![]() |
اسلام آباد - تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن نے اپنی اکثریت ثابت کر دی جس کے بعد عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی۔ جس کے بعد عمران خان اب وزیراعظم نہیں رہے۔
وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ووٹنگ سے قبل سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے مستعفی ہو گئے۔
سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے دھمکی آمیز مراسلہ قومی اسمبلی میں دکھاتے ہوئے کہا کہ دھمکی آمیز مراسلہ میرے پاس ہے جس کو دیکھنا چاہیے تو دیکھ سکتا ہے، دھمکی آمیز مراسلہ میرے پاس ہے کو دیکھنا چاہیے تو دیکھ سکتا ہے، ریاست پاکستان کا تحفظ کرنا میری ذمہ داری ہے، آج شائد آخری اجلاس ہے جس کو میں چیئر کررہا ہوں۔ ہمیں خود مختاری کے لیے کھڑا ہونے ہو گا، میں آئین پاکستان کا حلف پابند ہوں۔
اسد قیصر کی جانب سے مستعفی ہونے کے بعد سپیکر کی سیٹ پینل آف چیئر ایاز صادق نے سنبھالی۔ جنہوں نے سپیکر شپ سنبھالی اور ووٹنگ کروائی۔
ایاز صادق نے اسپیکر کی نشست سنبھالتے ہی قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی جانب سے جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد پر کارروائی جاری رکھنے کا اعلان کیا اور اجلاس کو چار منٹ کے لیے ملتوی کیا، بعد ازاں اجلاس نئے دن کے آغاز پر دوبارہ تلاوتِ کلام پاک سے شروع ہوا۔
بعد ازاں عدم اعتماد کی ووٹنگ پر کارروائی شروع ہوئی، جس پر اراکین نے باری باری ووٹ کاسٹ کیے، تحریک عدم اعتماد کی حمایت میں 174 ووٹ ڈالے گئے، جس کے بعد عمران خان ملک کے وزیراعظم نہیں رہے جبکہ پی ٹی آئی کے منحرف اراکین نے عدم اعتماد کی کارروائی میں ووٹ کاسٹ نہیں کیے۔
انہوں نے ووٹنگ کا عمل شروع کیا اور 12 بج کر دو منٹ تک کے لیے اجلاس ملتوی کردیا۔
قرارداد کے بعد اراکین کی تحریک عدم اعتماد کے حق میں ووٹوں کی گنتی کی گئی۔ ایاز صادق نے اعلان کیا کہ 174 اراکین نے تحریک عدم اعتماد کے حق میں ووٹ دے دیا ہے۔ جس کے بعد عمران خان اب وزیراعظم نہیں رہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ