارہ مسیحی، ایک مسلمان اور ایک یہودی فوجی شامل ہے۔ اس شکایت کا مطلب ہے مذہب کارڈ نے امریکی فوج کو تقسیم کر دیا۔ ٹرمپ کی طرف سے کھیلا جانے والا یہ مذہب کارڈ صاف بتا رہا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے باوجود فی الحال ایران میں رجیم چینج کے لیے کوئی بڑی تحریک نہیں اْٹھ سکی لہٰذا ٹرمپ اس جنگ کو مذہبی رنگ دیکر کچھ اور مقاصد کی تکمیل چاہتے ہیں۔ ان مقاصد کا ذکر کرنے سے قبل یہ بتانا ضروری ہے کہ ٹرمپ امریکا کے پہلے صدر نہیں ہیں جو اسرائیل کی حمایت کو اپنا مذہبی فریضہ قرار دے رہے ہیں اور ہرمجدون کے بعد سیدنا عیسٰیؑ کا انتظار کر رہے ہیں۔
ہرمجدون عبرانی زبان کے دو الفاظ کا مرکب ہے۔ ہر کا معنی پہاڑ اور مجدود ایک وادی کا نام ہے جو فلسطین میں ہے۔ اس جنگ کے اسباب و نتائج کے بارے میں مسلمانوں، مسیحیوں اور یہودیوں کی کتابوں میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسرسیموئیل پی ہٹنگٹن نے 1993ء میں فارن افیئرز میگزین میں ’’تہذیبوں کا تصادم ‘‘ کے عنوان سے جو مقالہ لکھا تھا وہ دراصل ہرمجدون کے تصور کے گرد گھومتا تھا۔ بعد میں انہوں نے اس مقالے کو کتاب کی شکل دی۔ ہٹنگٹن نے اپنے مقالے میں ایک سعودی اسکالر ڈاکٹر سفر الحوالی الغامدی کا حوالہ بھی دیا تھا جنہوں نے کہا تھا کہ اگلی جنگ مغرب اور اسلام کے درمیان ہونے والی ہے۔ 1994ء میں ہٹنگٹن نے ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس منعقدہ ڈیووس میں تہذیبوں کے تصادم کا نظریہ پیش کیا تو میں بھی وہاں موجود تھا۔ میں نے بطور صحافی اس کانفرنس کی سائیڈ لائنز پر تنظیم آزادی فلسطین کے سربراہ یاسر عرفات اور اسرائیل کے وزیر خارجہ شمعون پیریز کا انٹرویو کیا تھا۔ مجھے یاسر عرفات اور پاکستان کی وزیراعظم بینظیر بھٹو کی ایک ملاقات یاد ہے جس میں فلسطینی لیڈر نے پاکستانی وزیر اعظم سے درخواست کی کہ آپ نہ اسرائیل کو تسلیم کریں نہ ان سے کوئی بات کریں۔ بینظیر بھٹو صاحبہ نے یاسر عرفات سے کہا کہ آپ میڈرڈ کانفرنس میں اسرائیلیوں کے ساتھ بیٹھے پھر آپ نے اْن کے ساتھ اوسلو معاہدہ کر لیا تو آپ ہمیں اْن کے ساتھ بیٹھنے سے کیوں روکتے ہیں؟ یاسر عرفات نے جواب میں کہا تھا کہ ہم یہ سب کچھ گن پوائنٹ پر کر رہے ہیں ہمیں دیوار کے ساتھ لگا دیا گیا ہے ہم اس کمزور پوزیشن میں پاکستان جیسے ممالک کی مدد سے ایک خود مختار فلسطینی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں لیکن اسرائیل ہمیں مذاکرات کے نام پر دھوکا دے رہا ہے۔ اسرائیل اور امریکا نے مل کر مذاکرات کے نام پر یاسر عرفات سے واقعی دھوکا کیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پی ایل او کی جگہ حماس فلسطینیوں کی پہچان بن گئی۔
2009 ء میں مجھے غزہ کے گلی کوچوں میں اسرائیلی ٹینکوں اور فلسطینی سنگ بازوں کی لڑائی کے مناظر دیکھنے کا موقع ملا۔ ایک دن اسرائیل نے غزہ کے ایک چرچ پر بمباری کی۔ میں تباہ شدہ چرچ کے ملبے پر پہنچا تو وہاں موجود مسیحی پادری سے تفصیلی گفتگو کا موقع ملا۔ اْس نے مجھے بتایا کہ ہم فلسطینی دراصل صہیونی انتہاپسندوں اور امریکا کے مسیحی انتہاپسندوں کے گمراہ کن نظریہ ہرمجدون کے اسیر بن چکے ہیں۔ اس فلسطینی پادری نے بتایا کہ ہرمجدون پر یہودیوں میں اتفاق نہیں ہے۔ کئی بنیاد پرست یہودی اسرائیل کو بطور ریاست نہیں مانتے وہ سمجھتے ہیں کہ دنیا بھر کے منتشر یہودیوں کو اکٹھا کرنے کا کام سیدنا عیسٰیؑ کی واپسی کے بعد ہوگا جبکہ انتہا پسند صہیونی کہتے ہیں کہ 1948ء میں اسرائیل کے قیام کے بعد ہمیں مسجد اقصٰی کی جگہ ہیکل سلیمانی قائم کرنا ہے اور اپنی ریاست کی حدود کو دریائے نیل سے فرات تک پھیلانا ہے۔ اس فلسطینی پادری نے کہا ہم مسیحیوں میں بھی اس معاملے پر اختلاف ہے اور ہم ہرمجدون پر امریکی پادریوں کے موقف سے اتفاق نہیں کرتے۔ یہ فلسطینی پادری حماس کا حامی تھا۔ 2024ء میں لبنان اور اسرائیل جنگ کی کوریج کے دوران مجھے بیروت میں ایسے کئی مسیحی ملے جو حماس اور حزب اللہ کے حامی تھے۔ ہرمجدون پر یہودیوں اور مسیحیوں میں کوئی اتفاق نہیں۔ عرض صرف یہ کرنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کو ہرمجدون کا آغاز قرار دیدیا ہے جس کا فائدہ اگر ہو گا تو مسلم ممالک میں امریکا کے مخالف انتہا پسندوں کو ہو گا۔
ہٹنگٹن نے ڈاکٹر سفر الحوالی کے جس لیکچر کا حوالہ دیکر کہا تھا کہ اگلی جنگ مغرب اور اسلام کے درمیان ہوگی اْس لیکچر کے بعد 1994ء میں سفر الحوالی کوگرفتار کر لیا گیا تھا۔ سفر الحوالی نے ہرمجدون پر صہیونی موقف اور امریکی پادریوںکے موقف کو بنیاد بنا کر کہا تھا کہ مغرب اور مسلمانوں میں ایک بڑی جنگ ہونے والی ہے اس لیے عرب ممالک اپنی سرزمین پر امریکا کو فوجی اڈے قائم کرنے کی اجازت نہ دیں۔ 2018ء میں انہیں ایک دفعہ پھر گرفتار کر لیا گیا۔ اب جو کچھ ٹرمپ کر رہے ہیں کیا اس کے بعد سفر الحوالی کے لیے ہمدردی میں اضافہ نہیں ہوگا؟ ٹرمپ پہلے امریکی صدر نہیں جو مذہب کا رڈ کھیل رہے ہیں۔ اْن سے پہلے رچرڈ نکسن ، جمی کارٹر، رونالڈ ریگن اور جارج بش اول بھی ایسی ہی باتیں کرتے رہے ہیں۔ یہ سب امریکی صدور جیری فال ویل کے پیروکار تھے جس نے امریکا میں لبرٹی یونیورسٹی قائم کی۔ جیری فال ویل بھی اسرائیل کی حدود نیل سے فرات تک قرار دیتا تھا جس میں غزہ سے لیکر عراق، شام، ترکی، سعودی عرب، مصر، لبنان، اردن، اور کویت شامل ہیں۔ اس وقت برطانیہ اور یورپ ایران پر حالیہ حملے سے اپنے آپ کو علٰیحدہ رکھنے کی کوشش میں ہیں کیونکہ یہ جنگ پھیل گئی تو عالمی معیشت تباہ و برباد ہو سکتی ہے۔ اب اس سوال کی طرف آئیے کہ کیا واقعی ٹرمپ دل و جان سے ایک مذہبی فریضہ سمجھ کر ایران کو تباہ کرنا چاہتا ہے؟ امریکیوں کی ایک بڑی اکثریت نہ تو اس جنگ کو ہرمجدون سمجھتی ہے اور نہ ہی ٹرمپ کو مذہبی انسان سمجھتی ہے۔ امریکیوں کی بڑی اکثریت کا خیال ہے کہ ٹرمپ دراصل ایپسٹین فائلز سے توجہ ہٹانے کے چکر میں ہیں۔ اسرائیلی انٹیلی جنس کے پاس اْن کے خلاف ایسے شواہد ہیں جن میں وہ کم عمر بچیوں کے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں۔ ان شواہد کی وجہ سے وہ بلیک میل ہو رہے ہیں اور انہوں نے نیتن یاہو کے دبائو میں آ کر ایران پر حملہ کر دیا تاکہ ان کے خلاف متوقع سیکس اسکینڈل سے میڈیا کی توجہ ہٹ جائے۔ جب اس حملے کے بعد رحیم چینج نہ ہو سکا تو انہوں نے مذہب کارڈ کھیلنا شروع کر دیا ہے۔ ٹرمپ کا یہ مذہب کا رڈ ان کے کسی کام آئے نہ آئے لیکن مسلم ممالک میں اس مکتبِ فکر کے ضرور کام آئے گا جو ڈاکٹر سفر الحوالی سے اتفاق کرتا ہے۔ ٹرمپ کی جنگ دونوں اطراف کے انتہا پسندوں کے فائدے میں ہے۔ ............ بشکریہ روزنامہ جنگ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ