Wednesday, 22 April, 2026
پالیسیوں میں تسلسل کیلئے میثاق معیشت ناگزیر ہے، شہباز شریف

پالیسیوں میں تسلسل کیلئے میثاق معیشت ناگزیر ہے، شہباز شریف

اسلام آباد - وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام نہیں آسکتا، ماضی میں بھارت نے ہمارے ترقیاتی منصوبوں کی تقلید کی، 90کی دہائی میں پاکستانی روپے کی قدر بھارتی کرنسی سے بہتر تھی، پالیسیوں میں تسلسل کیلئے میثاق معیشت ناگزیر ہے۔ اسلام آباد میں بزنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ تاجروں اور ماہرین کی خدمات قابل ستائش ہیں، حکومت دی گئی اچھی تجاویز پر عمل درآمد یقینی بنائے گی، کانفرنس میں دی جانے والی تجاویز کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

 وزیراعظم نے مزید کہا کہ کانفرنس میں دی جانے والی تجاویز کا خیر مقدم کرتے ہیں، تاجروں اور ماہرین کی خدمات قابل ستائش ہیں، نوے کی دہائی میں پاکستانی روپے کی قدر بھارتی روپے سے بہتر تھی، ماضی میں بھارت نے ہمارے ترقیاتی منصوبوں کی تقلید کی، معاشی اور سیاسی استحکام آپس میں جڑا ہوا ہے، سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں ہے، پاکستان کی 65 فیصد آبادی دیہاتوں پر مشتمل ہے، حکومت کو دی گئی تجاوز پر عملدرآمد کرائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز آئیں، مل کر بیٹھیں، میثاق جمہوریت پر فیصلہ کریں، میثاق معیشت وقت کی اہم ضرورت ہے، زرعی شعبہ ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے، میثاق معیشت کےتحت ایسے اہداف طے کیےجائیں جنہیں تبدیل نہ کیا جاسکے، ہمارے پاس ایک سال 3 ماہ ہیں، ملکی ترقی کیلئے دیہی علاقوں کو ترقی دینا ہوگی، ہم لانگ ٹرم پالیسی نہیں بنا سکتے، 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو سب سے زیادہ حصہ جاتا ہے، گوادر کے شہروں کو پانی نہیں ملتا، وہاں بجلی نہیں ہے۔

شہباز شریف نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تین ملین ٹن گندم اس سال ہم ایکسپورٹ کر رہے ہیں، آج ہمارے پاس تیل اور گیس کیلئے پیسے نہیں ہیں، پاکستان ساڑھے 4 ارب ڈالر کا پام آئل درآمد کر رہا ہے، زرعی شعبہ ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے، صوبوں کے ساتھ مل کر جامع معاشی پلان بنایا جائے گا، بطور قوم باتوں کے بجائے ہمیں عملی طور پر کام کرنا ہوگا، افسر شاہی کا رونا جائز ہے، جنہوں نے کام کیا انہیں نیب کے ذریعے پکڑ کر بند کر دیا، ملک کو دیوالیہ کر دیا گیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  41413
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ایک طرف جہاں پاکستان کی ثالثی سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، وہیں دوسری جانب اسرائیل نے لبنان پر حملوں میں شدید اضافہ کر دیا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فورسز کی وحشیانہ کارروائیوں میں 254 لبنانی شہری شہید ہو گئے ہیں،
امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد خلیجی ممالک سمیت عالمی برادری نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔ عالمی رہنماؤں نے اسے خطے میں امن و استحکام کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے پاکستان کے کلیدی کردار کو تسلیم کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کے بعد بڑے ریلیف پیکج کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعظم نے پٹرولیم لیوی میں 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد پٹرول کی قیمت 458 روپے سے کم ہو کر 378 روپے پر آ گئی ہے۔
پاک افواج نے کابل اور ننگرہار میں افغان طالبان فوجی کی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے جس میں دو مقامات پر ٹیکنیکل سپورٹ انفرااسٹرکچر اور ایمونیشن اسٹوریج کو تباہ کیا گیا۔

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں