![]() |
اسلام آباد - سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے کہا ہے کہ وہ کبھی امریکا یا یورپ کے مخالف نہیں رہے ہیں اور ہمیشہ دوستی کے خواہاں ہیں لیکن واشنگٹن ماسکو سے تیل کی کم قیمت طے کرنے کے معاملے پر ناراض ہوا اور امریکا کو پاکستان میں آزاد حکومت کی عادت نہیں ہے۔
سمندر پار پاکستانیوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ ’حکومت ہٹا کر اہل لوگوں کو لایا جاتا اور حکومت گرانے کے لیے سندھ ہاؤس میں ’لوٹوں کی منڈی‘ لگی ہوئی تھی، مشرف امریکی دھمکی برداشت نہ کرسکااورافغان جنگ میں کودگی، نائن الیون سے پاکستان کا کوئی لینادینا نہیں تھا، وہ چاہتے ہیں کہ ادارے یہ جانیں کہ قوم ‘امریکی سازش’ کے اس بیانیے پر کہاں کھڑی ہے۔
عمران خان نے سیاسی مخالفین کو مخاطب کرکے کہا کہ امریکا میں پاکستانی سفیر کو ڈونلڈلو نے بلا کردھمکی دی تھی لیکن یہ جدھر بھی چلے جائیں غدار اور چور کے نعرے لگیں گے، شہبازشریف کےخاندان پر40 ارب کی کرپشن کےکیسزہیں۔
انہوں نے کہا کہ بیرون ملک ہاتھ پھیلا کر پیسے مانگنے سے شرم آتی تھی لیکن پاکستان کے لیے پیسے مانگے، کریمنلز حکومت کے خلاف 20 تاریخ کو اسلام آباد کی کال دوں گا، بدقسمتی سے ہماری حکمران اشرافیہ کرپٹ، نرم مزاج اور غلام ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہم امریکہ کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے۔
علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ ہمارے روس کے ساتھ ہی گیس سے متعلق گفت وشنید پہلے سے چل رہی تھی اور روس کی جانب سے تیل کی قیمت کم طے کرنے کے معاملے پر امریکا ناراض ہو گیا اور جب سازش تیار ہوئی تو میر جعفر اور میر صادق ان سے مل گئے۔
عمران خان نے کہا کہ بھارت نے امریکا کے ساتھ قریبی تعلقات کے باوجود روس سے بات چیت کی اور سستی قیمت پر تیل حاصل کیا لیکن ہمارے روس کے دورے نے مغرب کو ناراض کیا، واشنگٹن نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران ہماری (پاکستان) کی مدد کی کوششوں کو کبھی نہیں سراہا اور اب وہ ہمیں دھمکیاں دے رہے ہیں۔
سابق وزیر اعظم نے بیرون ملک میں مقیم اپنے کارکنوں سے مہم کے لیے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائیں اور اپنے عوامی نمائندوں سے سوال کریں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا موجودہ حکومت سے مہنگائی کی قیمتوں کے بارے میں سوال کیوں نہیں کرتا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ