Thursday, 16 April, 2026
پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 12 روپے تین پیسے اضافہ

پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 12 روپے تین پیسے اضافہ

اسلام آباد - حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 12 روپے تین پیسے تک اضافے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا، جس کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 159 روپے 86 پیسے تک پہنچ جائے گی۔ میڈیا کے مطابق وفاقی حکومت نے ایک بار پھر عوام پر پٹرول بم گراتے ہوئے آئندہ پندرہ روز کے لیے پٹرول کی قیمت میں 12 روپے تین پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا۔

وزارت خزانہ کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا، جس کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات بارہ بجے سے ہوگا اور یہ قیمتیں 28 فروری تک لاگو رہیں گی۔

پیٹرول کی قیمت میں12.03روپے فی لیٹر، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 9.53 روپے فی لیٹر، لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 9.43روپے فی لیٹر، مٹی کے تیل کی قیمت میں 10.08روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا۔

حالیہ اضافے کے بعد پٹرول کی قیمت 147.82 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر159.86 روپے فی لیٹر، ہائی اسپیڈ ڈیزل 144.62 روپے فی لیٹرسے بڑھاکر154.15 روپے فی لیٹر جبکہ لائٹ ڈیزل کی قیمت 114.54 روپے فی لیٹرسے بڑھ کر123.97روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا۔ اسی طرح مٹی کے تیل کی قیمت 116.48 روپے فی لیٹرسے بڑھ کر126.56روپے فی لیٹر کردی گئی ہے۔

قبل ازیں وزیراعظم آفس کو آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری موصول ہوئی تھی، جسے وزیراعظم نے نظرثانی کے لیے واپس بھیج دیا تھا۔

ارسال کردہ سمری میں آئی ایم ایف کی شرائط کے عین مطابق پٹرول کی قیمت میں 12 روپے تین پیسے فی لیٹر اضافے کی تجویز دی گئی تھی۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی سمری نظر ثانی کے لیے وزارت خزانہ کو واپس بھیج دی، وزیراعظم کی ہدایت پر وزارت خزانہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر نظرثانی کرکے سمری دوبارہ ارسال کرے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  69931
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والی کمی کا پورا فائدہ عوام تک پہنچانا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ اس کمی کے بعد ڈیزل کی قیمت 520 روپے سے کم ہو کر 385 روپے فی لیٹر ہو جائے گی۔ نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ایک ہفتے کے لیے کر دیا گیا ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری ہو چکا ہے۔
ایک طرف جہاں پاکستان کی ثالثی سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، وہیں دوسری جانب اسرائیل نے لبنان پر حملوں میں شدید اضافہ کر دیا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فورسز کی وحشیانہ کارروائیوں میں 254 لبنانی شہری شہید ہو گئے ہیں،
امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد خلیجی ممالک سمیت عالمی برادری نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔ عالمی رہنماؤں نے اسے خطے میں امن و استحکام کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے پاکستان کے کلیدی کردار کو تسلیم کیا ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت منعقدہ اعلیٰ سطح کے جائزہ اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی کھپت میں کمی لانے کے لیے کفایت شعاری کے ان اقدامات کی منظوری دی گئی۔ اس فیصلے کا اطلاق آج 7 اپریل سے پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان، اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں فوری طور پر ہوگا۔

مقبول ترین
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق اس دستے میں لڑاکا اور معاون طیارے شامل ہیں، جن کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو مضبوط بنانا اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف جنگی تیاریوں کی سطح کو بلند کرنا ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں