Monday, 27 June, 2022
استحقاق والے

استحقاق والے
جاوید ملک / شب و روز

 

جمعرات کا دن اس لئیے اہم تھا کہ سینٹ کی استحقاق کمیٹی میں سینیٹر عرفان صدیقی کی تحریک زیر غور آنی تھی اجلاس سینیٹر طاہر بزنجو کی سربراہی میں شروع ہوا تو عرفان صدیقی کی گفتگو کا لب لباب یہ تھا کہ انہوں نے ریڈیو پاکستان میں درختوں کی کٹائی کے حوالے سے پوچھا تو ان کی منظم طریقے سے کردار کشی شروع کر دی گئی سینیٹر آصف کرمانی اور سینیٹر منظور کاکڑ نے بھی اس پر برہمی کا اظہار کیا لیکن کہانی اتنی سادہ نہیں تھی جتنی عرفان صدیقی بیان کر رہے تھے سابق ڈی جی ریڈیو عاصم کچھی نے اجلاس کو بتایا کہ درختوں کی کٹائی کے حوالہ سے معزز سینیٹر کی کال ان کو آئی تھی وضاحت کر دی تھی کہ سو کے قریب درخت قواعد و ضوابط کے مطابق نیلام کئے گئے اور ان کی جگہ تین سو نئے پودے لگا بھی دئیے گئے مگر کچھ ہی دیر بعد ٹی وی چینلز پر ٹکرز چلنا شروع ہو گئے کہ درخت اونے پونے بیچ دئیے گئے اگلے دن قومی اخبارات میں خبریں بھی لگائی گئیں ان الزامات کا جواب ریڈیو پاکستان کی سی بی اے یونین نے دیا جس کا ان سے کوئی تعلق نہیں لیکن اس کے باوجود وزیر اطلاعات کے حکم پر سیکرٹری اطلاعات کے ہمراہ وہ عرفان صدیقی کے پاس گئے اور ان سے معزرت بھی کی لیکن عرفان صدیقی نے کہا کہ وہ ڈی جی ریڈیو پاکستان رہنے کے قابل نہیں ہیں اور ان کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ رکھا اور اسی بناء پر اگلے روز ہی انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا عاصم کچھی نے اس موقعہ پر اپنی کارکردگی بتاتے ہوئے استفسار کیا کہ معزز سینیٹر بتائیں کہ وہ کیسے اس عہدے پر رہنے کے قابل نہیں۔

کمیٹی کے معزز ارکان اور وہاں موجود مجھ سمیت تمام ذرائع ابلاغ کے نمائندگان یہ ساری بحث سن کر حیران تھے کہ کیسے ایک سینیٹر ادارے میں اس قدر مداخلت کر سکتا ہے کہ اس کی خواہش پر ایک ڈی جی کو لمحوں میں ہٹا دیا جائے بغیر انکوائری اونے پونے درخت بیچنے کا الزام عائد کیا جائے اور بعد میں وزارت اطلاعات کی اعلی سطحی انکوائری کی بھی تضحیک اڑاتے ہوئے تمام افسران پر عدم اعتماد کر دیا جائے اور صرف انتقامی کاروائی کے طور پر معاملہ کو ماحولیات سے جوڑ کر پھر سرکاری افسر کو زیر عتاب رکھنے کیلئے تانے بانے بن لئیے جائیں اور پھر بھی انا کی تسکین نہ ہو تو استحقاق کی تحریک پیش کر کے پوری وزارت اطلاعات کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا جائے کیا یہ سارا عمل درست اور ایوان بالا کے ایک رکن کے شایان شان ہے۔

عرفان صدیقی نے ریڈیو پاکستان کی سی بی اے یونین اور بعض صحافیوں کی طرف سے سوشل میڈیا پر اپنی تضحیک کی بھی شکایت سامنے رکھی معزز چئیرمین انہوں نے خود اور سینیٹر آصف کرمانی نے بھی کچھ جملے پڑھ کر سنائے ایک جملہ یہ بھی تھا کہ ان کو اپنے قائد کے جوتے سیدھے کرنے اور جی حضوری کے صلہ میں سینٹ کی نشست ملی میری ذاتی رائے میں کسی بھی کارکن کیلئے اپنے قائد کے قدموں میں جگہ بنانا اور اس کے جوتے سیدھے کرنا سعادت کی بات ہے اس پر تو انہیں فخر کرنا چاہیے نہ کہ اسے اپنی تضحیک گردانیں ایک سیاسی ورکر کے طور پر چونکہ وہ جانبدار ہیں تو اپنے رہبر کے قصیدے لکھنا ان کیلئے باعث افتخار ہونا چاہیے البتہ اگر وہ بہ طور صحافی غیر جانبداری کا دعوی کرتے ہوئے یہ لکھتے ہیں تو یہ فکری خیانت کے زمرے میں آئے گا اور صحافی تو وہ رہے نہیں پھر یہ جملے تو ان کیلئے فخر کا سبب ہونے چاہیں نا کہ ندامت اور پھر وہ تو اس جماعت سے سینیٹر منتخب ہوئے جو آزادی اظہار رائے کے معاملہ میں انتہائی فراغ دل ہے اسی جماعت کا سینیٹر چند جملوں پر استحقاق کی تحریک لائے گا اور معاملہ ایف آئی اے بھجوانے کی استدعا کرے گا تو جماعت کا پورا بیانیہ زمین بوس نہیں ہو جائے گا۔

اجلاس میں ایک اور کال بھی زیر بحث رہی جس سے عرفان صدیقی نے مکمل لا علمی کا اظہار کیا اور سینیٹر منظور کاکڑ نے اس کال کے فرانزک کی بھی تجویز دی کہ کسی نامعلوم شخص نے خود کو شوکت عزیز صدیقی اور عرفان صدیقی کا بھائی ظاہر کرکے عاصم کچھی سے ایک ڈرائیور قمر کو روات ریڈیو اسٹیشن میں تبادلے کا مطالبہ کیا عاصم کچھی تو اب سابق ہو گئے لیکن سنا ہے یہ کال موجودہ ڈی جی ریڈیو پاکستان ثمینہ فر زین کو بھی آئی تھی اور اس بار یہ تبادلہ ہو بھی گیا عرفان صدیقی کے اظہار لاعلمی کے بعد یہ تحقیقات ازحد ضروری ہیں کہ کون ایک سابق جج اور سینیٹر کا نام استعمال کر رہا ہے اور نہ جانے کہاں کہاں فون گھماتا پھر رہا ہے یہ حساس معاملہ ہے۔

اجلاس میں یہ تذکرہ بھی رہا کہ عرفان صدیقی جب ریڈیو سے منسلک تھے تو اس دور کے ڈراموں کی تفصیل مانگی جارہی ہے اس معاملہ میں عرفان صدیقی نے ریڈیو پاکستان راولپنڈی کی اسٹیشن ڈائریکٹر اسماء گل کو جھاڑبھی پلائی یہ کیا قصہ ہے اجلاس میں سب کیلئے حیران کن تھا ابھی کمیٹی کی سفارشات آنا باقی ہیں سفارشات سامنے آجائیں تو اس موضوع پر مزید لکھونگا کیونکہ اب عاصم کچھی کی طرح میں بھی یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ ہمارے نمائندوں کا تو استحقاق ہے جو مجروح بھی ہوتا ہے اور اس کے تدارک کیلئے فورم بھی موجود ہے مگر کیا عام آدمی کا بھی کوئی استحقاق ہے ؟

عرفان صدیقی نے اونے پونے کے الزامات سے بھی لاتعلقی کا اعلان کر دیا کمیٹی کو ان تمام میڈیا ہاؤسز کو بھی بلانا چاہیے تھا اور یہ بھی دیکھنا چاہیے تھا کہ اتنے اہتمام کے ساتھ خبریں کس نے لگوائیں اور خبریں بھی وہ جو بقول عرفان صدیقی توڑ موڑ کر چھاپی گئیں دوران کاروائی ریڈیو پاکستان کی سی بی اے یونین کا بارہا تذکرہ ہوا سیکرٹری اطلاعات نے بتایا کہ یونین نے اس کاروائی کا حصہ بننے کی تحریری درخواست بھی کی ہے تو پھر یونین عہدیداران کا موقف سن لینے میں کیا مضائقہ تھا حکومتیں ایک طرف تو اداروں کو خودکفیل ہونے کے درس دیتی ہیں دوسری طرف اگر عاصم کچھی جیسا کوئی افسر دن رات ایک کرکے ادارے کی بہتری کیلئے اقدامات اٹھاتا ہے تو اسے نظام کی پیچیدگیوں میں الجھا کر اتنی کمیٹیوں کے چکر لگوائے جاتے ہیں کہ باقی سب افسران کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں اور یہ ہی بددلی افسران کو کسی بھی انقلابی کام سے روک دیتی ہے وہ پھر وقت ٹپاؤ پالیسی پر عمل پیرا ہوتے ہیں جس کا نتیجہ اداروں کی بدحالی اور تباہی کی صورت میں ہمارا منہ چڑھا رہا ہے معزز ممبران کو یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ مزدور یونین اپنے سابق ڈی جی کے ساتھ کیوں کھڑی ہے صحافی کھل کر اس افسر کی حمایت کیوں کر رہے ہیں؟ محترم سینیٹر طاہر بزنجو نے درست کہا کہ گزشتہ چار سال سے ملک میں الزامات کی گرد ہی اڑائی گئی ہے یہ ملک عام آدمی کا ہے اور اسے کسی کی بھی انا کے نیزے پر نہیں اچھالا جانا چاہیے میری ذاتی رائے ہے کہ ہر اس شخص کو کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہیے اور اس کا دماغی معائنہ کرانا چاہیے جس کی انا،ضد اور ہٹ دھرمی ہمارے ملک اور اس کے اداروں کے وقار سے بھی بڑی ہے یہ قوم کب تک ان لوگوں کی انا کی سولی پر لٹکتی رہے گی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  91340
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
آج آفس سے گھر آیا تو ٹی وی پر افواج پاکستان کے ترجمان کی پریس کانفرنس جاری تھی اور بار بار ٹی وی اسکرین پر یہ ٹکر چل رہا تھا کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔۔۔۔ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے۔۔۔۔۔ ڈی جی آئی ایس پی آر
چولستان میں خشک سالی نے زندگی کو معدوم کرکے رکھ دیا ہے ۔66 لاکھ ایکٹرپر مشتمل یہ علاقہ رواں ماہ سے بارشیں نہ ہونے کی بناء پر پانی کی شدید قلت سے دوچار ہے ۔یہاں چرند ،پرند ،جانور اور انسان پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔
پاکستان میں ایک بہت ہی مرغوب اور من بھاتاکھاجاہے:''سازش''۔ یہ ایسی چیونگم ہے جسے سبھی شوق سے چباتے ہیں۔ اس کے کئی فلیورزہیں۔ امریکی سازش، بھارتی سازش، یہودی سازش،یورپی سازش وغیرہ۔سازشی تھیوری کے بغیر
ہمارے ملک میں مدت سے فرقوں کی بنیاد پر ایک ایک مسلک کے کئی کئی دیو بندی، بریلوی، اہل حدیث اور شیعہ دھڑے موجود رہے ہیں۔ ہر دھڑا اپنے آپ کو اپنے فرقے کا نمائندہ ثابت کرتا ہے۔ فرقہ واریت بجائے خود اسلام کے امیج کو بری طرح مجروح کرتی اور

مقبول ترین
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ چین اور سعودی عرب کب تک ہماری مدد کرتے رہیں گے؟ ہمیں اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہوگا، آئی ایم ایف سے تمام شرائط طے ہوگئیں اگر کوئی نئی شرط نہ آئی تو معاہدہ جلد ہوجائے گا۔ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹرز سے خطاب کرتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ موجودہ صورتحال میں
پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل محمد امجد خان نیازی نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں ہر سال 21 جون کو عالمی یومِ ہائیڈروگرافی منایا جاتا ہے جس کا مقصد ہائیڈروگرافی اور سمندروں سے متعلق معلومات میں اضافہ اور اس کے کردار کے حوالے سے آگہی پیدا کرنا ہے۔ عالمی ادارہ برائے
وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ امید ہے آئی ایم ایف پروگرام ایک آدھ دن میں بحال ہو جائے گا۔ اسلام آباد میں سینیٹ کی فنانس کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے بعد وزیر خزانہ نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ پاکستان
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے صدر ڈاکٹر مارکس نے کہا ہے کہ فی الحال پاکستان کو گرے لسٹ سے نہیں نکالا جا رہا، اسلام آباد نے 34 نکات پر مشتمل 2 ایکشن پلان کے تمام نکات پر عمل کر لیا ہے۔ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کا فیصلہ جائزہ ٹیم کی رپورٹ کے بعد کیا جائے گا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں