Thursday, 23 April, 2026
اسٹیبلشمنٹ نے تین آفر دی، تحریک عدم اعتماد، استعفیٰ یا الیکشن، وزیراعظم

اسٹیبلشمنٹ نے تین آفر دی، تحریک عدم اعتماد، استعفیٰ یا الیکشن، وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے نجی ٹی وی کو دیے گئےانٹرویو میں کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے تحریک عدم اعتماد، استعفیٰ یا الیکشن کی آفر دی۔ نجی ٹی وی سے گفتگو میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ترقی پذیرملکوں کو میر جعفر اور میر صادق کے ذریعےکنٹرول کیا گیا، ملک فتح کرنے کی ضرورت نہیں ایسا آدمی بٹھا دیں جو آپ کہیں وہ کرے، ایسا شخص بٹھا دیں جو ذاتی مفادکیلئے ملک کامفاد قربان کردے۔

ان کا کہنا تھاکہ مجھےاگست سے اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ گیم چل رہا ہے، لندن سے منصوبہ بندی ہورہی تھی، ایجنسیز کی رپورٹ تھی، میں کبھی فوج کے خلاف بات نہیں کروں گا، پاکستان کو مضبوط فوج کی ضرورت ہے، اگر مضبوط فوج نہ ہوتو دشمن ہمارے تین ٹکڑے کرسکتا ہے، جن ملکوں کے پاس مضبوط فوج نہیں تھی انہیں ٹکڑے کیا گیا، ہم اپنی فوج کی وجہ سے بچے ہوئے ہیں۔

نواز شریف سے متعلق عمران خان کا کہنا تھاکہ نواز شریف اور اس کی بیٹی نے کھل کر فوج کو برا بھلا کہا، ججوں کو خریدنا اور پلاٹ دینا یہ سب اس نے شروع کیا، ان کی کوشش ہے اقتدار میں آئیں، نیب کو ختم کریں، یہ نوازشریف کی نااہلی ختم کریں گے اور نواز شریف کو بحال کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنرل مشرف نے اپنی حکومت بچانے کیلئے این آر او دیا، مجھے حکومت بچانا ہوتی تو پہلے دن این آر او دے دیتا، مشرف نے ان ڈاکوؤں کو معاف کرکے سب سے بڑا ظلم کیا، حکومت چلی جائے، جان چلی جائے، کبھی این آر او نہیں دوں گا، انہیں ملک کنٹرول کرنے کیلئے فوج بھیجنے کی ضروت نہیں،ایسے لوگ چاہییں۔

تحریک عدم اعتماد اور عالمی سازش سے متعلق وزیراعظم نے مزید کہا کہ عمران خان تحریک عدم اعتماد جیت جاتا ہے تو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، عمران خان ہار جاتا ہے تو پاکستان کو معاف کردیں گے، میرے پاس سب رپورٹیں ہیں ، کون کس سفارتخانے میں جاتا ہے؟ میرے پاس سب رپورٹس ہیں کونسا سیاستدان جاتا تھا، کون سا سیاستدان جاتا تھا ، کونسا صحافی ، اینکر جاتا تھا۔

ان کا کہنا تھاکہ یہ میٹنگ تحریک عدم اعتماد جمع ہونے سے پہلے کی تھی، پلاننگ پانچ چھ مہینے پہلے سے ہورہی تھی۔

ایک سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھاکہ ’ہماری اسٹیبلشمنٹ نے آفر دی کہ تین چیزیں ہیں، عدم اعتماد کا ووٹ، استعفیٰ دے دیں یا الیکشن لیکن ہم نے کہا کہ الیکشن سب سے بہتر طریقہ ہے، استعفیٰ میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا‘۔ وزیراعظم کا کہنا تھاکہ جو لوگ بھاگ گئے ہیں ان کے ساتھ حکومت نہیں چلاسکتے، تحریک عدم اعتماد جیت جاتا ہوں تو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

دنیا سے تعلقات کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھاکہ جنگ میں بھی شرکت کی، برا بھلا بھی ہمیں کہا گیا، ہمیں ملک کے لوگوں کے مفادات کی حفاظت کرنی ہے، میرا کسی ملک سے مسئلہ نہیں ہے، ہمیں تمام ممالک سے دوستی کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں امریکا اور یورپ سے دوستی کرنا چاہیے، دوستی کی لمٹ ہونا چاہیے، امن میں شرکت کریں گے، تنازعات میں نہیں، حسین حقانی جیسے لوگ نواز شریف سے ملاقات کررہے تھے، خود دارقوم کی عزت ہوتی ہے، ہم کبھی ایک بلاک میں چلے گئے تو کبھی دوسرے بلاک میں چلے گئے۔

ان کا کہنا تھاکہ ذوالفقار علی بھٹو کو فضل الرحمان اور نوازشریف کی پارٹیوں نے قتل کرایا، باہر کے لوگوں کو میر جعفر جیسے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے، ڈرون حملوں کی اجازت دی اورجھوٹ بول رہے ہیں کہ ہم مذمت کررہے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھاکہ جب یہ کسی کے پیچھے پڑتے ہیں تو پوری کردارکشی مہم بھی چلائیں گے، میری بیوی،ایک خاتون جوگھرسےنہیں نکلتیں، اس کے اوپرپوری مہم چلائی ہوئی ہے، ان سے ملنے والی فرح کی کردار کشی کی مہم چلائی ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ سب کے سامنے کہہ رہاہوں، میری جان کو خطرہ ہے، یہ جو سارے ملے ہوئے ہیں، ان کویہ پتا ہےکہ عمران خان چپ کرکے نہیں بیٹھنے لگا، ان کا خیال ہےکہ پیسے دے کر لوگوں کے ضمیر کو خرید کر حکومت گرادینی ہے، ان کا خیال ہے کہ میں چپ کرکے تماشا دیکھوں گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کردارکشی کی علیحدہ مہم انہوں نےتیارکی ہوئی ہے، یہ ہرقسم کی غلط قسم کی باتیں کریں گے، مجھے تو قوم 45 سال سے جانتی ہے، میری بیوی کی کردارکشی کریں گے اور میری بیوی کی دوست فرح کی کردارکشی کریں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  75044
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والی کمی کا پورا فائدہ عوام تک پہنچانا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ اس کمی کے بعد ڈیزل کی قیمت 520 روپے سے کم ہو کر 385 روپے فی لیٹر ہو جائے گی۔ نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ایک ہفتے کے لیے کر دیا گیا ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری ہو چکا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کے بعد بڑے ریلیف پیکج کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعظم نے پٹرولیم لیوی میں 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد پٹرول کی قیمت 458 روپے سے کم ہو کر 378 روپے پر آ گئی ہے۔
پاک افغان سرحدی علاقے میں سیکیورٹی فورسز نے ایک بڑی اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الخوارج کے 8 بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق، دہشت گردوں نے سرحد پار سے پاکستان میں داخل ہونے کی مذموم کوشش
وزیراعظم نے کہا کہ متعلقہ حکام کی جانب سے پیش کی گئی قیمتوں میں اضافے کی سمری مسترد کر دی گئی، جس میں پیٹرول کی قیمت 95 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 203 روپے فی لیٹر کرنے کی تجویز شامل تھی۔

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں