Wednesday, 22 April, 2026
چیف جسٹس نے عمران خان کو کرپشن میں این آر او دے دیا، شہباز شریف

چیف جسٹس نے عمران خان کو کرپشن میں این آر او دے دیا، شہباز شریف

 اسلام آباد - وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے عمران خان کو کرپشن میں این آر او دے دیا ہے اور اپنے لاڈلے کی کرپشن کا تحفظ کر رہے ہیں۔ وفاقی کابینہ اجلاس سے اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ 60 ارب روپے کی کرپشن کا معاملہ ہے لیکن عدلیہ عمران کے تحفظ کے لیے آہنی دیوار بن گئی ہے۔ اگر ایسا سلوک کرنا ہے تو ملک میں جتنے چور ڈاکو ہیں ان سب کو بھی چھوڑ دیں۔


انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف کا روزانہ ٹرائل ہوتا تھا، کاش عدلیہ نواز شریف کو بھی کہتی آپ کو دیکھ کر اچھا لگا لیکن یہ دہرا معیار ہے جس نے انصاف کا جنازہ نکال دیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ 16 دسمبر اور 1971 کے بعد 9مئی پاکستان کے لیے المناک ترین دن تھا، یہاں ایک سے زیادہ مرتبہ کہا گیا کہ ملک کے حالات سری لنکا جیسے ہوں گے اور یہ منصوبہ 2018 سے شروع ہوچکا تھا، پوری قوم تقسیم در تقسیم ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان فاشست ڈکٹیٹر ہے جو دعا کر رہا ہے کہ ملک ڈیفالٹ کر جائے، جھوٹے کاغذ لہرا کر قوم کو تقسیم کیا گیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ چیف جسٹس عمران خان کی کرپشن کا تحفظ کر رہے ہیں اور چیف جسٹس نے عمران خان کو کرپشن میں این آر او دے دیا۔ حکومت آئین پر سختی سے عمل کرے گی، جو بھی نتائج ہوں سامنا کرے گی۔

قبل ازیں وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں ملکی سیاسی و معاشی صورتحال  پر جائزہ لیا گیا۔ حکومتی قانونی ٹیم بھی وفاقی کابینہ اجلاس میں شریک ہوئی اور عمران خان کی گرفتاری اور سپریم کورٹ کے فیصلے پر تفصیلی بریفنگ دی۔ وفاقی کابینہ نے ای سی سی فیصلوں کی منظوری بھی دے دی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  31908
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ایک طرف جہاں پاکستان کی ثالثی سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، وہیں دوسری جانب اسرائیل نے لبنان پر حملوں میں شدید اضافہ کر دیا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فورسز کی وحشیانہ کارروائیوں میں 254 لبنانی شہری شہید ہو گئے ہیں،
امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد خلیجی ممالک سمیت عالمی برادری نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔ عالمی رہنماؤں نے اسے خطے میں امن و استحکام کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے پاکستان کے کلیدی کردار کو تسلیم کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کے بعد بڑے ریلیف پیکج کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعظم نے پٹرولیم لیوی میں 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد پٹرول کی قیمت 458 روپے سے کم ہو کر 378 روپے پر آ گئی ہے۔
پاک افواج نے کابل اور ننگرہار میں افغان طالبان فوجی کی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے جس میں دو مقامات پر ٹیکنیکل سپورٹ انفرااسٹرکچر اور ایمونیشن اسٹوریج کو تباہ کیا گیا۔

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں