Tuesday, 21 April, 2026
ہم چاہتے ہیں آٹا 35 اور چینی 52 روپے کلو ملے، مریم اورنگزیب

ہم چاہتے ہیں آٹا 35 اور چینی 52 روپے کلو ملے، مریم اورنگزیب

اسلام آباد - وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ سیاسی پینک ختم ہونے کے بعد اچھے نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں، اتحادی حکومت عوام کو ریلیف دینے کیلئے پرعزم ہے، ہم چاہتے ہیں آج آٹا 35 روپے اور چینی 52 روپے کلو ملے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت کی اولین ترجیح سیاسی اور معاشی استحکام ہے، گزشتہ حکومت نے آئی ایم ایف سے معاہدہ کیا، انہوں نے معاہدے کی خلاف ورزی کی، سوئچ آن آف کر کے معیشت کو ٹھیک نہیں کیا جا سکتا، معیشت کو ٹھیک کرنے میں وقت لگے گا، گزشتہ حکومت معیشت کا بیڑہ غرق کر کے گئی، ان کی نااہلی کے اثرات ہمیں ورثے میں ملے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ معاشی استحکام کیلئے اتحادی حکومت کی کاوشیں جاری ہیں، ایک طرف معیشت کو درست کرنے، دوسری طرف مسلح جتھوں کی تیاری ہو رہی تھی، نو مئی کا سیاہ دن عوام نے دیکھا، گزشتہ دو ہفتوں سے عوام کو خوشی والی خبریں مل رہی ہیں، وزیر اعظم نے 1800ارب کا کسان پیکیج دیا جس کے نتائج آ رہے ہیں، آٹے کی فی کلو قیمت میں 35 سے 40 روپے کمی ہوئی ہے۔

مریم اورنگزیب نے مزید کہا ہے کہ کمرشل اور گھریلو صارفین کیلئے ایل پی جی سلنڈر میں نمایاں کمی ہوئی ہے، آج ڈالر کا ریٹ 27 روپے کم ہوا ہے، کوکنگ آئل کی قیمتوں میں 60 سے 70 روپے کمی کی گئی ہے، یہ ڈیفالٹ کے دہانے ملک چھوڑ کر گئے ہم نے ڈیفالٹ نہیں ہونے دیا، بجٹ سے متعلق وزیر اعظم نے مشاورتی اجلاس شروع کر دیئے ہیں، ذیلی کمیٹی معیاری بیج کی فراہمی کو یقینی بنائے گی۔

انہوں نے کہا ہے کہ گزشتہ حکومت معیشت کا بیڑہ غرق کر کے گئی، ہم اسے بہتر کرنے کیلئے پرعزم ہیں، مشکل معاشی صورتحال میں معیشت کو استحکام دینے کیلئے آئی ایم ایف سے بات کی، معیشت کا تعلق سیاسی استحکام کے ساتھ جڑا ہے، نالائقوں، نااہلوں نے معیشت کی بنیادوں کے اندر بارودی سرنگیں بچھائیں، جب بھی معیشت میں بہتری آنا شروع ہوتی ہے تو یہ لوگ اس پر حملے کرتے ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے مزید کہا ہے کہ لوگوں کے ذہنوں میں نفرت کے بیج بوئے جا رہے تھے، جلاؤ گھیراؤ اور نفرت کی سیاست کو فروغ دیا جا رہا تھا، یہ نہیں چاہتے کہ کہیں اس ملک میں معیشت بہتر ہو جائے، مسلح جتھوں نے 9 مئی کو ملکی حساس اور عسکری تنصیبات پر حملے کئے، گزشتہ حکومت چاہتی تھی کہ ملک ڈیفالٹ کر جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  85062
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ایک طرف جہاں پاکستان کی ثالثی سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، وہیں دوسری جانب اسرائیل نے لبنان پر حملوں میں شدید اضافہ کر دیا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فورسز کی وحشیانہ کارروائیوں میں 254 لبنانی شہری شہید ہو گئے ہیں،
امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد خلیجی ممالک سمیت عالمی برادری نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔ عالمی رہنماؤں نے اسے خطے میں امن و استحکام کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے پاکستان کے کلیدی کردار کو تسلیم کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کے بعد بڑے ریلیف پیکج کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعظم نے پٹرولیم لیوی میں 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد پٹرول کی قیمت 458 روپے سے کم ہو کر 378 روپے پر آ گئی ہے۔
پاک افواج نے کابل اور ننگرہار میں افغان طالبان فوجی کی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے جس میں دو مقامات پر ٹیکنیکل سپورٹ انفرااسٹرکچر اور ایمونیشن اسٹوریج کو تباہ کیا گیا۔

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں