Saturday, 27 June, 2026
یکم جولائی سے بازار اور دکانیں رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ

یکم جولائی سے بازار اور دکانیں رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد - قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں قومی توانائی بچت پلان کے تحت ملک بھر میں مارکیٹیں رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس اقدام سے سالانہ ایک ارب ڈالر کی بچت ہوگی، ورکنگ خواتین میں 22 ہزار سکوٹیز بھی تقسیم کی جائیں گی۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس ہوا جس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر تجارت نوید قمر، وزیر مواصلات مولانا اسعد محمود، پنجاب، خیبر پختونخوا کے نگران وزراء اعلیٰ اور سندھ کے وزیر اعلیٰ نے شرکت کی، بلوچستان کے وزیر اعلیٰ شریک نہیں ہوئے، این ای سی اجلاس میں آئندہ بجٹ سے متعلق بریفنگ دی گئی اور نئے کے ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔

قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں قومی توانائی بچت پلان پیش کیا گیا جس کے تحت مارکیٹیں رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ ہوا، اس کے علاوہ آئندہ مالی سال کیلئے 2 ہزار 700 ارب روپے کے ترقیاتی پروگرام کی منظوری دی گئی ہے، جن میں وفاقی ترقیاتی پروگرام کیلئے 950 ارب روپے جبکہ 55 ارب روپے ایکسٹرنل فنانسنگ کے شامل ہیں۔

قومی اقتصادی کونسل اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا ہے کہ توانائی بچانے کیلئے دکانیں رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ ہوا ہے، کمرشل ایریا رات 8 بجے بند ہوں گے، انرجی کی بچت کیلئے صوبائی حکومتیں عملدرآمد کرائیں گی، امریکا، یورپ، چین میں کمرشل ایریاز کو کھولنے کی اجازت نہیں ہوتی، توانائی کی بچت سے ملک کو سالانہ ایک ارب ڈالر کی بچت ہو سکتی ہے۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے مزید کہا کہ ترقی کیلئے سیاسی استحکام بھی ضروری ہے، ہمیں معاشی بحران ورثے میں ملا، مسلم لیگ کی گزشتہ حکومت میں انرجی بحران کو حل کیا گیا، گزشتہ حکومت کے پاس ترقی کا کوئی روڈ میپ نہیں تھا، ہمارے دور میں سی پیک منصوبہ شروع کیا گیا، معیشت کی بہتری کیلئے برآمدات بڑھانی ہوں گی، انٹرنیٹ فار آل منصوبے کو فروغ دیں گے۔

احسن اقبال نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل پاکستان کی طرف تیزی سے اقدامات کیے جا رہے ہیں، مستقبل میں مضبوط ڈیجیٹل نظام سے تیزی سے ترقی ممکن ہوگی، حالیہ سیلاب سے پاکستان کو بہت زیادہ نقصان ہوا، مینوفیکچرنگ کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کو اپنایا جائے گا، پاکستان کو اس وقت موسمیاتی تبدیلی سے شدید خطرات درپیش ہیں، گزشتہ حکومت نے ملکی ترقی کیلئے کچھ کام نہ کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  76517
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ایک طرف جہاں پاکستان کی ثالثی سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، وہیں دوسری جانب اسرائیل نے لبنان پر حملوں میں شدید اضافہ کر دیا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فورسز کی وحشیانہ کارروائیوں میں 254 لبنانی شہری شہید ہو گئے ہیں،
امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد خلیجی ممالک سمیت عالمی برادری نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔ عالمی رہنماؤں نے اسے خطے میں امن و استحکام کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے پاکستان کے کلیدی کردار کو تسلیم کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کے بعد بڑے ریلیف پیکج کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعظم نے پٹرولیم لیوی میں 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد پٹرول کی قیمت 458 روپے سے کم ہو کر 378 روپے پر آ گئی ہے۔
پاک افواج نے کابل اور ننگرہار میں افغان طالبان فوجی کی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے جس میں دو مقامات پر ٹیکنیکل سپورٹ انفرااسٹرکچر اور ایمونیشن اسٹوریج کو تباہ کیا گیا۔

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں