Thursday, 23 April, 2026
ڈپٹی اسپیکر نے وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو غیر آئینی قرار دیکر مسترد کردیا

ڈپٹی اسپیکر نے وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو غیر آئینی قرار دیکر مسترد کردیا

اسلام آباد - قومی اسمبلی کے ہنگامہ خیز اجلاس میں ڈپٹی اسپیکر اسمبلی قاسم سوری نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ نہیں کرائی اور اسے غیر آئینی قرار دے کر مسترد کردیا۔ ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا ۔ تلاوت کلام پاک سے قومی اسمبلی اجلاس کا آغاز ہوا۔

اجلاس مقررہ وقت سے 38 منٹ تاخیر سے شروع ہوا۔ اجلاس شروع ہوتے ہی پی ٹی آئی ارکان نے عمران خان کے حق میں نعرے بازی کرتے ہوئے کون بچائے گا پاکستان، عمران خان عمران خان کے نعرے لگائے۔ تحریک انصاف کے 17 ارکان قومی اسمبلی اپوزیشن لابی میں جاکر بیٹھ گئے۔

ڈپٹی اسپیکر نے پہلے وقفہ سوالات شروع کرایا جس میں وزیر قانون فواد چوہدری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ 7 مارچ کو ہمارے سفیر کو طلب کیا جاتا ہے اور اس میٹنگ میں ہمارے سفیر کو بتایا جاتا ہے کہ عمران خان کیخلاف عدم اعتماد پیش کی جا رہی ہے اور پاکستان سے تعلقات کا دارومدار اس عدم اعتماد کی کامیابی پر ہے، ہمیں کہا گیا کہ اگر عدم اعتماد کامیاب نہیں ہوتی تو آپ کا اگلا راستہ سخت ہوگا۔

فواد چوہدری نے کہا کہ کیا یہ 22 کروڑ لوگوں کی قوم اتنی کمزور ہے کہ باہر کی طاقتیں ہماری حکومتیں بدل دیں، کیا یہ آئین کے آرٹیکل 5 کی خلاف ورزی نہیں ہے؟ کیا پاکستانی عوام کٹھ پتلیاں ہیں اور پاکستانیوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے؟ کیا ہم غلام اور اپوزیشن لیڈر کے بقول بھکاری ہیں، اگر ہم غیرت مند قوم ہیں تو یہ تماشا مزید نہیں چل سکتا اور اس پر رولنگ آنی چاہیے، آئین کے آرٹیکل 5 کے مطابق ملک سے وفاداری ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔

اس کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے قائد حزب اختلاف کی جانب سے پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ نہیں کرائی بلکہ انہوں نے کہا کہ وزیر قانون کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات بالکل درست ہیں،  عدم اعتماد کی تحریک کا آئین کے مطابق ہونا ضروری ہے، کسی غیر ملکی طاقت کو یہ حق نہیں کہ وہ سازش کے تحت پاکستان کی منتخب حکومت کو گرائے، لہٰذا میں رولنگ دیتا ہوں کہ عدم اعتماد کی قرارداد آئین، قومی خود مختاری اور آزادی کے منافی ہے لہذا ضابطے کے خلاف میں یہ قرارداد مسترد کرنے کی رولنگ دیتا ہوں۔

ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے تحریک عدم اعتماد کو آئین و قانون کے منافی قرار دے کر مسترد کردیا اور اجلاس کو غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا۔ اجلاس میں عدم اعتماد کی تحریک پربحث بھی نہیں کرائی گئی۔

اپوزیشن نے شدید شور شرابا، ہنگامہ آرائی اور احتجاج شروع کردیا ہے۔ ایوان میں شدید نعرے بازی جاری ہے۔ ادھر حکومتی ارکان نے امریکہ کا جو یار ہے غدار ہے کے نعرے لگائے۔ تحریک عدم اعتماد کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت اور خصوصا ریڈ زون میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے جبکہ شہر اقتدار میں دفعہ 144 بھی نافذ ہے، علاوہ ازیں میٹرو بس سروس کو بھی غیرمعینہ مدت کے لیے بند کردیا گیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  66117
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والی کمی کا پورا فائدہ عوام تک پہنچانا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ اس کمی کے بعد ڈیزل کی قیمت 520 روپے سے کم ہو کر 385 روپے فی لیٹر ہو جائے گی۔ نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ایک ہفتے کے لیے کر دیا گیا ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری ہو چکا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد خلیجی ممالک سمیت عالمی برادری نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔ عالمی رہنماؤں نے اسے خطے میں امن و استحکام کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے پاکستان کے کلیدی کردار کو تسلیم کیا ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیرِ صدارت جی ایچ کیو میں اہم کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ملکی سلامتی، علاقائی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے شرکا نے سعودی عرب کے پیٹرو کیمیکل اور صنعتی کمپلیکس پر حالیہ ایرانی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت منعقدہ اعلیٰ سطح کے جائزہ اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی کھپت میں کمی لانے کے لیے کفایت شعاری کے ان اقدامات کی منظوری دی گئی۔ اس فیصلے کا اطلاق آج 7 اپریل سے پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان، اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں فوری طور پر ہوگا۔

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں