Wednesday, 22 April, 2026
پاکستان سمیت دنیا میں نئے سال 2023 کا شاندار استقبال

پاکستان سمیت دنیا میں نئے سال 2023 کا شاندار استقبال

اسلام آباد - پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں 2022 کو الوداع کہہ دیا گیا اور نئے سال 2023 کا استقبال آتش بازی اور جشن کے ساتھ کیا گیا۔

دنیا میں سب سے پہلے 2023 کا آغاز وسطی بحرالکاہل کے جزائر ٹونگا اور کیریباتی سے ہوا، اس جزیرے میں پاکستانی وقت کے مطابق سہ پہر تین بجے کے بعد نیا سال شروع ہوجاتا ہے، اس جزیرے میں انسانی بستیاں نہیں ہیں اس لیے یہاں پر نئے سال کا آغاز اتنی اہمیت نہیں رکھتا۔

ٹونگا اور کیریباتی کے بعد نئے سال کا آغاز نیوزی لینڈ کے سب سے بڑے شہر آکلینڈ سے ہوا جہاں پر آتش بازی کا شان دار مظاہرہ کرکے 2023 کا استقبال کیا گیا۔

بعد ازاں آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں بھی آتش بازی کے ساتھ نئے سال کو خوش آمدید کہا گیا۔

فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آتش بازی کا ایک منظر—فوٹو:اےایف پی
جس کے بعد لوگوں نے جاپان میں نئے سال کا جشن منانا شروع کیا، جس کے بعد جنوبی کوریا سمیت قریبی ممالک میں بھی نئے سال کی شروعات ہوئی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا کے کئی ممالک میں سال 2023 کا آغاز دیگر ممالک کے مقابلے میں 25 گھنٹے بعد بھی ہوگا۔

نئے سال کے آغاز کے 25 گھنٹے بعد امریکن جزیرے سمووا میں نئے سال کا آغاز ہوتا ہے، جس کے ایک گھنٹے بعد بیکر آئی لینڈ دنیا کا وہ آخری مقام ہوگا جو 2023 میں داخل ہوگا مگر وہاں کوئی آبادی نہیں تو وہاں کوئی اس کا ٰخیرمقدم کرنے والا نہیں ہوگا۔

یعنی امریکن سمووا کے رہائشی ہی سب سے آخر میں نئے سال کا جشن منائیں گے۔

سمووا سے چند گھنٹے قبل امریکا کی مختلف ریاستوں میں بھی سال نو کا آغاز ہوجاتا ہے اور دنیا ایشیا کے زیادہ تر ممالک میں نئے سال کی شروعات کے بعد یورپ اور افریقہ میں ترتیب وار سال نو کی تقریبات شروع ہوجاتی ہیں۔

دوسری جانب، وزیراعظم شہباز شریف نے نئے سال کے حوالے سے پیغام میں کہا کہ سالِ نو کے لیے میرا عہد ہےکہ میں اس سال اپنا وقت اور تمام تر توانائیاں پاکستان کے لوگوں کی تکالیف کو کم کرنے، سیلاب زدگان کی بحالی اور پاکستان کو ترقی و استحکام کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے استعمال کروں گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 2022 پاکستان کے لیے ایک اور مشکل سال تھا، بدترین سیلاب نے ہماری معاشی مشکلات میں اضافہ کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  81694
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ایک طرف جہاں پاکستان کی ثالثی سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، وہیں دوسری جانب اسرائیل نے لبنان پر حملوں میں شدید اضافہ کر دیا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فورسز کی وحشیانہ کارروائیوں میں 254 لبنانی شہری شہید ہو گئے ہیں،
امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد خلیجی ممالک سمیت عالمی برادری نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔ عالمی رہنماؤں نے اسے خطے میں امن و استحکام کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے پاکستان کے کلیدی کردار کو تسلیم کیا ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیرِ صدارت جی ایچ کیو میں اہم کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ملکی سلامتی، علاقائی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے شرکا نے سعودی عرب کے پیٹرو کیمیکل اور صنعتی کمپلیکس پر حالیہ ایرانی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت منعقدہ اعلیٰ سطح کے جائزہ اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی کھپت میں کمی لانے کے لیے کفایت شعاری کے ان اقدامات کی منظوری دی گئی۔ اس فیصلے کا اطلاق آج 7 اپریل سے پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان، اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں فوری طور پر ہوگا۔

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں